GB News

دعوے نہیں عمل کی ضرورت

Share Button

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان سے برطانوی ہائی کمشنر نے ملاقات میں کہا ہے منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی گئی دولت کی وطن واپسی ہمارا عزم ہے برطانیہ اس میں ہمارا ساتھ دے۔برطانوی ہائی کمشنر کاتھامس ڈریو کا اس موقع پر کہنا تھا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد کیے گئے عمران خان کے خطاب نے برطانیہ میں نہایت مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت تحریک انصاف کی حکومت سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔پاکستان سے بیرون ملک منتقل کی گئی دولت کی واپسی کا عزم تمام حکومتیں کرتی رہیں لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا اس لیے اب دعوئوں کی بجائے عمل کی ضرورت ہے’پاکستان سے اربوں روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا جا چکا ہے’سپریم کورٹ نے بھی جعلی بینک اکائونٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی منتقلی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سمٹ بینک ، سندھ بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے سربراہان اور جعلی اکائونٹس سے فائدہ اٹھانے والے دیگر افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہاتھا کہ یہ لوگ انکوائری مکمل ہونے تک بیرون ملک نہیں جاسکتے، یہ کہا گیا تھا کہ جعلی بینک اکائونٹس اور ان سے ہونے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے پاناما طرز پر جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں مالیاتی ماہرین بھی شامل ہوں۔سپریم کورٹ کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری، انکی بہن فریال تالپور، طارق سلطان، ارم عقیل ، محمد اشرف، محمد اقبال آرائیں اور دیگر افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ جبکہ ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر2010 میں انکوائری شروع کی، چاراکائونٹس کی نشاندہی ہوئی، بعدازاں سات افراد کے29 اکائونٹس کا پتہ چلا، جس سے 35ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، سب کو نوٹس جاری کیا اور مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے۔ان اکاونٹس سے پینتیس ارب روپے کی رقوم منتقل کی گئیں۔یہ کہاگیا کہ ایف آئی اے تفتیش کرے کہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اس کا ذریعہ کیا ہے؟ مشکوک ٹرانزیکشن کی تحقیق کریں، پینتیس ارب روپے کے بینی فشریز کون ہیں؟اس کیس میں حسین لوائی اور دیگر کو گرفتار کیا جا چکاہے جن کا تعلق سمٹ بینک سے ہے۔منی لانڈرنگ کے بہت سے طریقے ہیںدبئی میں انتہائی مہنگی جائیدادیں خریدنا بہت سے مجرموں اور ٹیکس چوروں کے لیے منی لانڈرنگ کا بہت آسان طریقہ بن چکا ہے۔دبئی میں قریب سو ملین ڈالر مالیت کی ایسی متعدد مشکوک املاک کاانکشاف ہوا ہے۔دبئی مارینا،جسے مشرق وسطیٰ کا مین ہیٹن بھی کہا جاتا ہے یو اے ای کی اس امارت میں غیر منقولہ املاک کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں، جس کی وجہ خلیج کے علاقے میں اس امارت کا مسلسل ایک بہت پسندیدہ اور کامیاب بین الاقوامی تجارتی مرکز بنتا جانا ہے۔ یو اے ای کی اس ریاست میں، جہاں آسمان سے باتیں کرتی بلند و بالا عمارات کی کوئی کمی نہیں ہے، لگژری اپارٹمنٹس اور بڑے بڑے محل نما گھروں کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں۔ لیکن یہی قیمتیں ان لوگوں کے لیے بہت پرکشش بھی ہیں، جو اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جائیدادیں جنگوں سے منافع کمانے والے، دہشت گردی کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے والے اور منشیات کا کاروبار کرنے والے عناصر سمیت زیادہ تر ایسے افراد نے خریدیں، جو چاہتے تھے کہ ان کے پاس موجود سرمایہ کسی ایسی شکل میں کہیں لگا دیا جائے، جہاں اس کی قدر بھی محفوظ ہو اور بظاہر کسی کو کوئی شبہ بھی نہ ہو۔متحدہ عرب امارات میں اس طرح کے عناصر کی طرف سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور املاک کی خریداری کے عمل میں اضافے کا ایک بڑا نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس امارت میں اس وقت بھی جو بہت زیادہ تعمیراتی کام ہو رہا ہے، اس کا ایک بڑا محرک غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکیوں کی طرف سے مقامی طور پر خریدی جانے والی املاک بھی ہیں۔ دبئی میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کی طرف سے غیر منقولہ املاک میں سرمایہ کاری اس لیے بھی ایک بہت پرکشش عمل ہے کہ وہاں مقامی ضابطوں کی عمومی صورت حال ایسی ہے کہ خریدار اپنی شناخت آسانی سے خفیہ رکھ سکتے ہیں۔ایسی سرمایہ کاری کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے والے افراد دبئی میں، جو متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا شہر بھی ہے، ایسے پرکشش مقامات پر املاک خریدتے ہیں، جہاں دنیا کی بہت سی کروڑ پتی اور ارب پتی شخصیات نے اپنی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ان مقامات میں سمندر میں مصنوعی طور پر بنایا گیا مجموعہ جزائر پام جمیرہ بھی شامل ہے، دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ بھی اور دبئی کے ایسے کئی دیگر انتہائی مہنگے علاقے بھی، جہاں کسی پرتعیش اپارٹمنٹ کی قیمت کئی کئی ملین امریکی ڈالر ہوتی ہے۔دبئی میں انتہائی مہنگی املاک خریدنے والے جن افراد کا نام منظر عام پر آیاان میں خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صدر بشار الاسد کے کزن رامی مخلوف بھی شامل ہیں، جو شام کی امیر ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکا نے رامی مخلوف پر، جو شام کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی ‘سیریاٹیل’ کے مالک بھی ہیں، عرصے سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔دبئی اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں بہت سے پاکستانی شہریوں نے بھی انتہائی بیش قیمت املاک خرید رکھی ہیں۔منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے نیشنل کاؤنٹر ٹیرارزم اتھارٹی نیکٹا اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے دہشت گروں کی مالی معاونت روکنے کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط بھی کئے تھے۔اس کا مقصد تھا کہ دونوں ادارے دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کی روک تھام کیلئے مشترکہ کوششوں کو بروئے کار لائیں گے۔دونوں اداروں نے عہد کیا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کیلئے مل کر کام کریں گے دہشت گردوں کومالی معاونت اور رقم کی غیر قانونی ترسیل کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے گی۔اور منشیات فروشی سے حاصل ہونے والی آمدنی کی ترسیل روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کئے جائیں گے۔ برطانیہ بھی منی لانڈرنگ کا بڑا مقام ہے جہاں پاکستانی سیاستدانوں کا بے بہا پیسہ موجود ہے’حال ہی میںایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کیس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف برطانوی قانونی فرم کی خدمات حاصل کی ہیں۔ تفتیشی افسر نے مقدمے میں ہونے والی ایک اہم پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں بانی ایم کیو ایم کے گرد گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے برطانوی قانونی فرم کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں، برطانوی قانونی فرم نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں تفتیش کنندگان نے پاکستان کا دورہ بھی کیا ہے۔ماضی میں برطانوی قانونی فرم کی خدمات نہ ہونے کے سبب ایم کیو ایم بانی بچ نکلتے رہے ہیں تاہم اب ملزم کے خلاف دیگر ممالک سے بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، اب تک انہتربینک اکاؤنٹس کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔ایم کیو ایم کے ذیلی ادارے خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کے فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا، متحدہ کے ارکان قومی اسمبلی، سینیٹرز اور ڈپٹی میئر کے ذریعے رقم منتقل ہوتی رہی ہیں،بہرحال ہم امید کرتے ہیں کہ نئے وزیراعظم عمران خان برطانیہ سمیت دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کیے گئے پاکستانی پیسے کو واپس لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھیں گے اور قوم کی لوٹی گئی دولت ہر قیمت پر واپس لائیں گے۔

Facebook Comments
Share Button