کراچی:مون سون کے طاقتور سسٹم کے زیر اثر کراچی میں موسلادھار بارش کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا، جس کے سبب مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، دیواریں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔شہر میں دوپہر کے وقت دوبارہ کالی گھٹائیں چھا گئیں جس سے بیشتر علاقوں سرجانی ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، قیوم آباد، گلستان جوہر، ملیر، شارع فیصل، ناظم آباد، نیو کراچی میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی۔موسلادھار بارش کے سبب شہر کی مرکزی سڑکوں کے ساتھ اندرونی گلیوں میں پانی جمع ہوگیا۔ گلشن حدید میں ایک گھنٹے سے موسلادھار بارش سے گلیاں زیر آب آگئیں اور پانی گھروں میں داخل ہوگیا، لوگ اپنا قیمتی سامان محفوظ جگہ ٹھکانے لگانے لگے۔حسن اسکوائر، نیپا چورنگی، ضیاء کالونی، گلشن شمیم، لیاقت آباد 10 نمبر، جیل چورنگی، کارساز، کورنگی اور ایکسپریس وے سمیت متعدد مقامات پر بارش کا پانی جمع ہوگیا، جس کے سبب ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوگئی۔کراچی میں بارش کے باعث دیواریں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ گلستان جوہر بلاک 12 کے قریب گھر کی دیوار گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا، مرنے والوں میں مریم دختر افضل عمر 4 سال، حمزہ ولد افضل عمر 3 سال، سمیعہ زوجہ مبین عمر 24 سال شامل ہیں۔ ایک 28 سالہ جاں بحق شخص جبکہ ایک 10 سالہ زخمی بچے کی شناخت نہیں ہوسکی۔اورنگی ٹاؤن سیکٹر 11.5 خلیل مارکیٹ اقصیٰ مسجد کے قریب گھر کی دیوار گرنے سے 8 سالہ بچہ عبداللہ ولد عباس جاں بحق ہوگیا جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی اسپتال منتقل کیا گیا۔شہر کے مختلف علاقوں میں 600 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی۔ بارش کے بعد کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام تاحال غیر مستحکم ہے۔بلدیہ میں 68، بن قاسم میں 52، ڈیفنس میں 50، گلشن اقبال میں 46، گلستان جوہر میں 62، کورنگی میں 59، اورنگی میں 82، سوسائٹی میں 68، سرجانی میں 57، لیاقت آباد، ناظم آباد اور اوتھل بلوچستان میں 17 فیڈرز اور پی ایم ٹی ٹرپ کر گئے۔فیڈرز کی بحالی کا کام شروع نہ ہو سکا، کے الیکٹرک کی ٹیکنیکل ٹیموں کو گراوٴنڈ کلیئرنس نہ ملنے پر بحالی میں تاخیر ہو رہی۔ مختلف علاقوں میں انڈر گراونڈ کیبل فالٹس اور سب اسٹیشن میں پانی بھرنے سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کا شکار ہے۔نیو کراچی، نارتھ کراچی، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، گلشن اقبال، گلستان جوہر، پی آئی بی کالونی، جمشید روڈ، اولڈ سٹی ایریا، محمود آباد، کورنگی، لانڈھی اور شاہ فیصل سمیت متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔سندھ سیکریٹریٹ کی بیرک نمبر 84 کی چھت بارش کے باعث گر گئی تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ بیرک 84 میں رورل ڈویلپمنٹ کا دفتر موجود ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارشوں کے دوران متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے شدید بارشوں کے پیش نظر ریسکیو اور انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ بارش کے پانی کے فوری اخراج کے لیے مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے، شدید بارشوں کے دوران عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اربن فلڈ سے بچاؤ کے لیے نالوں اور ڈرینج سسٹم کی سخت نگرانی کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی ادارے کوآرڈینیشن میں رہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ٹریفک پولیس کو نشیبی اور مصروف مقامات پر الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔انہوں نے ہدایت کہ بارش کے دوران ٹریفک پولیس عوام کی بھرپور رہنمائی کرے، بجلی کے کھمبوں اور کمزور انفرا اسٹرکچر سے دور رہیں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں آئندہ تین روز طوفانی بارش کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر علاقوں میں طاقتور مون سون ہوائیں اثر انداز ہو رہی ہیں جس کے تحت منگل سے جمعرات کے درمیان کراچی میں وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر درمیانی اور کہیں کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
موسلادھار بارش اور حکومتی لاپرواہی سے کراچی ڈوب گیا، 5افراد جاں بحق
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
