پنجاب،ہرطرف تباہی، سندھ، بلوچستان میں بھی خطرات منڈلانے لگے

دریائے راوی، ستلج اور چناب میں غیرمعمولی سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب میں ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی ہے ،منگل اور بدھ کی شب دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی سیلابی صورتحال کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔سیلابی ریلے قصور، جھنگ وہاڑی میں داخل ہونے پر فصلیں تباہ ہوگئیں ، متاثرین کی تعداد 15لاکھ سے تجاوز کرگئی جبکہ ملتان شہر کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔پی ڈی ایم اے نے بھارت کی طرف سے مزید پانی چھوڑنے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں آنے والے سیلاب سے متعلق تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق اب تک پانی میں ڈوبنے سے 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیںجبکہ صوبے کے2ہزار308دیہات اور15لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں 3 ستمبر تک شدید درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق شمالی مدھیہ پردیش پر موجود مون سون سسٹم کے اثرات کے باعث 2 سے 3 ستمبر کے دوران دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے بالائی علاقوں میں موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سطح کا سیلاب برقرار رہیگا جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ تریموں کے مقام پر اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی خطرناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر بھی 3 ستمبر کو بلند سطح کا سیلاب آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دریائے چناب کے مختلف مقامات پر پانی کی آمد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ قادرآباد اور خانکی کے مقام پر پانی کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور24گھنٹوں میں 3 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔چنیوٹ برج پر پانی کی آمد 6 لاکھ 14 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جسے ماہرین نے انتہائی بلند سیلابی صورتحال قرار دیا ہے۔دریائے جہلم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ منگلا کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔دریائے راوی پر پانی کی سطح تشویشناک ہو گئی ہے۔ شاہدرہ، بلوکی اور جسر کے مقامات پر پانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جن میں شاہدرہ کی صورتحال کو حکام نے انتہائی بلند قرار دیا ہے۔اسی طرح دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقامات پر پانی کا بہا بلند ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر صورتحال کو انتہائی بلند درجے میں شامل کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور اور بہاولپور ڈویژن سمیت بالائی اور وسطی پنجاب میں بادل برسانے کی پیش گوئی ہے جس سے دریائوں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوگا۔ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق اب تک سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ 16 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 4 لاکھ 81 ہزار افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ طبی امداد کے لیے 351 میڈیکل کیمپس اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے 321 ویٹرنری کیمپس بھی فعال ہیں۔ اب تک 4 لاکھ 5 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ریلیف کمشنر کے مطابق دریائے چناب مرالہ پر پانی کا بہا 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، خانکی ہیڈ ورکس پر 1 لاکھ 70 ہزار، قادر آباد پر 1 لاکھ 71 ہزار اور ہیڈ تریموں پر 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جو بتدریج بڑھ رہا ہے۔دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بہا 78 ہزار کیوسک ہے، شاہدرہ پر 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک (جہاں کمی دیکھی جارہی ہے)، جب کہ بلوکی پر بہا 1 لاکھ 99 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ہیڈ سدھنائی پر آمد 32 ہزار اور اخراج 18 ہزار کیوسک ہے۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہا 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ سلیمانکی پر یہ بہا 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔ریلیف کمشنر کے مطابق منگلا ڈیم 80 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکاہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 84 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر گئے ہیں۔ تریموں کے مقام پر اتوار کی صبح تقریبا 8 لاکھ 30 ہزار کیوسک پانی گزرنے کا امکان ہے ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ ہیڈ محمد والا پر ریلا تقریبا ساڑھے7 سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے، شاید ہمیں ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کی نوبت آئے، ہیڈ محمد والا سے پانی شیرشاہ برج تک جائیگا، شیر شاہ پل کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، علی پور کے مقام پر ہیڈ پنجند پر 8 لاکھ کا ریلا چار ستمبر کو پہنچے گا، مظفر گڑھ کے مقام پر4 ستمبر کو تقریبا 9 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا پہنچنے کا امکان ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے بعد پانی قصور کی طرف بڑھا اور دریائے ستلج میں 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا ریلا آیا ہے۔ بھارت سے آئندہ چند روز میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ موجود ہے، وفاقی حکومت کی کوشش تھی لیکن بھارت کے ساتھ انفارمیشن شیئر کرنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے ، جھنگ شہر کو بچانے کے لئے بند کو توڑا گیا جس سے شہری آبادی کو بڑے نقصان سے بچایا گیا ۔ دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد بہاولپور کے نشیبی علاقوں میں انخلا جاری ہے۔مقامی حکام کے مطابق بستی پھلاں، موزہ کرنانی، عباس نگر اور پتن سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔قصور میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر شدید سیلاب کے باعث متعدد سرحدی دیہات خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔انتظامیہ نے مان، تاتڑا، بھیڑ سوڈیاں، رسول نگر، فتوہی والا اور بزی د پور سمیت کئی دیہات کے باسیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔مشرقی دریائوں میں پانی کی بلند سطح کے باعث وسطی پنجاب میں سیلاب پھیلنے کے بعد ملتان میں بڑا ریلا داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ 3 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر رہے ہیں۔ متاثرین نے انتظامیہ سے شکوہ کیا کہ کشتیاں کم ہیں اور مویشیوں کی منتقلی کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں۔جلال پور پیر والا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔ راجن پور اور بہاولپور میں بھی نشیبی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔دریائے چناب کے ریلے سے وزیر آباد اور حافظ آباد متاثر ہیں اور 40 دیہات ابھی بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا اخراج 3 لاکھ 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ ہیڈ اسلام پر آمد 63 ہزار 263 اور اخراج 62 ہزار کیوسک ہے، جب کہ ہیڈ سلیمانکی پر آمد و اخراج 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ادھر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیلاب کا پانی پنجاب سے سندھ میں 2 یا 3 ستمبر کی رات داخل ہونے کی توقع ہے۔ تمام محکمے، بشمول پی ڈی ایم اے، سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار اور الرٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیلاب سے تقریبا 16 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں ایک ہزار 657 دیہات، 167 یونین کونسلیں اور 2 لاکھ 73 ہزار خاندان شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں سیلاب سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے لوگ رابطہ کر سکتے ہیں، جو 24/7 فعال رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کے پاس 192 ریسکیو کشتیاں، 565 پرائیویٹ کشتیاں اور 36 موبائل ہیلتھ یونٹس موجود ہیں۔ دوسری جانب سندھ کے چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے صوبائی فلڈ کنٹرول روم کا دورہ کیا، جہاں انہیں حکام نے صورتحال پر بریفنگ دی۔چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ سیلابی ریلہ 3 ستمبر کو گڈو بیراج کے مقام سے گزرے گا۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پی ڈی ایم اے نے 9 ہزار 950 فرسٹ ایڈ کٹس اور 68 ہسپتالوں کے خیمے تیار کرلئے ہیں۔ادھر بلوچستان حکومت نے دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر نصیر آباد میں کیمپ آفس قائم کردیا۔میڈیا سے گفتگو میں وزیر آبپاشی بلوچستان صادق عمرانی نے کہا کہ2ستمبر کو سیلاب دریائے سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے جس سے جعفرآباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں،صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے،ممکنہ سیلاب کے پیش نظر کیمپ آفس نصیرآباد میں قائم کرلیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں