Image

آئیں اپنے ملک کو سنواریں

سیف علی عدیل

کیا کوئی حکمران اپنے خدا کے حضور پیش نہیں ہوگا جبکہ معمولی سے عمل کا بھی حساب ہو گا تو ظلم کرنے والے کیسے بچ سکتے ہیں ملکی ذرائع پیداوار کے بد ترین سلوک کرنے والے قومی مجرم ہیں اگر آج بھی نہ سوچا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی زندہ رہنا چاہتے ہو تو تعلیم کو عام کریں ،تحقیقی کاموں میں تیزی لائیں دنیا کو حیران کرنے کا وقت آچکا ہے آئیں میں اور آپ مل اپنے ملک کو سنواریں۔دل پر جتنا بھی بوجھ ہو مہنگائی کا جتنا بھی خوف مگر جینے کی امید نہیں چھوٹ سکتی ہے ملک میں ابتلائیں ہماری نا اہلی کا رونا روتی رہیں اور ہم کبھی اپنی سیاہ کاریوں پر روتے ہیں تو کبھی ملکی حالات پر ہمارے پاس سوائے رونا کے اور کچھ کرنے کو بچا ہی نہیں اپنی ذات کی ذمہ داری کو سمجھنے کی بجائے ہمیشہ دوسروں پر الزام اور ان کی تحقیر میں خوش رہتے ہیں دنیا کے ساتھ چلنا سیکھا ہی نہیں پیٹرول مافیا اور اس پیدا ہونے والی مہنگائی سے 20 سال پہلے جان چھڑوا لینی چاہیے تھی مگر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کیوں یہ ایک دلربا کاروبار ہے اس کے پیچھے انٹرنیشنل مافیا ہے ایسی باتیں کر کے ہم خود کو تسلی تو دے سکتے ہیں مگر کسی مافیا نے ہماری سوچ کو مصلوب تو نہیں کیا ایسا ہے تو ہم پھر بر باد ہو چکے ہیں وسائل ہونے کے بعد بھی دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار شرم سے ڈوب مر جانے کا حوصلہ بھی نہیں میسر جدید ترین سائنسی علوم کے ہونے کے باوجود ان سے افادہ حاصل نہ کرنا اور تحقیقی عمل کو ٹھپ کر دینا ملکی دشمنی ہے اسلحے کے تجروں کے علاوہ یہاں اور کوئی تجربہ کیوں نہیں ہوتا کھربوں روپے ہر سال سبسٹدیوں کی آر میں کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اس میں سبسٹدی پر دی جانے والی رقوم کو ملکی ترقی کےلئے کیوں نہیں استعمال کیا جاتا عوام کو ریلیف دینے کے چکر میں اپنی جیبیں بھر لی جاتی ہیں اور غریب عوام بلکتے رہتے ہیں بیروز گاری شام و سحر بین کرتی دکھائی دیتی ہے پیٹرولیم مصنوعات سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے مگر مجال ہے اس بارے کبھی ہم نے سوچا ہو کہ پیٹرولیم کی قلت پر قابو پانے کےلئے اس کی کھپت پر قابو پایا بجلی کی قلت پر قابو پانے کےلئے معاون سسٹم لوڈ کیا جائے ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک انجیئر موجود ہے مگر کیا کہ وہ الیکٹریکل ،مکنیکل کاموں کے بجائے شاپس پر کام کرنے پر مجبور ہیں تاریخ گواہ ہے ملک کو ہمارے آنکھوں کے سامنے اپاہج کیا گیا ہے بجائے ترقی کے ہم رو بہ زوال ہیں تہذیب مرچکی ہے لوگوں کے اندر نیکی کا جذبہ مٹ چکا ہے ذاتی نظریات کی آزادی حقیقی نظریات کا قتل کر دیا ہے لوگ ایک دوسر ے سے دور ہو رہے ہیں حسد ، فسق کینہ بغض عام ہو چکا ہے برداشت نام کی چیز نایا ب ہو چکی ہے آخر میں اپنی نسلوں کے دولت تو جمع کر رہے ہیں مگر اپنی آخرت کا سامان جمع کرنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں جانے کب کس کی زندگی ختم ہو جائے قیامت سے پہلے لوگوں کی قیامت اٹھا رکھی ہے۔ قیامت کا وقت کو صرف اللہ جانتا ہے مگر کچھ لوگوں کے اس بھی کاروبار بنا کر لوگوں کی اندر جینے کی امید کو ختم کر دیا ہے ایسی چیزوں سے جان چھڑوا کر ہمیں ترقی کی منازل پے کرنا ہوں گا ہمیں جینے کےلئے زندگی کی دروازے تلاش کرنے ہوں گے ملکی سربراہان کو اولین ترجیحات میں ذرائع پیدوار پر غور کرنا ہوگا۔آخر کب مالی امداد اورائی ایم ایف جیسے اداروں سے بھیک مانگ کر قوم کو لاغر اور زندہ لاشیں بنانے کا کاروبار چلتا رہے ہے ۔۔۔جو بھی حکمران آئے ملکی ذرائع کو بیچتے اور کھاتے رہے کچھ عرصہ گزار اپنے کاروبار چمکائے اور چل دئے پھر کوئی اور آ گیا کب سے یہ سلسلہ چل رہا ہے اور غریب عوام مسلسل نا انصافیوں کا شکار ہے کوئی آواز سننے والا نہیں ہے ذرائع پیدا وار پر ملکی اشرافیہ کا قبضہ ہے کہیں سرمایہ داروں کا قبضہ ہے تو کہیں جاگیرداروں کا ظلم ہے کیا کسی کو اپنی موت کا انجام یاد نہیں کیا کوئی حکمران اپنے خدا کے حضور پیش نہیں ہوگا جبکہ معمولی سے عمل کا بھی حساب ہو گا تو ظلم کرنے والے کیسے بچ سکتے ہیں ملکی ذرائع پیداوار کے بدترین سلوک کرنے والے قومی مجرم ہیں اگر آج بھی نہ سوچا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کریگی زندہ رہنا چاہتے ہو تو تعلیم کو عام کریں ،تحقیقی کاموں میں تیزی لائیں دنیا کو حیران کرنے کا وقت اچکا ہے آئیں میں اور آپ مل اپنے ملک کو سنواریں۔