Image

چٹورکھنڈزیادتی قتل کیس میں ملوث ملزم گرفتار

غذر پولیس نے اشکومن کوچدہ میں 12 سالہ بچی کی زیادتی کے بعد قتل کرنے میں ملوث ملزم کو 48 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیا 23 سالہ ملزم نذیر احمد ولد عبدالکریم مقتولہ بچی کا رشتہ دار اور پیشے کے لحاظ سے ٹریکٹر ڈرائیور ہے ملزم نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ایس ایس پی غذر عبدالمجید نے اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوچدہ میں 12 سالہ بچی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ غذر پولیس کے لئے چیلنج بن چکا تھا تاہم پولیس کو انتہائی کم وقت میں کامیابی ملی جس کا سہرا ہمارے آفیسران اور جوانوں کے سر جاتا ہے انہوں نے ایس ایچ او  شیلی خان اور ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی انویسٹیگیشن کے لئے قائم کمیٹی کا میں خود سربراہ تھا اس کیس کو حل کرنے میں ڈی آئی جی رینج گلگت میاں محمد سعید سمیت تمام پولیس آفیسران کا اہم کردار رہا انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ اس نے معصوم بچی کو گھر کے اندر اکیلی پاکر اوپن باتھ روم میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور ثبوت مٹانے کے لئے گلے میں پھندا لگاکر قتل کردیا اورواقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی انہوں نے مزید کہا کہ سول ہسپتال چٹورکھنڈ کے ایم او نے ابتدائی پوسٹمارٹم کے دوران انکشاف کیا کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا ہے جس کے بعد پولیس متحرک ہوگئی اور 12 سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی جن افراد سے تفتیش کی گئی ان میں گرفتار ملزم بھی شامل تھا ہمیں پہلے دن سے شک ہوا تھا کہ ملزم اس کیس میں ملوث ہے انہوں نے مزید کہا کہ جس روز بچی کو قتل کیا گیا اس روز ملزم قریب ہی ہل جوت رہا تھا اس بنیاد پر ہم نے ملزم کو پکڑا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ایس ایس پی غذر نے مزید کہا کہ ملزم کی فرانزک لیبارٹری سے ڈی این اے رپورٹ ملنے کے بعد کیس مزیدمضبوط ہوجائے گا تاہم ملزم کو قرار واقعی سزا دلانے کیلئے ہمارے پاس ڈی این اے رپورٹ کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے