Image

قاتلانہ حملہ کرنے والا ملزم

عقیل احمد خان لودھی

حملہ آور نوید احمد ولد محمد بشیر احمد محلہ مسلم آباد مسجد رضا والی سوہدرہ کا رہائشی ہے جو ایک ایسے مکان میں رہتا ہے جو قریب چار مرلہ رقبہ پر محیط ہے اور باپ کی وراثت سے اس کے حصہ میں آیا ہے۔ نوید احمد کے والد کو فوت ہوئے قریب پندرہ برس گزر چکے ہیں۔ ملزم کے ساتھ اس مکان میں اس کی بیوہ والدہ سلیماں بی بی، اہلیہ دو بچوں کے ہمراہ مقیم ہیں جن میں بڑے بچے کی عمر ڈیڑھ سے دو برس کے درمیان جبکہ چھوٹا بیٹا محض آٹھ سے دس دن کا ہے جس کی دو روز قبل ہی جھنڈ اتروائی گئی ہے۔ جمعرات کا روز ہے نماز عصر کے بعد کا وقت ہے اور عمران خان کا لانگ مارچ جو لبرٹی چوک لاہور سے حقیقی آزادی مارچ کے نام سے شروع ہو کر ساتویں روز وزیرآباد پہنچا تو مولانا ظفر علی خاں چوک میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے قائد تحریک انصاف عمران خان اور جلوس میں شامل افراد کا شاندار استقبال کیا۔ کنٹینر پر ساتھیوں کے ہمراہ موجود تحریک انصاف کے قائد عمران خان استقبال کرنے والوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں اور ہاتھ ہلا کر سبھی چاہنے والوں کے سلام کا جواب دے رہے ہیں۔ پرویز الہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سامنے انصاف لائیرز فورم کے زیر انتظام لگائے گئے اسٹیج پر کھڑے اور نیچے کھڑے سینکڑوں وکلا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مخاطب ہوتے ہیں کہ آپ میری آرمی ہیں مجھے آپ کی اسلام آباد میں ضرورت پڑے گی۔ وکلا جن کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے میں شامل سنیئر نائب صدر آئی ایل ایف احمد فراز خان لودھی ایڈووکیٹ مائیک سنبھالے نعرے بازی کرتے اپنے اور ساتھیوں کی پاکستان تحریک انصاف سے وابستگی و محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ قائد تحریک انصاف عمران خان اور ان کا قافلہ دس سے پندرہ منٹ اس مقام پر رکنے کے بعد دھیرے دھیرے اگلے سٹاپ کی جانب بڑھتا ہے اس دوران رستے میں جگہ جگہ مارچ کے شرکا کا والہانہ استقبال ہوتا ہے۔ ہر عمر کے مردوخواتین کے علاوہ بچوں کی بڑی تعداد عمران خان سے اپنی محبت کا اظہار کررہی ہے مولانا ظفر علی خان چوک سے قریب ساڑھے تین کلو میٹر کے فاصلے پر اگلا سٹاپ اللہ والا چوک ہے جہاں پولیس، سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد سیکیورٹی امور کی غرض سے ڈیوٹی پر مامور ہے۔ عمران خان کا کنٹینر یہاں رکتا ہے کنٹینر سے اللہ ہو اللہ ہو کی آوازیں آرہی ہیں۔ اس کنٹینر پر سینیٹر فیصل جاوید، محمد احمد چٹھہ، مستنصر محمود ساہی، علی زیدی، یاسمین راشد اور دیگر قیادت کے علاوہ میڈیا سے وابستہ مختلف نمائندے، سیکیورٹی گارڈز بھی موجود ہیں۔ عمران خان اس جگہ عوام سے خطاب کرتے ہیں انہیں آزادی مارچ کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہیں کہ اسی دوران فائرنگ کی آوازوں سے ہجوم میں بھگڈر مچ جاتی ہے سامنے کنٹینر پر عمران خان سمیت موجود دیگر قائدین فرنٹ سے پیچھے کی طرف ہٹتے ہیں جو فائرنگ سے زخمی بھی ہوتے ہیں اسی اثنا میں نیچے ہجوم میں موجود ایک خودکار ہتھیار سے مسلح حملہ آور کو جس نے عام سی جیکٹ بھی پہن رکھی ہوتی ہے کو ہجوم میں شامل تحریک انصاف سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے حافظ قرآن نوجوان ابتسام حسن جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پکڑ لیتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے بیشتر اہلکاروں، افسروں سمیت مارچ میں شامل افراد جان بچانے کیلئے دوڑیں لگاتے ہیں جو آن ہی آن میں ہونے والی فائرنگ سے ملزم کو پکڑنے کی کوشش کرنے والے ایک دوسرے شہری معظم کو ہجوم میں گولی لگ جاتی ہے جو موقع پر ہی جاں بحق ہو جاتا ہے۔ اس واقعہ میں سب سے زیادہ افسردہ کردینے والا یہ واقعہ ہے کہ جاں بحق ہو جانے والے شخص کے تین معصوم بیٹے جن کی عمریں تین سے چھ سات سال کے درمیان ہیں اپنے غروب ہوتے سایہ پدری کے نیچے بے خوف کھڑے اپنے بابا کو پکار رہے ہیں۔ بابا آپ اٹھیں۔۔۔ بابا آپ اٹھیں، بابا آپ اٹھ کیوں نہیں رہے۔ 10 سے پندرہ منٹ تک ان بچوں کے سر پر دست شفقت رکھنے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا جو ان معصوم بچوں کو بتائے کہ بابا کو اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔ ان بچوں کو تو کسی مولانا کے علمی تدبر کا پتہ ہے، انہیں کسی کی شرافت سے کچھ غرض نہیں انہیں نہیں معلوم سندھ میں کوئی بھٹو زندہ بھی ہے کہ نہیں۔ ان بچوں سے ان کا باپ چھین لیا گیا ہے ان کی میرے نزدیک کل کائنات چھین لی گئی ہے یہ تو اپنے باپ کے محبوب لیڈر کو دیکھنے آئے تھے۔ انہیں ابھی کسی کی کپتانی سے بھی کچھ غرض نہیں۔ ان بچوں کو سبق کون پڑھائے گا کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی یہ دشمن کے نہیں ہمارے اپنے بچے ہیں۔تصویر کے ایک رخ میں کم سن بیٹے ہیں تو تصویر کے دوسرے رخ میں بیٹے کیلئے پدری شفقت ملاحظہ ہو۔ زخمیوں میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی حامد ناصر چٹھہ کے فرزند محمد احمد چٹھہ شامل ہیں جو این اے 79 سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ہیں گو انہیں گزشتہ جنرل و ضمنی انتخابات میں صوبائی و قومی اسمبلی کی سیٹوں سے کامیابی نہ مل سکی مگر 2007 سے انہیں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھیوں میں پایا ہے جس کا قیادت کی طرف سے اعتراف انہیں مشیر بنا کر کیا جاتا رہا ہے۔ محمد احمد چٹھہ دیگر قائدین کی طرح زخمی ہیں ان کی ٹانگ پر فائر لگنے کی رپورٹس ہیں۔ باپ کو پتہ چلتا ہے تو بوڑھا باپ ہسپتال میں اپنے بیٹے کی خیریت دریافت کرنے پہنچتا ہے باپ کی کمزور ناتواں ٹانگیں ساتھ نہیں دے رہی ہوتیں آنکھیں نم ہیں، انہیں ساتھ آئے ہوئے لوگ اور ہسپتال سے مل جانے والے لوگ دلاسے دے رہے اور بیٹے کی خیریت کیلئے دعائیں کررہے ہیں۔ باپ بیٹے کی حالت دیکھنے کے بعد اس یقین کیساتھ واپس آتا ہے کہ الحمد اللہ بچانے والی ذات نے اس کے بیٹے کی جان بچالی ہے زخمی کی حالت خطرے سے باہر ہے اس کے باوجود الفاظ باپ کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہے‘بے گناہوں کو مارا گیا ہے۔ بے گناہوں کو مارا جارہا ہے۔ میرا بیٹا بے گناہ ہے۔ ملزم نوید احمد کے روزگار کی بابت دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ وہ بیرون ملک سعودی عرب میں لگ چار پانچ سال کاروبار کرتا رہا جو قریب ڈیڑھ سال سے وطن واپس آکر ان دنوں مستقل کسی روزگار سے وابستہ نہ تھا محض اپنے والد مرحوم کے پیشہ بورنگ، پائپ فٹنگ سے منسلک بڑے بھائی کیساتھ ملکر کبھی کبھار بورنگ کے کام پر چلا جاتا ورنہ زیادہ تر فارغ ہی رہتا ملزم سمیت چار بھائی حیات ہیں اور تین بہنیں ہیں جو تمام شادی شدہ ہیں۔ تمام دیگر بھائی اور ان کی فیملیز اسی محلہ میں الگ مکانات میں رہائش پذیر ہیں۔ واقعہ کے بعد پولیس اور فورسز فوری طور پر محلے میں ریڈ کرتی ہیں ملزم کے اہل خانہ اور دیگر بہن بھائیوں کو پکڑ کر لیجاتے ہیں۔ ملزم نوید احمد جو موقع سے پکڑا جاتا ہے کی چند ہی منٹوں بعد ویڈیو ریلیز ہو جاتی ہے جس میں ملزم کی طرف سے معاملے کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے بعد دوسرے تیسرے مرحلے میں ملزم کی نئی ویڈیوز جاری ہوتی ہیں جو بسم اللہ سے شروع ہوتی ہیں اور یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس نے جذباتی ہو کر انفرادی حیثیت میں یہ کام اٹھایا ہے، بیشتر اہل محلہ بھی ملزم، فیملی کو مجموعی طور پر شرافت کا علمبردار ٹھہراتے ہیں مگر ملزم کے پاس جدید خود کار مہنگے ہتھیار کی دستیابی کیسے ہوتی ہے، ایک بے روزگار شخص کے پاس قیمتی ہتھیار، ملک کی معروف شخصیت پر حملے کی طاقت کہاں سے آتی ہے اور پھر ایسے ملزم کے ویڈیو بیانات کی فوری ترسیل یہ اقدام بہت سے سوالیہ نشانات چھوڑ رہے ہیں۔ قاتلانہ حملہ کے اہم ترین ملزم جو زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں کا عمران خان سے مبینہ مذہبی جذبات پر نفرت کا معاملہ سمجھنا والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ قوم کی اکثریت جو تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اسے امت مسلمہ کا لیڈر مان رہی ہے۔ اور ملزم کے حملہ کرتے ہی حاضر دماغی کا مظاہرہ کرکے پل بھر میں ملزم پر جھپٹنے والا نوجوان ابتسام حسن حافظ قرآن ہے جس کے سینے میں قلب و اذہان کو نور سے بھر دینے والا اللہ کا کلام ہے وہ عمران خان سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اپنی جان سے زیادہ عمران خان اور اس کے مشن کی پرواہ کرتا ہے۔ عمران خان پر حملے میں کون ملوث ہے؟ قاتلوں کے مقاصد کیا ہیں۔ مارنے والے کتنے تھے؟ عمران خان کے کنٹینر پر کس کس طرف سے فائرنگ ہوئی کون کس کی گولی کا شکار ہوا ان تمام معاملات کی تحقیقات متعلقہ اداروں کا کام ہے مگر قوم اس وقت اس مرکزی ملزم نوید کی صحت و عافیت کی دعا کرے جو ابتسام نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا اور جس کے بیانات سرکاری اتھارٹیز کی طرح ریلیز ہونا شروع ہیں۔ قوم کو یہ خدشات ہیں کہ ملکی حالات کے مطابق آئندہ آنے والی رپورٹس کچھ یوں نہ ہوں ملزم پراسرار طور پر حوالات میں مردہ پایا گیا۔ ملزم کی اچانک طبیعت بگڑ گئی دل کا دورہ پڑا ہسپتال لیجاتے ہوئے جانبر نہ ہوسکا۔عدالت میں لے جاتے ہوئے ملزم کے ساتھیوں کا پولیس پارٹی پر حملہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ حملہ کرنے والوں کی تلاش جاری ہے۔