حفیظ کے بنی گالہ، جنرل فیض سے رابطے تھے، انجینئر انور،جعفر اللہ کا انکشاف

گلگت: صوبائی وزیر زراعت انجینئر محمد
انور اور مسلم لیگ ن کے رہنما جعفراللہ خان نے کہا ہے کہ خود ساختہ صوبائی
صدر حافظ حفیظ الرحمن پارٹی کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ اگر وہ پارٹی کے ساتھ
مخلص ہوتے تو ذبیح اللہ کے ذریعے جنرل فیض سے ملاقات نہ کرتے۔ڈیلی کے ٹو کے
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر انور نے انکشاف کیا کہ حافظ حفیظ
الرحمن نے موجودہ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی ذبیح اللہ کے ذریعے بنی گالہ
میں 26 مئی کو جنرل (ر)فیض سے ملاقات کی۔اس بات کی تصدیق خود حفیظ الرحمن
اور ذبیح اللہ نے میرے سامنے کی ہے۔ وہ بتائیںکہ انھوں نے کس مقصد کے لئے
جنرل فیض سے ملاقات کی حالانکہ جنرل فیض نے ہماری پارٹی کو تباہ کرنے کے
ساتھ ہمارے قائدین پر مقدمے بنائے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی اہم
شخصیات حفیظ الرحمن کی وجہ سے ن لیگ میںشامل نہیں ہورہی ہیں۔ جس دن یہ
صدرات سے الگ ہوں گے اس دن ن لیگ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی جماعت بنے گی۔
انہوں نے کہ اپنے دور اقتدار میں حفیظ الرحمن نے اربوں کی سکیمیں اور عہدے
اپنے حلقے میں تقسیم کئے اس کے باوجود وہ الیکشن میں تیسرے نمبر پر
رہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے 24 حلقوں میں ن لیگ نے 47 ہزار ووٹ
حاصل کئے جبکہ پیپلز پارٹی نے صرف گلگت ڈویژن کی 9 سیٹوں پر 47 ہزار ووٹ
لئے۔ پارٹی قائدین نے کا فیصلہ ہے جس کی کارکردگی صفر ہوگی وہ پارٹی سے
فارغ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کسی اچھے بندے کا
جلد سے جلد پارٹی صدارت کا نوٹیفکیشن کیا جائے۔ انجنئیر انور نے مزید
انکشاف کیا کہ حفیظ الرحمن نے ان کو اور غلام محمد کو گلگت بلتستان ہاﺅس
میں چھوڑ کر اکیلے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور ہم سے جھوٹ بولا
کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کسی کو ساتھ نہیں لانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ
پارٹی الیکشن کے لئے فنڈز دیتی ہے ہمیں بتایا جائے کہ حفیظ نے کس امیدوار
کو کتنے پیسے دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے 4 مرلہ کے گھر سے بنگلے کے
مالک بن گئے۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان
نے کہا کہ حفیظ الرحمن کے پاس پارٹی صدارت کا کوئی نوٹیفیکیشن نہیں ہے۔ اگر
اس کے پاس کوئی نوٹیفیکیشن ہے تو وہ ثابت کریں۔ انہوں نے کہا جب ان کے بڑے
بھائی شہید ہوئے اس وقت یہ جمعیت علمائے اسلام میں تھے ہم نے ان کو پارٹی
میں شامل کروایا۔ اس وقت بھی میں نے اپنے پرانے ٹکٹ پر ان کا نام لکھ کر
الیکشن کے میدان میں اتارا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2015
کے الیکشن میں حفیظ الرحمن نے مجھے ہرانے کی بھرپور کوشش کی اور 2020 کے
انتخابات میں مجھے ٹکٹ نہیں دینا چاہتے تھے۔ مجھے کہا کہ آپ کا حلقہ مذہبی
حلقہ ہے آپ قاضی سے فون کروادیں میں ٹکٹ دے دوں گا ۔حفیظ الرحمن چاہتے ہیں
کہ پارٹی بنانے والے پرانے رہنماﺅں کو پارٹی سے نکال کر بوٹ پالش کرنے والے
نومولود چہروں کو سامنے لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حافظ حفیظ الرحمن کو میرے
سامنے بٹھایا جائے اگر میں نے ان کی ایک ایک بات کو جھوٹ ثابت نہیں کیا تو
میں سیاست چھوڑ دونگا۔انہوں نے مزید کہا کہ حفیظ الرحمن بادشاہ بن کر
فرمان جاری کرنا چاہتے ہیں ۔ سیاسی جماعت میں ایسا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے
کہا کہ مریم نواز کے سامنے جگ ہنسائی حفیظ الرحمن کی ہوئی اگر میری ہوتی تو
پارٹی چھوڑ دیتا۔ انہوں نے کہا کہ 1985 میں جب نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ
پنجاب گلگت تشریف لائے تھے اس وقت ہم 12 افراد نے اس پارٹی کی بنیاد رکھی
تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں