گلگت(پ ر)عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے وائس چیئرمین اکرام
الدین حیدر اور مرکزی جنرل سیکریٹری فیضان میر نے دس دن سے جاری نیٹکو
ملازمین کے دھرنے میں شرکت کی۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے فیضان میر نے کہا
ہم ایک ایسے دور میں اور ایسے علاقے میں جی رہے ہیں کہ اپنے بنیادی حقوق لڑ
کر حاصل کرنا ہے کیونکہ کوئی نظام یہاں موجود نہیں جس کی لاٹھی اس کی
بھینس کے مصداق ہے اس دھرنے میں تو وہ لوگ ہونے چاہیے تھے جن کے کے لیے
نعرے لگائے اور اپنے ووٹ کے ذریعے تخت اور تاج کے وارث بناے آج مقام افسوس
تو یہ ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ تنخواہ اور مراعات لینے کے باوجود وہ مزید
سرکاری ریسٹورنٹ میں مفت روٹی مانگ رہے ہیں اور قوانین بنا رہے ہیں اور سب
کچھ مفت اور اداروں میں بدمعاشی کرنے کو اپنا استحقاق کہتے ہیں ان کو شرم
سے ڈوب مرنا چاہئیے کہ غریب لوگ دس دن سے دھرنا لگا بیٹھے ہیں اور واویلا
کررہے ہیں کہ گھروں میں فاقے ہیں۔ اب حالات کا تقاضا ہے کہ ان مظلوموں کے
لیے قوم کو باہر نکلنا ہوگا اور ہم اپنے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے
گلگت بلتستان کے کونے کونے میں ان سے یکجہتی کے لیے عوام کو روڈ میں نکال
لیں گے اور اس وقت تک سڑکوں میں ہونگے جب تک ان کے تمام جائز مطالبات پورے
نہیں ہوتے۔وائس چیئرمین اکرام الدین حیدر نے کہا کہ اس ادارے کے مستقبل کو
بچانے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے اور انشورنس اداروں نے وفاقی ادارہ
ای او بی آئی نے جو ظلم برپا کیا ہے اس کا فوری نوٹس لیا جائے اور ان کو تو
رسک الاو ¿نس بھی دینا چاہیے کیونکہ سب سے زیادہ زندگی کا رسک ان کو ہے۔
ناکام حکومت نے اب تو ان کے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے 14 گھنٹے کے
سفر کو 28 گھنٹے تک پہنچایا ہے۔ کانوائے کے نام سے مسافروں اور ان مظلوموں
پر جو ستم ڈالی جارہی ہے وہ کم ہے اب تنخواہ بند کرکے ظلم کی انتہا کردی
گئی ہے۔اب ہم میدان میں ہم نکلیں گے اور ان کا حق ان کو دلا کر رکھیں
گے۔آخر میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے ملازمین کی صبر و استقامت پر
خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شام کی ضیافت عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے کردی