گلگت (ثاقب عمر) اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے کہا
ہے کہ وزیر اعلیٰ کی نااہلی کے باعث گلگت بلتستان اسمبلی سے اختیارات واپس
وفاق منتقل ہورہے ہیں۔ کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس
وقت گلگت بلتستان سے پرنسپل اکاو ¿نٹس کا نظام لپیٹا جارہا ہے اور وفاق کے
حوالے کیا جارہا ہے اور گلگت بلتستان کے وسائل جن میں جنگلات ، پانی و دیگر
جو گلگت بلتستان کے عوام کی ملکیت ہیں ان کو بھی وفاق منتقل کرکے گلگت
بلتستان اسمبلی کو بے اختیار بنایا جارہا ہے اور ایک مفلوج نظام عوام دینے
کی سازش ہورہی ہے لیکن اس سازش کو ہم ہرگز قبول نہیں کرینگے ، اپوزیشن کے
اراکین کے علاوہ حکومتی ارکان بھی اس سازش کے خلاف ہیں اور اس معاملے پر ہم
خاموش نہیں رہیں گے بلکہ بھرپور احتجاج کیا جائے گا اسمبلی کے فلور میں
بھی آواز اٹھائینگے اور ضرورت پڑی تو عوام کے درمیان بھی جاکر اس سازش کو
بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پہلے ہی
محرومیوں کا شکار ہیں ان محرومیوں کے ازالے کے بجائے اختیارات چھیننا کسی
کے بھی حق میں نہیں ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری
کی جانب سے گاڑیوں پر سٹیکرز لگانے کا حکم انتہائی مضحکہ خیز ہے اس کے
بجائے جو فیولنگ کے نظام میں کرپشن ہورہی ہے اور مینٹیننس کے نام پر جو لوٹ
کھسوٹ ہے اس کو بند کردیا جائے اور کم سی سی کی گاڑیوں کو استعمال میں
لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ استحقاق و استثنیٰ بل سے عوامی مسائل حل ہونگے
اور اسمبلی ممبران سمیت بیوروکریسی بھی اسمبلی کو جوابدہ ہوگی، گلگت
بلتستان میں غیر قانونی اسلحہ لوگ لیکر گھوم رہے ہیں اس پر سب خاموش ہیں
لیکن لائسنس یافتہ اسلحہ پر کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے جس کو بھی اپنے
دفاع کے لئے اسلحہ رکھنے کی ضرورت ہے وہ لائسنس لیکر رکھے اور یہی حق
اسمبلی ممبران کو بھی حاصل ہے ،کاظم میثم نے کہاکہ اس بل سے بیوروکریسی اور
اسمبلی کے مابین دوریاں پیدا نہیں ہوں گی بلکہ مل کر کام کرنے کی راہ
ہموار ہوگی اور جوابدہ بھی ہونا پڑے گا انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان
اسمبلی کے تمام ممبران عوامی نمائندے ہیں اور بیوروکریسی بھی عوام کے لئے
ہے دونوں کا جو فرض ہے انہوں نے ادا کرنا ہے، فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی
پر سزا جزا کا نظام ہونا لازمی ہے تاکہ نظام درست ہو سکے۔