شاہرہ نگر کے تعمیراتی کام کا آغاز کردیا گیا، وفاقی سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے آفیسروں کے ہمراہ شاہراہ نگرکے تعمیراتی کام کے آغاز کا جائزہ لینے نگر پہنچ گئے، وفاقی سیکرٹری بابر حیات تارڑ نے بدھ کے روز مناپن نگر کا دورہ کیا، وفاقی سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان کو شاہراہ نگر کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے منصوبے کے حوالے سے بریفنگ دی، شاہراہ نگر 45 فٹ چوڑی ہوگی جو شاہراہ قراقرم مناپن نگر سے شروع ہوکر مشہور سیاحتی مقام ہوپر میں اختتام پذیر ہوگی، شاہراہ نگر کو گنش اور مرتضٰی آباد ہنزہ میں بھی شاہراہ قراقرم سے منسلک کیا جائے گا، ساڑھے چار ارب لاگت سے 3 سال کے عرصے میں یہ شاہراہ تعمیر ہوگی، وفاقی سیکرٹری بابر حیات تارڑ کو بتایا گیا کہ یہ شاہراہ اپنی نوعیت کی پہلی شاہراہ ہوگی جس کے ساتھ سائیکلنگ ٹریک بھی ہوگا، شاہراہ نگر ، شاہراہ قراقرم کے متبادل سڑک کا کام بھی دے گی اور اس سے نگر کے سیاحتی مقامات تک رسائی ممکن ہوگی، شاہراہ کی تعمیر سے نگر میں سیاحت کو فروغ اور ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ سپریم کونسل نگر کے ایک وفد جس کی قیادت کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر مستان کررہے تھے نے وفاقی سیکرٹری بابر حیات تارڑ سے ملاقات کی، ملاقات میں سپریم کونسل نگر کے صدر ، انجمن حسینہ نگر کے چیئرمین حیدر منوا نے وفاقی سیکرٹری اور دیگر مہمانوں کو روایتی ٹوپی اور چوغہ پیش کیا، اس موقع پر ڈاکٹر مستان نے وفاقی حکومت کا شاہراہ نگر پر کام کے آغاز پر نگر قوم کی جانب سے شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ شاہراہ نگر کی تعمیر نگر کے عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے، انہوں نے وفاقی سیکرٹری کویقین دلایا کہ منصوبے کی تکمیل کے لئے حکومت سے بھرپور تعاون کیا جائے گا ،وفد نے کہا کہ آس پاس کے علاقوں کو شاہراہ نگر سے منسلک کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری بابر حیات تارڑنے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں اور ان کو یہاں کے لوگوں کے مسائل کا اندازہ ہے، انہوں نے کہا وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح بہبود اور اس علاقے کی ترقی کیلئے تمام اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ شاہراہ نگر 3 سال کے عرصے میں تیار ہوگی، مالی مشکلات کے باوجود وفاقی حکومت اس منصوبے کیلئے ضروری رقم وقت پر ہی ادا کرےگی، اس شاہراہ کے کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر نگر وقاص جوہر، ایگزیکٹو انجنیئر بی اینڈ آر غلام مرتضیٰ ،ایگزیکٹو انجنیئر واٹر اینڈ پاور اسماعیل، ڈی ایچ او محمد افضل اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔