گلگت (پ ر) چیف جسٹس چیف کورٹ جسٹس علی بیگ کا سول کورٹ دینور گلگت کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے سول کورٹ دنیور میں زیر سماعت دیوانی اور فوجداری پر مشتمل مقدمات کا جائزہ لیا اور کہا عدل کا بنیادی فلسفہ حقدار کو قانون کمطابق فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے چیف کورٹ اس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور قانون کمطابق لوگوں کو گھر کی دہلیز پر سستا اور فوری انصاف کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے اس امر کو یقینی بنانے کے لئے چیف کورٹ اپنے تمام تر وسائل بروکار لارہے ہیں تاکہ سائل عدالت سے تاریخ کی پرچی کے بجائے انصاف اور فیصلہ لیکر گھر جائیں اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا چیف کورٹ نے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مقدمات کو اولڈ، اولڈیس اور فریش پر مشتمل مقدمات کو تین کٹیگریز میں تقسیم کرتے ہوئے ججز کو مذکورہ بالا کٹیگریز کے مقدمات کو نمٹانے کےلئے مقررہ وقت کا ہدف دیا ہوا ہے اور ہدف مقررہ وقت میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کردیا ہے مقدمات کو کٹیگریز میں تقسیم کا بنیادی مقصد پرانے مقدمات کو ترجیح بنیادوں پر بروقت نمٹاتے ہوئے سائلین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنایا جاسکے اس موقع پر چیف جسٹس نے جج دنیور سول کورٹ کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ادارے میں نظم وضبط اور وقت کی پابندی کا خیال رکھیں تاکہ عدالتی عملے کی عدم حاضری کے باعث عدالت میں مقدمات کی پیروی کے لئے آنے والے سائلین اور وکلاءکو کوئی دشواری کا سامنا کرنا نہیں پڑے انہوں مزید کہا کہ بار اور بینچ کا انصاف کی فراہمی میں یکساں کردار ہوتا ہے بار اور بینچ لازم و ملزوم ہیں دونوں غیر ضروری تاریخوں کی نظام کی حوصلہ شکنی کریں اور وکلاءبینچ سے تعاون جاری رکھیں تاکہ لوگوں کو گھر کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔