گلگت،غذر: گلگت بلتستان میں جاری پی ایس ڈی پروجیکٹس اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس گلگت میں منعقد ہوا ، اجلاس کی صدارت سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے کی۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کونسل کے جوائنٹ سیکرٹری سدھیر خان خٹک ، گلگت بلتستان حکومت کے سیکرٹری پلاننگ ، سیکرٹری سوشل ورکس ، سیکرٹری زراعت ، سیکرٹری بلدیات کے علاوہ پی ایس ڈی پی پروجیکٹس کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز نے بھی شرکت کی ، اجلاس میں حکام نے سیکرٹری امور کشمیر و گلگت کو کارڈیک ہسپتال گلگت، گلگت سیوریج اینڈ سینیٹیشن سسٹم، نلتر 3 ہائیڈل پراجیکٹ ، دیامیر بھاشا ڈیم سے متعلقہ سی بی ایم پروجیکٹس، ہینزل ہائیڈل پراجیکٹ کے علاوہ دیامیر میں چلغوزے کے جنگلات کے تحفظ کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ، اس موقع پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد ان منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کا تدارک کرنے کیلئے عملی اقدامات پر غور کرنا ہے تاکہ ان اہم منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کر کے ان سے مستفید ہوا جا سکے، گلگت کارڈیک ہسپتال سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ تمام ضروری آسامیوں کے مکمل ہونے تک موجودہ سٹاف سے ہسپتال کو آپریشنل رکھا جائے انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کے لیے بائیو ¿ میڈیکل سامان اہم تیکنیکی معاملہ ہے لہذا اس کے حصول کے لیے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کر کے اس کے تکنیکی پہلوو ¿ں کا جائزہ کیا جائے۔ گلگت میں سیوریج اینڈ سینیٹیشن پروجیکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کے ٹینڈرز کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور تین ٹھیکیداروں کو اس منصوبے کے ابتدائی تین زونز کا کام دے دیا گیا ہے ، حکام نے مزید بتایا کہ اس منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کے لیے مزید فنڈز درکار ہیں اس موقع پر سیکرٹری امور کشمیر نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان حکومت اس منصوبے کے حوالے سے قریبی کوآرڈینیشن کو یقینی بنائے ، سولہ میگا واٹ نلتر تھری پروجیکٹ کے حوالے سے بابر حیات تارڑ نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے ضروری ای اینڈ ایم سامان کے ایل سی کھلونے کے سلسلے میں وزارت امور کشمیر اپنا متحرک کردار ادا کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے سول ورک کی تکمیل کے سلسلے میں وہ جلد ڈی جی ایس پی ڈی سے ملاقات کریں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم سے متعلقہ سوشل کمیونٹی ورک CBM پر بھی سیکرٹری امور کشمیر کو بریفنگ دی گئی اور اس ضمن میں مختلف وادیوں میں جاری اور تکمیل شدہ منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا اس موقع پر بابر حیات تارڑ نے کہا CBM سے متعلق منصوبے سست روی کا شکار ہیں اور ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے متحرک اور مخصوص سٹاف تعینات کرنا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ اس بڑے منصوبے کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے واپڈا کو گلگت بلتستان کے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پی ایس ڈی منصوبوں میں بڑا حصہ شیئر کرنا چاہئے ، اجلاس میں دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر سے متعلقہ سیکورٹی ایشوز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں 20 میگا واٹ ہینزل ہائیڈل پاور پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی اور حکام نے بتایا کہ اس منصوبے پر تعمیراتی کام جاری ہے اس موقع پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا کہ اس منصوبے کی کیپسٹی(پیداواری صلاحیت) 20 میگا واٹ سے 40 میگا واٹ کرنے کے لیے درکار فنڈز کے لیے وزارت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے اور پی ایس ڈی پی کے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔اجلاس میں بابر حیات تارڑ کو دیامر میں انتہائی قیمتی چلغوزہ کے جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی اور اس ضمن میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ،اس موقع پر سیکرٹری امور کشمیر نے کہا اس سلسلے میں فوڈ اور ایگریکلچر آرگنائزیشن سے رابطہ کر کے چلغوزے کے پراسیسنگ یونٹس کی تعداد دو سے بڑھانے کی درخواست کی جائے کیونکہ موجودہ یونٹس کی تعداد ناکافی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ایف اے او چلغوزے سے متعلق جی آئی بریڈنگ کو بھی یقینی بنائے تاکہ اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ لوکل کمیونٹی کو پہنچ سکے انہوں نے مزید کہا کہ ایف اے او علاقے میں دیگر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی تعاون کرے تاکہ چلغوزے کے جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے انہوں نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی سے رابطہ کر کے درخواست کی جائے گی کہ وہ گلگت بلتستان کو انٹرنیشنل فنڈنگ کی مد میں زیادہ سے زیادہ فنڈز کی فراہمی کے لیے اپنا بھرپور تعاون کرے۔ سیکریٹری امور کشمیرو گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ کیا۔شعبہ تعلقات عامہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے مطابق یونیورسٹی پہنچنے پر یونیورسٹی کے سینئر انتظامی و تدریسی افسران نے استقبال کیا۔جس کے بعد بابر حیات نے یونیورسٹی کے سینٹ ہال میں یونیورسٹی کے سینئرانتظامی وتدریسی افسران سے ملاقات کی ،ملاقات میں یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر عبد الحمید لون نے یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات سمیت جامعہ میںجاری تعلیم،تحقیق سمیت دیگر امور سے متعلق تفصیلی پریزینٹیشن پیش کی۔ملاقات میں سیکریٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے یونیورسٹی کی جانب سے خطے میں اعلیٰ تعلیم وتحقیق کے فروغ کے لیے کئے جانے والے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو درپیش مالی بحران سمیت دیگر تمام مشکلات سے نکالیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہاہے۔جس کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے ضلع غذر کا دورہ کیا ، ڈی سی غذر کیپٹن (ر )طیب سمیع خان نے ضلع میں جاری پی ایس ڈی پی پراجیکٹس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر غذر چترال ایکسپریس وے منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شمس الرحمن نے بھی جاری منصوبے اور کام کے پراگریس کے حوالے سے بریف کیا ،بابر حیات تارڑ نے پونیال کے گاو ¿ں گلاپور میں ایفاد پراجیکٹ کے تحت مکمل ہونے والی واٹر ایری گیشن سکیم کا بھی دورہ کیا انہوں نے عمائدین علاقہ سے ملاقات کے دوران پی ایس ڈی پی سکیموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی یقین دہائی کرائی بعد ازاں وفاقی سیکرٹری نے بریفنگ کے دوران این ایچ اے کے حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ غذر چترال روڑ منصوبے کی تعمیر کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرایا جائے