Image

چکنائی سے بھرپورغذا نہ ختم ہونے والے شدید جسمانی درد کو جنم دیتی ہے، تحقیق

ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ بھلے ہی آپ موٹاپے کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی ذیابیطس کے شکار ہیں اور نہ کسی زخم نے آپ نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔ اس کے باوجود آپ ایک ایسے نامعلوم دائمی درد سے ہلکان ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ’’چکنائی سے بھرپور غذا کی زیادتی‘‘ ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس میں محققین کی جانب سے چوہوں پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ تھوڑے عرصے کے لیے زیادہ چکنائی والی غذا کے استعمال کا ممکنہ طور پر موٹاپے یا ذیابیطس یا کسی زخم کے بغیر تکلیف کے احساس سے تعلق ہوسکتا ہے۔



جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی تحقیق میں چوہوں کے دو گروہوں کو آٹھ ہفتوں تک دی جانے والی مختلف غذا کے اثرات موازنہ کیا گیا۔ ایک گروپ کو معمول کے مطابق غذا دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو زیادہ چکنائی والی غذا اس طریقے سے دی گئی کہ اس کے نتیجے میں چوہوں میں موٹاپے یا بلڈ شوگر (جو ڈائیبیٹک نیوروپیتھی اور دیگر اقسام کی تکالیف کا سبب ہوسکتے ہیں) کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا۔





محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا کہ چکنائی سے بھرپور غذا کے سبب ایک اعصابی تبدیلی جو تکلیف کے شدید ہونے سے دائمی ہونے تک کی منتقلی کو واضح کرتی ہے، رُونما ہوئی اور ایلوڈائنا سامنے آئی۔ ایلوڈائنا کی کیفیت میں مبتلا افراد کو ہلکا سا چھونے سے بھی شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔



تحقیق کے ایک مصنف ڈاکٹر مائیکل برٹن کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ تکلیف کے لیے لازمی نہیں کہ موٹاپا، ذیا بیطس، پیتھالوجی یا کوئی زخم ہو۔ تھوڑے وقت کے لیے چکنائی سے بھرپور غذا کا کھایا جانا کافی ہے۔ ایسی غذا جو امریکا میں تقریباً سب ہی کھاتے ہیں۔



تحقیق میں موٹاپے اور ذیا بیطس میں مبتلا چوہوں کا موازنہ ان چوہوں کے ساتھ کیا گیا جن کی غذاؤں میں تبدیلی لائی گئی تھی۔


مغربی ممالک کی غذائیں چکنائی سے بھرپور ہوتی ہیں جو نتیجتاً موٹاپے، ذیا بیطس اور ان سے متعلقہ کیفیات کا سبب بنتی ہیں۔ وہ افراد جو زیادہ مقدار میں مکھن، پنیر اور گوشت(بیف، مٹن وغیرہ) کھاتے ہیں ان کے خون میں فری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو سوزش کا سبب بنتی ہے