Image

این اے 45 ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس،عمران خان کیخلاف فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن نے این اے 45 کرم میں عمران کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کافیصلہ محفوظ کرلیا، جبکہ چیف الیکشن کمیشنرنےریمارکس دئیے کسی کو بھی الیکشن کمیشن کی توہین کی اجازت نہیں۔چیف الیکشن کمشنرز کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس پرسماعت کی، سپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کرم الیکشن میں سرکاری گاڑیاں استعمال کی گئیں، عمران خان پہلے بھی خلاف ورزیاں کرچکے ہیں، ہماری گزارش ہے اقبال وزیر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے انہوں نے لوگوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے، ان کی ٹویٹس سے الیکشن کمیشن کی ساکھ متاثر ہوئی۔چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے خلاف ورزی کی ہے تو اس کا اثر امیدوار پر پڑتا ہے، اس کو اندازہ نہیں ہوگا اس نے کہا تھا وزارت قربان کرنے کیلئے تیارہیں نوٹسز تو پنجاب میں بھی ہوئے ہیں، کسی کو بھی الیکشن کمیشن کی توہین کی اجازت نہیں یہ تو نہیں ہے کہ دوسروں کو بددیانت کہیں یہ نامنظور ہے، ٹویٹ میں موجود الفاظ کو سنجیدہ نہ لیا جائے، اقبال وزیر ویڈیو میں کہہ رہا ہے کہ میں انتخابی مہم چلا رہا ہوں، ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ باقی صوبوں میں تو ہیلی کاپٹر بھی استعمال نہیں ہوئے۔تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر کمیشن میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا خیبرپختونخوا میں 2 افسران کو یہ نوٹسز بھیج رہے ہیں، پہلا نوٹس 3 ستمبر کو ہوا ڈی ایم او نے اقبال وزیر کو ضلع بدر کرنے کا کہا تھا، اقبال وزیر وہاں پر موجود نہیں تھے ہم نے کرم میں کوئی جلسہ ہی نہیں کیا، سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر نہ عمران خان اور نہ ہی اقبال وزیر گئے، الیکشن کمیشن کے بارے میں لوگوں کے تحفظات ہوں گے، ٹویٹ میں موجود الفاظ کو سنجیدہ نہ لیا جائے، ہم نے تو ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا، اقبال وزیر مہم کیلئے نہیں بلکہ سیلاب کے بعد بحالی کے کام کیلئے گئے، اقبال وزیر عمران خان کیلئے مہم نہیں کررہے تھے۔ وہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے وزیر ہیں اس لئے وہاں گئے۔بعدازاں الیکشن کمیشن نے این اے 45 کرم میں عمران کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کافیصلہ محفوظ کر لیا۔