بھارت میں قیامت برپا کرنیوالا وائرس پاکستان میں بھی پہنچ گیا

 بھارت میں قیامت برپا کرنے والا وائرس پاکستان میں بھی پہنچ گیا۔ گزشتہ روز وزارت صحت نے انڈین ویری انٹ کے ایک کیس کی تصدیق کر دی۔ وائرس کی بھارتی قسم کا یہ ملک میں پہلا کیس ہے۔

ترجمان وفاقی وزارت صحت ساجد شاہ نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے بھارتی کورونا وائرس کی قسم کا کیس تشخیص کیا تھا جس کے لیے مئی 2021 کے پہلے تین ہفتون کے دوران ایس او آر ایس کووڈ-2 نمونے حاصل کیے گئے تھے۔ نتائج سے تصدیق ہوئی کہ سات کیسز جنوبی افریقی اور ایک کیس بھارتی جراثیم سے متاثرہ ہے۔ یہ پاکستان میں بھارتی قسم کا پہلا کیس ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزارت صحت نے کورونا ویکسین لگوانے سے 2 سال میں موت کی افواہ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی سائنسی تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ ویکسین لگوانے سے دو سال بعد موت واقع ہو سکتی ہے، یہ خبر من گھڑت ہے، نوبل انعام یافتہ سائنسدان نے اپنے انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں کی ہے کہ ویکسین لگوانے والے 2 سال میں مرجائیں گے، تمام ویکسین تحقیق اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزر کر عام عوام تک پہنچتی ہیں۔

دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے 73 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 20 ہزار 680 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 9 لاکھ 16 ہزار 239 ہوگئی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 482 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 3 لاکھ 38 ہزار 377، سندھ میں 3 لاکھ 15 ہزار 410، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 31 ہزار 775، بلوچستان میں 25 ہزار 1، گلگت بلتستان میں 5 ہزار 561، اسلام آباد میں 81 ہزار 7 جبکہ آزاد کشمیر میں 19 ہزار 108 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 31 لاکھ 13 ہزار 393 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 55 ہزار 442 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 8 لاکھ 36 ہزار 702 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 4 ہزار 83 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 73 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 20 ہزار 680 ہوگئی۔ پنجاب میں 9 ہزار 960، سندھ میں 5 ہزار 3، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 43، اسلام آباد میں 755، بلوچستان میں 273، گلگت بلتستان میں 107 اور آزاد کشمیر میں 539 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔