عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتا ہوں،گورنر خیبرپختونخوا

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتا ہوں،امن و امان کے لیے اسلام آباد کی بجائے صوبے کے مختلف اضلاع میں اجلاس منعقد کیے جائیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ آپریشن عزم استحکام پر کسی کو اعتماد میں میں نہیں لیا گیا،فوجی آپریشن کسی صورت قابل قبول نہیں۔تفصیل کے مطابق پیرکے روزگورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی پشاور میں اے این پی کے باچا خان مرکز پہنچے جہاں گورنر نے اے این پی کی اعلی قیادت سے ملاقات کی جس میں سیکیورٹی و سیاسی معاملات پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ایک سوشل میڈیا کا خیبر پختونخوا ہے اور ایک حقیقی ہے اور حقیقی خیبر پختونخوا تباہی کے دہانے پر ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن لوگوں نے دہشت گردوں کی حمایت کی، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، بہتر ہوتا کہ آپریشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے صوبائی کابینہ کو اعتماد میں لئے بغیر آپریشن کی حمایت کردی، سیاسی جماعتوں کے تحفظات وزیر اعظم ، صدر پاکستان کے سامنے رکھوں گا، بحیثیت گورنر عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتا ہوں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ آپریشن عزم استحکام پر کسی کو اعتماد میں میں نہیں لیا گیا۔ میاں افتخار نے کہا کہ دہشت گردوں کی جڑیں پنجاب میں ہیں، آپریشن استحکام پاکستان کے فیصلے پر شدید تحفظات ہیں، اے این پی نے گورنر کو تحفظات کے حوالے سے آگاہ کردیا، آپریشن کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یکطرفہ فیصلہ ہے، کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ میں تو خود یہ سمجھتا ہوں اور پارٹی کا ایک موقف ہے کہ اب تو صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کا نہ مذاکرات اور نہ آپریشن پر یقین ہے۔ بجائے اس کے دہشت گردی ختم ہو مذاکرات کے ذریعے، عوام آئی ڈی پیز بن جاتے ہیں اور دہشت گرد قابض ہو جاتے ہیں اور آپریشن میں بھی یہ صورتحال سامنے آ جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی ایسا قدم اٹھانا ہو تو قومی و صوبائی اسمبلی اور سینٹ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ جنرل فیض نے کس کے کہنے پر مذاکرات کیے اور 40 ہزار دہشت گرد کس کے کہنے پر آئے۔میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی کسی حد تک کم ہو گئی تھی لیکن دہشت گردوں کو دوبارہ منظم کیا گیا اور یہ کس نے کیا؟انہوں نے کہا ہمارے تحفظات ختم نہیں اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اس پر عمل نہیں ہونا چاہیے۔ اپر دیر ، لوئر دیر میں آپریشن پر بھی اعتماد میں لیا جائے، اے این پی آپریشن عزم پاکستان کے حوالے سے کل جماعتی اجلاس (اے پی سی) بلا رہی ہے