بلتستان کے چھ نوجوانوں نے کے ٹو سرکرلی

 گلگت بلتستان کے دورافتادہ علاقے گانچھے ہوشے سے تعلق رکھنے والی پانچ رکنی کوہ پیماوں کی ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سرکرلی، شریف سدپارہ بھی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کا غرور توڑنے میں کامیاب ہوگئے، اکبر سدپارہ کے ٹو سر کرنے کے قریب ہیں، ہوشے کے جن کوہ پیماوں نے کیٹو پر پاکستان کا سبزہلالی پرچم لہرایا ہے ان میں محمد تقی، علی درانی، مشتاق احمد، محمد حسن، یوسف شامل ہیں تمام کوہ پیماء بیس روز قبل سکردو سے کے ٹو کی جانب روانہ ہوئے تھے تمام پاکستانی کوہ پیماوں نے منگل کی الصبح کے ٹو سرکرکے پاکستانی پرچم لہرایا دو رکنی نیپالی کوہ بھی کیٹو پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے کامیاب مہم جوئی کے بعد ہوشے سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماوں نے اپنے پیغام میں کہاہیکہ گلگت بلتستان خاص طورپر بلتستان میں کوہ پیمائی کے بڑے مواقع موجود ہیں اگر حکومت نے توجہ دی تو اہم شعبے سے بڑی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے کے ٹو پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا حکومتی سرپرستی برقرار رہی تو ماونٹ ایوریسٹ بھی سرکریں گے حکومت وعدے کے مطابق بلتستان میں فی الفور کوہ پیمائی کا سکول قائم کرے تاکہ کوہ پیمائی کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو بہترین نداز میں تربیت دی جاسکے کوہ پیمائی کے شعبے کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیئے حکومت اس اہم شعبے سے وابستہ نوجوانوں کے مسائل کو سمجھے ہم وطن کا نام روشن کرنے کیلئے جان خطرے میں ڈال کر کوہ پیمائی کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم اپنی کامیابی کو قومی ہیرو علی سدپارہ کے نام کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کیلئے دعا گو ہیں۔ کے ٹو سر کرنے والوں میں سے 2 علی درانی اور محمد حسن ہوشے ریسکیو 1122 کے اہلکار ہیں، اس سے قبل 2014ء میں بھی علی درانی اور محمد حسن نے کے ٹو پر مہم جوئی کی تھی جس میں علی درانی کے ٹو کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ محمد حسن ہوشے کیمپ 4 سے واپس آگئے تھے، اسی کے اعزاز میں حکومت گلگت بلتستان نے دونوں کوہ پیمائوں کو ریسکیو 1122 میں ملازمت دی تھی۔ کے ٹو سر کرنے کی خبر ملنے کے بعد ہوشے اور سدپارہ میں جشن شروع ہوگیا۔ نوجوانوں نے بھنگڑے ڈالے۔پاکستان کے 19 سالہ شہروز کاشف کے ٹو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے شہروز کاشف نے دو ماہ قبل دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے اسے سر کرنے والے سب سے کم عمر پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھاپاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف آج 19 سال کی عمر میں دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر) پر پہنچ کر اس چوٹی کو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے ہیں۔شہروز کاشف کے والد کاشف سلمان نے تصدیق کی ہے کہ شہروز نے آج منگل کی صبح 8 بج کر 10 منٹ پر کے ٹو کو سمٹ (چوٹی کو سر) کر لیا تھا۔لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز، کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ براڈ پیک بھی سر کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ انھیں 'براڈ بوائے' کے نام سے جاتے ہیں۔شہروز نے ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔ شہروز والد سلمان کاشف نے کہاکہ کے شہروز کے ایورسٹ سر کرنے کی مہم پر ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے لگے تھے اور یہ تمام رقم کاشف نے اپنی جیب سے ادا کی تھی، اس وقت انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ 'میں بہت تھک گیا ہو اور شاید اب شہروز کو مزید کوئی اور پِیک نہ کروا سکوں۔'تو اس مرتبہ شہروز کی کے ٹو مہم کو کس نے سپانسر کیا۔کاشف بتاتے ہیں کہ نیپال کے چھنگ داوا شرپا نے 30 سال کی عمر میں ساری چوٹیاں سر کی لی ہیں اس لیے شہروز چاہتا ہے کہ 23 سال کی عمر میں ساری چوٹیاں سر کر لے۔'کے ٹو کے بعد شہروز مناسلو (8163) سر کرنا چاہتا ہے اور اگر کوئی بہتر سپانسر مل جائے تو شہروز کا ارادہ ساتھ ہی دولاگیری (8167 میٹر) کو بھی بھی سر کرنے کا ہے۔