گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ،گلگت میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر لازمی ہے ،وزیر اعلیٰ

اسلام آباد (پ ر) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے زیر صدارت ایوان صدر میں گلگت ایئر پورٹ کی توسیع کے حوالے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری برائے ہوا بازی اور ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن نے گلگت ایئر پورٹ میں موجودہ سہولیات اور مستقبل کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گلگت میں نئے ایئرپورٹ کی تعمیر کیلئے کنسلٹنٹ کی خدمات لی جارہی ہیں جو موزوں مقام کا تعین کرینگے اس حوالے سے ٹیکنیکل سٹڈی کرائی جارہی ہے جس کے تناظر میں حتمی سفارشات تیار کی جائیں گی۔ ابھی تک بین الاقوامی اچھی شہرت رکھنے والی 5فرم نے گلگت میں نئے ایئرپورٹ کی تعمیر کے حوالے سے کنسلٹنسی کیلئے رابطہ کیا ہے۔ 30اکتوبر2021تک کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا عمل مکمل کیا جائے گا جس کے بعد متعلقہ کنسلٹنٹ اپنی سفارشات اپریل 2022تک تیار کرکے پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ سکردو ایئر پورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سکردو ایئر پورٹ کو بھی اپ گریڈ کیا جارہا ہے ۔ موجودہ رن وے کو توسیع دی جارہی ہے جس کیلئے زمین حاصل کی جارہی ہے۔  وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر لازمی ہے کیوں کہ گلگت  بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ہے اور انرجی کے میگا منصوبے دیامر بھاشا اور بونجی ڈیم جیسے اہم منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ لہٰذا انٹرانیشنل ایئرپورٹ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خالد خورشید نے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کنسلٹنٹ کی جانب سے موزوں جگہ کی نشاندہی پر حکومت گلگت  بلتستان زمین کی خریداری اور دستیابی یقینی بنانے میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی۔وزیر اعلیٰ گلگت  بلتستان خالد خورشید نے گلگت  بلتستان میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ہوٹل چین گلگت  بلتستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ۔ حکومت گلگت  بلتستان نے سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے ہوم سٹے کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کیلئے نیشنل بینک کے تعاون سے قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔