طالبان نے عبوری حکومت کا اعلان کردیا، ملا حسن اخوند افغانستان کے وزیراعظم، ملابرادر نائب مقرر

 طالبان نے افغانستان میں نئی حکومت اور 22  رکنی کابینہ کی تشکیل دے دی جس کے مطابق ملا محمد حسن اخوند عبوری وزیراعظم، ملا عبدالغنی بردار نائب وزیراعظم ،محمد یعقوب مجاہد وزیر دفاع ،سراج حقانی وزیر داخلہ، ملا ہدایت اللہ وزیر مالیات ، ملا امیر خان متقی وزیر خارجہ ، ملا خیر اللہ وزیر اطلاعات، مولوی محمد عبدالحکیم عدلیہ ، ہدایت اللہ بدری وزیر خزانہ ، قاری دین محمد حنیف وزیر کان کنی ہونگے جبکہ فصیح الدین بدخشانی افغانستان آرمی کے چیف مقرر کرد یئے گئے ۔ ملا عبدالحق این ڈی ایس کے سربراہ ہونگے۔ منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہدنے افغانستان کی نئی حکومت کے عہدے داروں کے ناموں کا اعلان کیاجس کے مطابق محمد حسن اخوند عبوری وزیراعظم،ملا عبدالغنی بردار نائب وزیراعظم ہوں گے۔ محمد یعقوب مجاہد کو عبوری وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔نئی افغان حکومت میں سراج حقانی وزیر داخلہ ہوں گے۔ ملا ہدایت اللہ وزیر مالیات اور ملا امیر خان متفی وزیر خارجہ ہوں گے۔ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ملا خیر اللہ وزیر اطلاعات، مولوی محمد عبدالحکیم افغان عدلیہ کے وزیر ہوں گے۔ ہدایت اللہ بدری کو وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملا خیراللہ خیرخوا وزیر اطلاعات ہوں گے اور قاری دین محمد حنیف وزیر کان کنی ہوں گے، فصیح الدین بدخشانی افغانستان آرمی کے چیف مقرر کرد یئے گئے جبکہ مولوی محمد عبدالحکیم افغان عدلیہ کے وزیر ہوں گے اور ہدایت اللہ بدری کو وزیر خزانہ کی ذمے داریاں نبھائیں گے۔ترجمان طالبان کے مطابق نئی کابینہ عبوری ہے اور اس میں بعد میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔فی الحال ہم نے ان وزارتوں کا اعلان کیا ہے جن کی فوری طور پر ضرورت تھی، دیگر وزارتوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔طالبان ترجمان نے کہا کہ پنج شیر میں کوئی جنگ نہیں ہے اور ملک کا ہر حصہ ہمارے وجود کا حصہ ہے،سب طبقوں کو موجودہ کابینہ میں نمائندگی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مرضی صرف افغانیوں کی چلے گی اور آج کے بعد کوئی بھی افغانستان میں دخل اندازی نہیں کرسکے گا۔ذبیح اللہ نے مزید کہا کہ بیشتر ممالک کے ساتھ رابطہ ہوئے ہیں اور متعدد ممالک کے محکمہ خارجہ کے نمائندگان نے افغانستان کے دورے کیے ہیں۔طالبان ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں کسی کی مداخلت قبول نہیں، ہم نے افغانستان میں مداخلت کرنے والے امریکا کے خلاف بیس سال تک جدوجہد کی بالآخر فتح حاصل کی، ہمارے معاملات میں پاکستان کوئی مداخلت نہیں کررہا یہ محض 20 سال سے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت تشکیل دے دی گئی ہے تاہم اس میں موجود متعدد عہدوں کے لیے کئی ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم نے مکمل کوشش اور مشاورت کے بعد سیاسی کابینہ تشکیل دی، ہماری پہلی ترجیح ملک میں قیام امن ہے، جس کیلئے مختلف اقدامات کیے ہیں، موجودہ کابینہ نگراں ہے اور عارضی طور پر اپنی خدمات انجام دیگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کابینہ میں وقت کے ساتھ سا تھ اصلاحات لاتے رہیں گے، ذمہ داریاں وقتی طور پر دی جارہی ہیں، وزار اور کابینہ اراکین میں ردوبدل ہوسکتا ہے، نگراں کابینہ کا اعلان ملک میں فوری نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کیا ہے، مستقل حکومت کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائیگی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ آزادی سے متعلق ہونے والا کابل کا حالیہ مظاہرہ قانونی نہیں، اگر ایسے مظاہرے ہونے لگے تو ملک میں قیامِ امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کو مظاہرے کنٹرول کرنے کا تجربہ نہیں، ہماری اولین کوشش ہے کہ مظاہروں کے دوران شہر میں کسی بھی قسم کی بدنظمی نہ ہو۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اب جومظاہرے کیے جارہے ہیں وہ غیرقانونی ہیں، جب تک مظاہروں سے متعلق قانون نہیں بن جاتا عوام ان سے گریز کرے کیونکہ ایسے مظاہروں سے بیرونی ایجنڈے کا تاثر ملتا ہے۔