باہمی اختلافات کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت

قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان سید راحت حسین الحسینی نے یوم حسین  کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ایک ہے' مسجد نبوی ایک ہے اورحج کے موقع پر امام کعبہ کی امامت میں نماز پڑھنا جائز ہے ۔ایک خدا اور ایک رسول ۖ کے ماننے والے کعبہ میں اکھٹے ہو سکتے ہیں تو گلگت بلتستان میں امن و بھائی چارے کے لئے اکھٹے کیوں نہیں ہوسکتے؟  آغا راحت حسین الحسینی نے تجویز دی  کہ علاقے میں تمام مسالک کے اتحاد کے لئے ایک عید کی نماز مشترکہ طور پر اہلسنت عید گاہ اور دوسری عید پر امامیہ عیدگاہ میں ادا کی جائے۔ ایک جمعہ کی نماز مل کر امامیہ مسجد میں اور دوسری مرتبہ اہلسنت مسجد میں ادا کریں  انہوں نے کہا کہ ہم باہمی اختلافات کو ختم کرکے ہی دین و دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔  مسلمانوں کے چاروں بڑے فرقوں سنی، شیعہ، اسماعیلی اور نوربخشی کے مابین مشترکات زیادہ ہیں اور اختلافات کم ہیں ہم مشترکات لیکر آگے بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ تفرقے میں آجائیں اور منتشر ہو جائیں اور پھر دشمن ہمیں آ پس میں لڑاکر کامیاب ہو جائے ۔دنیا کے ہر ملک میں جب مسلمان آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہ سکتے ہیں تو ہم ایک دوسرے کا ادب و احترام کیو ں نہیں کرسکتے ہیں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پیدا کی جارہی ہیں اور ایف آئی آر بھی کٹوائی گئی  ہیںلیکن شکر ہے کہ ہوا میں پیدا ہونے والا فساد زمین پر نہیں پہنچا ہے انشاء اللہ مشترکات کو فروغ دے کر آپس کی دوریو ں کو کم کیا جائے گااتحاد اور یکجہتی  اس لیے ضروی ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت اور قوت ہے ۔اس میں ایٹم بم اور بارود سے بھی زیادہ طاقت ہے ۔اگر افراد بہت زیادہ ہوں مگر ان میں انتشار ہو تو کثرت کے باوجود ان کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں اور اگر افراد کہیں کم ہوں تاہم اتحاد ہو تو اقلیت کے باوجود ان کی طاقت زیادہ ہوگی اسی لئے کہا گیا ہے کہ متحد اقلیت منتشر اکثریت سے ہزار گنا زیادہ بہتر ہے ۔اسی طرح جہاں اتحاد ہو وہاں ظاہری اسباب و وسائل کی کمی کے باوجود دنیا پر اس کا رعب ہوگا اور بڑی بڑی طاقتیں اس قوم کی طرف نگاہ نہیں اٹھا سکتیں اور جس قوم کے پاس مادی طاقت بہت ہو لیکن اندرونِ خانہ خلفشار اور اختلاف کا شکار ہو وہ ساری طاقت رکھنے کے باوجود کمزور ہے،اس سے کوئی ڈرنے والا نہیں ہوگا۔موتی یقینا بہت قیمتی چیز ہے لیکن وہ گلے کا ہار اور زینت کا سامان نہیں بن سکتا جب تک کہ اسے دھاگے میں پرو نہ دیا جائے ،اینٹ اور پتھر کے ذرات کے آپس میں جمنے اور ملنے کے بعد ہی بلڈنگوں اور عالیشان مکانوں کی تعمیر ہوتی ہے۔ اگر وہ میدان میں بکھرے رہیں تو کبھی مکان کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ٹھیک اسی طرح آج مسلمانوں کے سارے مسائل کا حل ان کی اجتماعیت اور اتحاد ہے،وہ متحد نہیں اس لئے ان کی وقعت نہیں ۔ان کی شناخت مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ،ان کے سینوں سے ایمان چھیننے کی سازشیں کی جارہی ہیں، باطل طاقتیں مکمل کوشش کررہی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے۔مسلمان ایک خدا کی طاقت کا انکار کرتے ہوئے پھر زمانہ  جاہلیت کی طرف لوٹ جائیں ۔آج ملکی اور بین اقوامی جو مسائل اور نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں ان کی وجہ مسلمانوں کا باہمی انتشار ہے ۔ان کا اختلاف یہاں تک پہنچا کہ ان کی مسجدیں ،کتابیں ،مدارس وغیرہ منقسم ہو گئیں اور وہ مختلف جماعتوں اور گروپ میں بٹ گئے۔اس انتشار اور اختلاف کا علم تمام مخالفین کو اچھی طرح ہے۔ وہ لوگ ان کی کمزوری سے مکمل واقف ہیں اس لئے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوے یہ ناچ ناچ رہے ہیں۔اختلاف ایک فطری چیز ہے اس لئے کہ اذہان اور عقلیں مختلف ہیں۔تاریخ اس بات پر شاہد عدل ہے کہ قوموں کے عروج و زوال،اقبال مندی و سربلندی،ترقی و تنزلی،خوش حالی و فارغ البالی اور بد حالی کے تقدم وتخلف میں اتحاد و اتفاق،باہمی اخوت و ہمدردی اور آپسی اختلاف و انتشار اور تفرقہ بازی اور باہمی نفرت و عداوت کلیدی رول ادا کرتے ہیں،چنانچہ اقوام و ملل کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے اندر جب تک اتحاد و اتفاق پایا جاتا رہا تب تک وہ فتح ونصرت اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتے رہے اور جوں ہی انہوں نے اتحاد و اتفاق کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف و انتشار پھیلانا شروع کیا تو ان کو سخت ترین ہزیمت و شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا نیز ساتھ ہی ساتھ اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کے فقدان کی وجہ سے ان قوموں کا نام صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔کسی بھی قوم وملت کے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے سب سے ضروری اور اہم چیزان کی صفوں میں اتحاد و اتفاق کا پایا جانا ہے،اتحاد ایک زبردست طاقت و قوت اور ایسا ہتھیار ہے کہ اگر تمام مسلمان متحد ومتفق ہو جائیں تو کوئی دوسری قوم مسلمانوں سے مقابلہ تودورکی بات آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتی۔ہماری تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جس کام کو بڑی بڑی قومیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں کر سکیں اس کو مسلمانوں نے باہمی اتحاد و اقفاق،اخوت و ہمدردی،آپسی بھائی چارے اور اجتماعیت سے کر دکھایا۔اسلام ہی وہ  واحد مذہب ہے جس نے اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کا مثبت تصور امت مسلمہ کے سامنے پیش کیا اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق پر ہمیشہ زور دیا ہے یہی وجہ ہے کہ دوسری قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کے اندر کافی حد تک اتحاد و اتفاق کا جذبہ کار فرما نظر آتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ امت مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق اوراجتماعیت کے جذبہ کو بڑھانے کیلئے اسلامی عبادات خاص طور پر نماز کیلئے جماعت کی تاکید کی گئی اور جمعہ و عیدین میں مسلمانوں کے اجتماع کا خاص اہتمام کیا گیا،تاکہ ملت اسلامیہ کا باہمی اتحاد و اتفاق اور مرکزیت قائم رہے اس کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی بھی امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا سب سے بڑا مظہر اور وحدت و مساوات کی سب سے بڑی نشانی وعلامت ہے،واضح رہے کہ مسلمانوں میں اتحاد کا داعیہ اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب وہ اپنے فروعی و فقہی اورجزوی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلامی وحدت و اخوت اور بھائی چارے کے رشتہ کو مضبوط و مستحکم کریں کیوں کہ برق رفتار ترقی،میڈیا وٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں موجودہ وقت و حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملی اتحاد قائم ہو اور اسی وقت عالم اسلام میں رونما ہونے والے انتشار و اختلافات اور فسادات نیز خود ہمارے ملک کی جو موجودہ صورتحال ہے ایسی حالت میں تو امت مسلمہ کیلئے اتحاد و اتفاق کی ضرورت اور ناگزیر ہو جاتی ہے۔ تمام پیش آمدہ مسائل و مصائب کا حل ایک مضبوط و منظم اور مستحکم اتحاد و اتفاق ہی میں پنہاں ہے،اس وقت امت مسلمہ کا ہر فرد اتحاد و اتفاق،قومی یکجہتی و ہم آہنگی،اخوت و بھائی چارے اور اجتماعیت کی بات کرتا ہے۔سوال اس بات کا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد کیوں کر،کیسے اور کس طرح قائم ہو؟اس کاجواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ کا اتحاد واتفاق محض پر زور نعروں اور شیریں بیان وشعلہ بیان مقررین کی سحر انگیز اور ولولہ انگیز تقریروں اور آئے دن وجود میں آنے والی ملی و اتحادی تنظیموں کے ذریعے نہ قائم ہوا ہے اور نہ ہی کبھی قائم ہونے کا امکان ہے،اسی طرح اتحاد بین المسلمین،مادی اغراض و مقاصد،معاشی منفعتوں اور سیاسی و ملکی و قومی ضرورتوں کی بنیاد پر بھی قائم نہیں ہو سکتا ہے کیوں کہ وقتی اغراض ومقاصد کے پیش نظر اگر کوئی اتحاد قائم ہو بھی جاتا ہے تووہ زیادہ سود مند اور دیر پا ثابت نہیں ہوتا،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وقتی منفعتوں اور مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ایسی بنیاد تلاش کی جائے جس پر امت مسلمہ کا اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی مضبوط و مستحکم عمارت تعمیرکی جا سکے اور یہ اتحاد اسلام کی سر بلندی اور مسلمانوں کی ملی و قومی اور مسلکی واختلافی مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکے۔عالم اسلام کی نازک صورتحال اور خود پاکستانی مسلمانوں کی حالت زار اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تمام مسلمان خصوصا وارثین انبیا اتحاد اور اجتماعیت کی دعوت دینے اور اس کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ عملی پروگرام اور لائحہ عمل بھی بنائیں اس صورت میں امت مسلمہ کے اندر اتحاد و اتفاق قائم ہو سکتا ہے اور اس کا کھویا ہوا وقار بھی واپس آ سکتا ہے۔امت مسلمہ کا وہی اتحاد مفید و پائیدار ہوگا جو کتاب و سنت پر عمل کے جذبہ اور صحیح نیت سے ہو،اپنے مفادات پر مسلمانوں کے متحد ہونے کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اسلام کو ایسے اتحاد کی ضرورت ہے اس نوعیت کے اتحاد سے اگر عارضی طور پر کوئی مقصد حاصل بھی ہوگا تو بعد میں امت کو اس سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا،مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قول و عمل کا تضاد اورحق پرستی کا بیجا غرور ہے ہم زبان سے بات اتحاد کی کرتے ہیں لیکن ہمارا عمل افتراق پیدا کرتا ہے۔