گلگت بلتستان کو آزادکشمیر طرز کا نظام دیا جائے، جماعت اسلامی

جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر گلگت بلتستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں گلگت بلتستان کے حوالے سے متفقہ طور پر قرار منظور کی گئی جس میں لکھا گیا ہے کہ مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس حکومت پاکستان کی جانب سے وفاقی سطح پر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے کمیٹی کی پیش رفت پرشدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے اندر ''بھارت کی مودی سرکار نے 5اگست 2019ء کی کارروائی کے نتیجے میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو نقصان پہنچایا اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی پامالی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے'' کا حصہ بننے سے گزیر کرے اور گلگت بلتستان کو آئینی اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے آزا دکشمیر طرز کے ایک مکمل باوقار و با اختیار نظام دیا جائے۔ اجلاس کا یہ احساس ہے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے وعدوں پر عمل درآمد سے قاصر ہے۔ عوام بنیادی سہولیات پینے کے صاف پانی اور بجلی تک سے محروم ہیں۔ لیکن گلگت بلتستان کی حکومت نے اس جانب کوئی پیش رفت نہیں کی۔مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔نیز بجلی کی کمی کو فوراً پورا کرنے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے گلگت میں ھینزل پاور پراجیکٹ اور دیگر منصوبوں پر فوراً کام کاآغاز کیا جائے،گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے ہے لیکن کوئی خاص پراجیکٹ نہ رکھنے سے گلگت بلتستان کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان 3اکنامک زون،بجلی کے تمام منصوبے،شونٹر ٹنل،استور روڈ،بابوسرٹاپ روڈ کو سی پیک کا حصہ بنائے،میرٹ کی بنیاد پر عدلیہ سمیت تمام اداروں میں فرقہ واریت کی بجائے اہلیت کی بنیاد پر تعیناتی کا اہتمام کرے،مہنگائی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں،حکومت پاکستان گلگت بلتستان میں پہلے سے اعلان کردہ اضلاع،تانگیر،داریل،یاسین،اوندوکا فوری نوٹیفکیشن جاری کرے،اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں کر کے شیڈول کا اعلان کرے،تمام اداروں میں نئی تخلیق شدہ اسامیوں کو مشتہر کیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں عمل میں لائی جائیں،اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرزسمیت نرسنگ سٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے۔