Image

ایف اے ٹی ایف اور پاکستان

پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے پاکستان کو مبارک ہو کہ ایف اے ٹی ایف نے دونوں ایکشن پلان کو مکمل قرار دیا ہے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ عالمی برادری نے متفقہ طور پر ہماری کوششوں اور کاوشوں کو تسلیم کیا ہے، ہماری یہ کامیابی چار سال کے ہمارے مشکل اور چیلنجنگ سفر کا ثمر ہے۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان اس کامیابی کے سفر کو جاری رکھنے اور اپنی معیشت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔انہوں نے اس کامیابی پر ایف اے ٹی ایف کے نکات پر کام کرنے والی پاکستان کی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔دوسری طرف، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کی تکمیل بڑی کامیابی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی وائٹ لسٹ میں شمولیت کی راہ ہموار کرنے میں یہ یادگار کوشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل ہیڈکوارٹر کے کور سیل نے قومی کوششوں کو آگے بڑھایا اور سول ملٹری ٹیم نے ایکشن پلان پر عمل درآمد کو ممکن بنایا جس کے سبب پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوا۔وزیر برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ شازیہ مری نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اچھی خبر ہے۔ پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خاتمے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر قابو پانے کے لیے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرکے بہت اقدامات کیے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین نے مکمل اجلاس میں شرکت کی، مبصرین میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ‘ اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس شامل تھے۔چین اور کچھ دیگر اتحادی خاموشی سے پاکستان کو تازہ ترین اجلاس کے دوران گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے سرگرم ہیں اور اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں بھی اس خاموش لابنگ کا ذکر کیا گیا تھا جس کی قیادت چین کر رہا ہے اور ایک بھارتی خبر رساں ادارے نے اطلاع دی تھی کہ اجلاس میں ممکنہ طور پر پاکستان کو ان ممالک کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے گا جو زیر نگرانی ہیں، جسے عام طور پر گرے لسٹ کہا جاتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف سمیت مختلف جماعتوں کے سیاستدانوں اور صحافیوں نے آج سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیے جانے کا امکان ہے، البتہ برلن میں پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والی وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے خبردار کیا تھا کہ نتائج کے بارے میں متعصب اور قیاس آرائی پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔کہا جا رہا تھااس وقت دستیاب معلومات کے مطابق نتیجہ پاکستان کے حق میں آنے کی توقع ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر ملک کو فہرست سے نکال دیا گیا تو بھی معاملات طے کرنے میں سات سے آٹھ ماہ لگیں گے۔ اگر پاکستان فہرست سے نکلتا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی ٹیم ملک کا دورہ کرے گی تاکہ وہ اپنا اطمینان کر سکے کہ اس کی سفارشات پر کام مکمل ہوگیا ہے۔ےہ بھی کہا گےا تھاکہ نو اپریل کو لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا فیصلہ بھی پاکستان کو اس فہرست سے نکالنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے جس میں عدالت نے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کے الزام میں 33 سال کے لیے جیل بھیج دیا تھا۔فہرست سے پاکستان کو نکالنے کے اقدام کی حمایت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ دو مقدمات جن کی وجہ سے حافظ سعید کو قید کیا گیا، وہ پاکستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے دائر کیے تھے۔مارچ میں پیرس میں منعقد ہونے والی اپنی آخری پلینری میں ایف اے ٹی ایف نے نوٹ کیا تھا کہ پاکستان نے اپنے 2018 کے ایکشن پلان میں 27 میں سے 26 کو مکمل کر لیا ہے، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جلد سے جلد ایک باقی ماندہ شے پر توجہ دے جو دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماں اور کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے ہے۔ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے جون 2021 میں جن سات ایکشن پلانز اور سفارشات پر عمل کرنے کو کہا گیا تھا ان میں سے بھی چھے کو پورا کر لیا گیا ہے۔تازہ ترین پلینری سیشن کے لیے وزارت خارجہ نے ایک پریزنٹیشن تیار کی تھی جس میں دکھایا گیا تھا کہ پاکستان نے کس طرح تمام 27 کام مکمل کیے جو اسے دیے گئے تھے۔فہرست سے پاکستان کے ممکنہ اخراج کے بارے میں جاری قیاس آرائیاں عروج پر پہنچ گئی تھیں اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق کابینہ اراکین نے دعوی کیا تھا کہ اس کا کریڈٹ تحریک انصاف کو جاتا ہے۔سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ گرے لسٹ سے نکلنا حماد اظہر کا ایک اور بڑا کارنامہ ہے جو سابق وزیر توانائی اور انسداد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت پر کوششوں کے لیے حکومت کے اعلی رابطہ کار بھی تھے۔وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے تمام ایکشن پلانز پر عمل درآمد کیا اور ملک گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لیے ایک قدم دور ہے۔ یہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے، پہلا ایکشن پلان بہت طویل تھا لیکن یہ ایکشن پلان ہم نے مقررہ وقت سے قبل پورا کرلیا، اس کو ایف اے ٹی ایف کے تمام اراکین نے تسلیم کیا اور پاکستان کی تیز رفتار پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف اراکین نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی سے بہترین انداز میں مقابلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم نے دیکھا کہ ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ پاکستان تمام تر تکنیکی بینج مارک سے نمٹا اور 2018 اور 2021 میں دیے گئے تمام ایکشن پلانز پر کامیابی سے عمل درآمد کیا۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلانز کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی ٹیم پاکستان بھیجے گا، میں یہ ابہام دور کرتی چلوں کہ یہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے پلان کا ایک حصہ ہے جب آپ کسی بھی ملک کو گرے لسٹ سے نکالنے اجازت دیتے ہیں تو آپ تکنیکی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں جو پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کے دورہ پاکستان کے شیڈول پر کام کر رہی ہے دورے کی تاریخ مشترکہ گفتگو کے بعد طے کی جائے گی۔ایف اے ٹی ایف نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان پر 2021 میں وقت سے پہلے ہی عمل کر لیا تھا، اسی طرح 2018 کا ایکشن پلان بھی کامیابی سے مکمل کیا گیا تھا اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان نے گزشتہ سال ایکشن پلانز میں کامیابی سے متعلق تین پیش رفت رپورٹس ایف اے ٹی ایف کو پیش کیں، جس میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابی کا حوالہ دیا گیا۔ مجھے اعلان کرنے میں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلانز کے تمام سات پوائنٹس پر مقررہ وقت میں کامیابی سے عمل درآمد کیا۔ ہم مکمل قومی اتفاقِ رائے کو اجاگر کرتے رہے ہیں، میں یقین دہانی کرواتی ہوں کہ حکومت اپنے وعدے کو پورے کرتے ہوئے قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ اس مرحلے کو آگے بڑھائے گی۔ میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتی ہوں کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون ہماری معیشت کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں بہتری سے متعلق حکمتِ عملی کے مقاصد پر مبنی ہے۔ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے منگل کو جرمنی کے شہر برلن میں شروع ہونے والے چار روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چونتےس نکات پر مشتمل دوعلیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں، تاہم پاکستان کو آج گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا۔مارکس پلیئر نے پاکستان کی جانب سے کی گئیں اصلاحات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اچھا ہے۔ پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی فنڈنگ پر موثر طریقے سے قابو پالیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کیے گئے دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنما اور کمانڈرز کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت کی تحقیقات میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے ساتھ منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور قانونی چارہ جوئی میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔ایف اے ٹی ایف نے مزید بتایا کہ پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان پر 2021 میں وقت سے قبل ہی عمل کر لیا تھا۔