Image

پنجاب کے ضمنی الیکشن اورمریم نواز

اسلم لودھی
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مریم نواز کے بغیر اب پاکستان کی سیاسی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ۔ وہ ایک قد آور سیاسی شخصیت کے طور پر ابھرکر نہ صرف سامنے آئی ہیں بلکہ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کا مقدمہ بھی انتہائی جاندار طریقہ سے کچھ اس انداز میں لڑا کہ ان کے دشمن بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد ارشد کے بارے میں ایک ویڈیو کو متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنے والد کو مصر کے سابق صدر مرسی کی طرح نہیں مرنے دوں گی ۔اس وقت میاں نواز شریف جیل میں قید تھے اور جسمانی طور پر بہت کمزور اور لاغر ہوچکے تھے ۔پھر دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ نواز شریف نہ صرف جیل سے رہا ہوئے بلکہ نیب کے شکنجوں سے بہت دور لندن جا پہنچے جہاں ان کی صحت قابل رشک حد تک بہترہو رہی ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے ساتھ ساتھ اس میں مریم نواز کی کاوشوں کا بے حد عمل دخل شامل ہے ۔کہا یہ جاتا ہے کہ مریم نواز نے بہت نازو نعم کے ماحول میں جنم لیا اور اقتدار اور دولت کی ریل پیل میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ۔صفدر اعوان سے شادی کی ، بیٹی کو جنم دیا ، ماشاء اللہ اب وہ نواسے کی شادی کی خوشیاں بھی منا چکی ہیں ۔ وہ اپنے والد کے ساتھ کئی مہینے تک اڈیالہ جیل میں قید بھی کاٹ چکی ہیں ۔انہوں نے کسی بھی لمحے خود کو کمزور نہیں ہونے دیا، بالاخر وہ قید سے رہائی پانے کے ساتھ ساتھ اپنی زور دار تقریروں کی بدولت عمران خان کے برابر آ کھڑی ہوئی ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی سیاسی زندگی میں نواز شریف کا حوالہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور نواز شریف کے خلاف جتنا بھی پروپیگنڈہ کیا جائے لیکن پاکستان کا بالعموم اور پنجاب کا بالخصوص ایک وسیع حلقہ انہیں نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ ہر الیکشن میں انہیں ووٹ دے کر اپنی محبت کا اظہار بھی کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے تعاون کے باوجود عمران خان کو 2018 کے الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی سیاسی وارث مریم نواز ہی ہے ،جو اپنی گفتگو اور تقریروں میں نواز شریف کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ذہنوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں ۔ پنجاب اسمبلی کے وہ ممبران جنہوں نے تحریک انصاف سے بغاوت کرکے حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا اور الیکشن کمیشن نے انہیں ڈی سیٹ کردیا تھا۔ 17جولائی 2022 کو ان کی خالی ہونے والی نشستوں پر الیکشن ہوئے ۔میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما حکومتی ذمہ داریوں کی بناپر الیکشن کمپیئن میں حصہ نہیں لے سکے ۔ اس لیے تمام تر ذمہ داری اکیلی مریم نواز پر آن پڑی ۔ان کے مقابلے میں کوئی عام شخص ہوتا تو بہت پہلے بھاگ جاتا لیکن ان کا مقابلہ عمران خان سے ہے جو شعلہ بیان تقریروں اور دوسروں پر تابڑ توڑ حملہ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔وہ جہاں بھی جاتے ہیں ، لوگ ان کی تقریر سننے کے لیے دوڑے چلے آتے  ، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ عمران خان اس وقت اپنی بد ترین حکومتی ناکامیوں کے باوجود مقبولیت کی معراج پر اس لیے پہنچ چکے ہیں کہ پہلے انہوں امریکی سازش کا ذکر کرکے لوگوں کو ہمنوا بنایا ، اب امپورٹڈ حکومت کا الزام لگاکر عوام کے دل جیتنے کی جستجوکر رہے ہیں ۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے اور موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیا ر ہیں ۔ان کی ہرممکن کوشش ہے کہ وہ دوبارہ وزارت عظمی پر فائز ہوجائیں۔ اس کے برعکس شہباز شریف ایک ایسی نازک شاک پر بیٹھے ہوئے قومی معیشت کو سنبھالنے کی جستجو کر رہے ہیں جن کی اتحادی حکومت کے قائم رہنے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔چند ممبران اسمبلی بھی ادھر ادھر ہو گئے تو حکومت ختم ہوسکتی ہے ۔ ان نازک حالات میں عمران خان کے تابڑ توڑ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مریم نواز سینہ سپر رہیں ۔اگر عمران خاں کے جلسے بڑے ہیں تو مریم نواز کے جلسوں میں بھی اتنے ہی لوگ شریک ہوئے ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پنجاب کا ضمنی الیکشن عمران خان اور مریم نواز کے لیے امتحان بن چکاتھا۔لگتا ہے آنے والے پانچ سات سالوں میں مریم نواز کو وزیراعظم پاکستان بننے سے کوئی نہیں روک سکتالیکن اس منصب پر فائز ہونے کے لیے مریم نواز کو خیبرپخونخوا ، سندھ اور بلوچستان کا رخ بھی کرنا ہوگا تاکہ بینظیر بھٹو کی طرح وہ چاروں صوبوں کی زنجیر کہلا سکیں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جزو لاینفک بن جائیں۔