Image

شہید کی موت: قوم کی حیات



بلوچستان میں ہونے والے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ پہنچے ۔آرمی چیف نے کوئٹہ گیریژن میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور بریگیڈیئر محمد خالد شہید کی نماز نمازہ ادا کی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی، وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزرا اور دیگر اہم و عسکری شخصیات کے علاوہ عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دونوں فوجی افسران کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ علاوہ ازیں آرمی چیف زیارت میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل لیئق بیگ مرزا شہید کے اہل خانہ سے بھی ملے۔نماز جنازہ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور بریگیڈیئر محمد خالد شہیدکا جسد خاکی راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔علاوہ ازیں میجر جنرل طلحہ منان کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کردی گئی، جس میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور کور کمانڈر راولپنڈی ساحر شمشاد نے بھی شرکت کی۔ میجر محمد سعید کی نماز جنازہ لاڑکانہ میں ان کے آبائی علاقے میں ادا کی گئی۔ نائیک مدثر فیاض کی نماز جنازہ شکر گڑھ نارووال میں ادا کی گئی۔ تینوں شہدا کی تدفین کے وقت انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ راولپنڈی کے ریس کورس گرائونڈ میں ادا کی جائے گی، جس میں صدر پاکستان سمیت اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ اس سلسلے میں راولپنڈی پولیس نے خصوصی سیکیورٹی پلان جاری کردیا ہے، جس کے تحت راولپنڈی اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ نماز جنازہ کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔بلوچستان میں حادثے کا شکار ہونے والے پاک فوج کے لاپتا ہیلی کاپٹر کا ملبہ گزشتہ روز مل گیا تھا، جس میں سوار کور کمانڈر کوئٹہ سمیت تمام چھے افسران و جوانوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے مطابق گزشتہ روز بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصرف پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا تھا جس میں بارہ کور کے کمانڈر سمیت چھے افراد سوار تھے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو خراب موسم کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ہیلی کاپٹر کا ملبہ لسبیلہ کے علاقے وندر میں موسی گوٹھ سے ملا۔ واقعے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چھے افسران اور سپاہی شہید ہوگئے جن میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بھی شامل ہیں۔شہدا میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔شہید کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی تمغہ بسالت تھے۔ انہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو مرتبہ بہادری پر تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ بریگیڈیئر امجد حنیف راولاکوٹ آزادکشمیر کے رہائشی اور ایک بیٹی اور دوبیٹوں کے والد تھے۔شہید بریگیڈیئر محمد خالد فیصل آباد کے رہائشی تھے ۔ ان کا تعلق کور آف انجینئرز سے تھا۔ انہوں نے ضرب عضب کے دوران بارودی سرنگوں اور دیگر آئی ای ڈیز کی صفائی کو یقینی بنایا۔ اب انجینئرز کور سے ہونے کے ناتے وہ بلوچستان میں ریسکیو اور ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی قیادت کر رہے تھے۔شہید میجر سعید احمد پائلٹ ایک بیٹا اور بیٹی کے والد تھے۔ ان کا تعلق لاڑکانہ سے تھا۔ شہید میجر محمد طلحہ منان کو پائلٹ کے دوبیٹے ہیں۔ کریو چیف نائیک مدثر فیاض شادی شدہ اورنارووال کے رہائشی تھے۔سیلاب کے حوالے سے امدادی کارروائیوں میں شریک اس ہیلی کاپٹر کا ملبہ وندر کے علاقے میں موسی گوٹھ سے ملا۔آرمی ایوی ایشن کا یہ ہیلی کاپٹر پیر کی شام اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔ ہیلی کاپٹر پانچ بج کر دس منٹ پر اوتھل کے علاقے سے اڑا اور اس نے چھ بج کر پانچ منٹ پر کراچی پہنچنا تھا تاہم راستے میں اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد اس کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا تھا جس میں منگل کی صبح ہیلی کاپٹر بھی شامل ہوئے تھے۔بتایا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ ساکران میں موسی گوٹھ کے علاقے سے ایک پہاڑی سے ملا ہے اور پولیس کے علاوہ ایف سی اور فوج کے اہلکار بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے ہیں۔تلاش کے سلسلے میں جب مقامی لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آخری مرتبہ پولیس سٹیشن ساکران کی حدود میں ہیلی کاپٹر کے گزرنے کی آواز سنی گئی تھی۔ بلوچستان کا ضلع لسبیلہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔منگل کی صبح سے لاپتہ ہیلی کاپٹر کی تلاش کے لیے فضائی سرچ کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ۔ضلع کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جہاں انتظامیہ، پاکستانی فوج، ایف سی اور پاکستان نیوی کے اہلکار امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔لسبیلہ میں انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ پیر کو لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خود وہاں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے پہنچے تھے تاکہ ان میں تیزی لائی جا سکے۔ڈی آئی جی پولیس قلات رینج پرویز خان عمرانی کے مطابق کور کمانڈر نے پیر کو اوتھل میں ریلیف کی سرگرمیوں سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کی تھی اور کراچی روانگی سے پہلے انہوں نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا تھا۔اہلکار کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر اور دیگر فوجی اہلکار شام پانچ بجے کے قریب اوتھل سے ہیلی کاپٹر میں روانہ ہوئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے تھا اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے۔ جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔اس کے بعد وہ امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے میں بطور ڈیفینس اتاشی خدمات سرانجام دیتے رہے۔امریکہ سے واپسی کے بعد لیفٹننٹ جنرل سرفراز علی سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے جس کے بعد وہ ملٹری انٹیلی جنس یعنی ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ایم آئی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہ ایف سی بلوچستان ساتھ کے آئی جی تعینات ہوئے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ہونے کے بعد انہیں کور کمانڈر 12کور، جسے کوئٹہ کور بھی کہا جاتا ہے، تعینات کیا گیا تھا۔ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر افراد میں ڈی جی کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی کی گزشتہ ہفتے آرمی کے پروموشن بورڈ کے دوران میجر جنرل کے رینک میں ترقی ہوئی تھی۔حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر ایکریل ہے جو جدید مگر سائز میں چھوٹا ہوتا ہے۔اس میں ایک وقت میں صرف چھ افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔اس سے قبل یہ ہیلی کاپٹر 2021 میں سیاچن میں بھی گرا تھا۔ یہ حادثہ ٹین این ایل آئی بٹالین ہیڈکوارٹر کے قریب پیش آیا تھا اور جہاز میں سوار دو افسران اور ایک جوان شہید ہوئے تھے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں پر مامور پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کمانڈر 12 کور اور دیگر سوار فوجی افسران کی حفاظت کی دعا کی۔ علاوہ ازیں صدر مملکت کی جانب سے سرچ آپریشن کی کامیابی کی بھی دعا کی گئی۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ پوری قوم اللہ تعالی کے حضور سیلاب متاثرین کی مدد پر نکلنے والے وطن کے ان بیٹوں کی سلامتی، حفاظت اور بخیریت واپسی کے لیے دعا گو ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور  بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں فوجی افسران اور  جوانوں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ایوان صدر  سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے صدر مملکت کو بتایا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران خراب موسم کی وجہ سے حد نگاہ کم ہوئی جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹرکو حادثہ پیش آیا۔آرمی چیف نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرکا ملبہ حاصل کرلیا گیا اور تمام فوجی افسران و جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ایوان صدر کے مطابق آرمی چیف سے گفتگو میں صدر مملکت نے شہدا کے جنازے میں بنفسِ نفیس شرکت کرنے اور اہل خانہ سے اظہار  تعزیت کرنیکا بھی ذکرکیا۔ شہید کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کے لیے سابق وزیراعظم نے جن تین افراد کے انٹرویو کیے تھے ان میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بھی شامل تھے۔ ادارہ اتنے بڑے قومی نقصان پر دعا گو ہے کہ اللہ شہداء کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق مرحمت فرمائے آمین۔