گلگت بلتستان میں بھرتیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے بھرتیوں پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے،وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ ایف سی کی تعیناتی کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے گلگت بلتستان میں امن وامان کے قیام کے لئے سابق حکومتوں کی درخواست پر وفاقی حکومت نے جو ایف سی اہلکار صوبے میں تعینات کررکھے ہیں ان میں سے ہی 120اہلکار وں کوجنگلات کی حفاظت کے فرائض سونپے جارہے ہیں ،وزیراعلیٰ خالد خورشید نے بے روزگاری پر قابو پانے اور سرکاری امور کو احسن طور پر چلانے کے لئے خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا حکم دے دیا ہے،وزیراعلیٰ نے سرکاری محکموں کو ہدایت کی ہے کہ جنوری کے دوسرے ہفتے میں خالی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے ،وزیراعلیٰ نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ تمام محکمے بھرتیوں میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔ادھر اسلام آباد میں داریل یوتھ آرگنائزیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد خورشید نے کہا کہ  گلگت بلتستان میں جنگلات کے تحفظ کیلئے  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور میں  تعینات  ہونے والے ایف سی  اہلکاروں کو دیامر میں تعینات کیا جا رہا ہے.  سوشل میڈیامیں پروپیگنڈہ کرنے والے پہلے حقائق کو جاننے کی کوشش کریں،تقریب میں وزیر اطلاعات و پلاننگ فتح اللہ خان، وزیر صحت حاجی گلبر خان، ممبر اسمبلی ثریا زمان، انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان ڈاکٹر مجیب الرحمن، ڈاکٹر زمان، داریل یوتھ اور گلگت بلتستان کے اسلام آباد راولپنڈی میں مقیم طلباء اور لوگ شریک تھے. وزیر اعلیٰ خالد خورشید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر توجہ داریل تانگیر اور گانچھے  پر ہے  کیونکہ یہ علاقے ہمیشہ سے نظر انداز رہے ہیں  اور سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہیں. گلگت بلتستان بالخصوص دیامر میں تعلیمی مسائل بہت زیادہ ہیں. تانگیر میں صرف 7 فیصد خواتین تعلیم یافتہ ہیں جبکہ داریل کے حوالے سے ایک غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ داریل کے لوگ دہشت گرد ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں ماضی میں داریل عروج پر رہا لیکن  اب زاول کا شکار کیوں ہے. داریل اور دیامر خواتین ایجوکیشن میں اس قدر پیچھے کیوں ہیں ہمیں سوچنا ہوگا. ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خواتین  کی درسگاہوں کو کیوں جلایا جاتا ہے. داریل کی عوام ڈیمانڈ کریں جتنے خواتین کے تعلیمی ادارے چاہیے ہم دینے کیلئے تیار ہیں   . وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنگلات کے اوپر سابق حکومتوں نے کام نہیں کیا سابق حکمران ملازمین کو بھرتی کرتے رہے ,سکول اور ہسپتال ویران ہیں کہیں بلڈنگز موجود ہیں تو اسٹاف نہیں تو کہیں پی سی فور تک موجود نہیں ہے ہم اس نظام کو بدلنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،. پورے گلگت بلتستان میں صرف 70 نرسز ہیں اس صورتحال میں کیسے صحت کی بہتر سہولیات دے سکتے ہیں. پورے گلگت بلتستان میں اس وقت بھی  2004 کے پی سی فور اس طرح پڑے ہوئے ہیں۔ . ایف سی ہم نہیں لائے بلکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور سے جو تعینات ہیں انہی میں سے 120 اہلکاروں کو دیامر کے جنگلات کی حفاظت کیلئے تعینات کیا جا رہا ہے. گلگت بلتستان میں پولیس کی تعداد بہت کم ہے ,ایس پی کی سیٹیں خالی ہیں. نگر میں اے سی موجود ہے مگر اس کے زیر نگران تحصیلدار تک موجود نہیں. ہمارے جنگلات دن بہ دن کم ہو رہے ہے ,گلیشر سوکھ رہے ہیں ,چراگاہ ختم ہو رہی ہیں ,جنگلات کا تحفظ  کرنا  ضروری ہے. وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ داریل میں تعلیمی ادارے بنائیں گے اور اسمیں نوکریاں   ْخواتین کو دیں گے، داریل میں موجود ثقافتی مقامات کو دوبارہ بنائیں گے. گلگت بلتستان کے صرف دو اضلاع کے ڈی ایچ کیو چل رہے ہیں. آٹھ اضلاع کے ڈی ایچ کیوز کو رن اپ کریں گے۔اس سے فائدہ یہ  ہوگا کہ سکردو اور گلگت ڈی ایچ کیوپربوجھ کم ہوگا. ان اضلاع کے لوگوں کو دور دارز علاج کیلئے نہیں جانا ہوگا. اسلام آباد پنڈی نہیں آنا ہوگا جبکہ ہیلتھ کیلئے مارچ سے ہیلتھ کارڈ شروع ہوگا, کسی بھی قوم کی یوتھ ہی نظریات بدلتی ہے ,میری یوتھ سے امید ہے کہ گلگت بلتستان کو وہ مثبت سوچ کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔دیامر سمیت گلگت بلتستان میں تعلیم اور صحت کیلئے انقلابی اقدامات کر رہے ہیں