گلگت بلتستان کابینہ میں متحدہ شامل، پی ٹی آئی عہدیداران ناراض

 پارٹی کے سینئر عہدیداروں کو نظر انداز کرکے ایم کیوایم کو صوبائی کابینہ میں شامل کرنے پر پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑگئی ہے اور بغاوت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے پارٹی کے کئی سنیئر عہدیداروں نے قیادت کو پیغام پہنچادیا ہے کہ اب وہ پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں چل سکتے قیادت کی جانب سے پارٹی کیلئے دن رات ایک کرکے کام کرنے والے عہدیداروں کو یقین دلایاگیا تھا کہ کابینہ میں انہیں ایڈجسٹ کیا جائیگا قیادت کی جانب سے عہدیداروں کو صبر وتحمل سے کام لینے کی ہدایت دی گئی تھی اوروعدہ کیاگیاتھاکہ مناسب وقت پر اہم عہدے پارٹی کے سینئرز کو دئیے جائیں گے۔ ایم کیوایم کابینہ میں ان ہوگئی مگر پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے سینئر عہدیدار پھر باہر رہے ایم کیوایم کے حسین شاہ کو کابینہ میں لیاگیاہے انہیں وزیر کے برابر مراعات ملیں گی۔ حسین شاہ متحدہ قومی مومنٹ گلگت بلتستان کے رہنما ہیں اور تعلق گلگت کے نواحی علاقے برمس سے ہے۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر گلگت بلتستان نے وزیر اعلی کی ہدایت پر گلگت بلتستان رولز آف بزنس 2009ء کے تحت حسین شاہ کی وزیر اعلی کے معاون خصوصی کی حیثیت سے تقرری کی ہے۔ گلگت بلتستان رولز آف بزنس 2009 ء کے تحت معاون خصوصی کا باقاعدہ دفتر ہوگا اور ان کی تنخواہ اور مراعات صوبائی وزیر کے برابر ہوں گی۔ وزیر اعلی نے نئے معاون خصوصی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا پورٹ فولیو سونپ دیا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ ایم کیوایم کو بغیر کسی مشاورت کے حکومت میں شامل کرنے پر پی ٹی آئی کے عہدیداروں اور کارکنوں میں بڑی تشویش پیدا ہوگئی ہے کئی عہدیداروں نے پارٹی کی مرکزی اورصوبائی قیادت سے صاف کہہ دیاہے کہ وہ مذید کسی قسم کے دھوکے میں آنے کیلئے تیار نہیں ہیں جلد پارٹی سے ناطہ توڑدیا جائیگا عہدیداروں کی دھمکی آمیز فون کالز سے مرکزی اور صوبائی قیادت بھی گومگوں کی کیفیت میں مبتلا ہے ایم کیوایم کو حکومت میں شامل کرنے پر احتجاج کرنے والے پارٹی رہنماوں سے یہی کہاگیاکہ وہ خود بے بس ہیں فیصلہ مرکز کی سطح پر ہواہے وفاق میں ایم کیوایم کا سہارا لینے کیلئے پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان میں عہدے کی قربانی دی ہے پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں نے قیادت سے کہاہے کہ وفاقی حکومت کو بچانے کیلئے پنجاب خیبر پختون خواہ میںقربانی کیوں نہیں دی گئی ہمیں قربانی کا بکرا بنانے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے ہر وقت وفاق کے مفادات کو بچانے کیلئے ہمیں قربانی کا بکرابنایا جاتا ہے اب کی بار ہمیں یہ قربانی منظور نہیں ہے کارکن اور عہدیدار اس بات پر شاکی نظر آرہے ہیں کہ پارٹی کے مرکزی چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے گلگت بلتستان کے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے رابطے توڑ دئیے ہیں ایک عہدیدار شکایت کرتے نظر آئے کہ سیف اللہ نیازی پہلے خود کارکنوں اور عہدیداروں سے فون پر رابطے میں رہتے تھے اب وہ عہدیداروں کے فون سننا گوارہ نہیں کرتے میسیج کرتے ہیں تو مسیج کے جواب نہیں دیتے ایک طرح سے سیف اللہ نیازی نے گلگت بلتستان کے پارٹی عہدیداروں سے تعلق ہی توڑ دیا ہے پارٹی کی مرکزی قیادت کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی کی وجہ سے گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی گھٹتی نظر آرہی ہے گورنر اور وزیراعلیٰ بھی پارٹی کے معاملات سے بالکل ہی لاتعلق ہوگئے کئی اضلاع میں پارٹی کے دفاتر بھی بند ہوگئے ہیں سکردو میں بھی پارٹی دفتر سے محروم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کارکن ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہیںکئی ماہ سے عہدوں کے منتظر پارٹی عہدیدار بھی ایم کیوایم کی حکومت میں اچانک انٹری کے بعد سخت ناراض دکھائی دے رہے ہیں کئی عہدیداروں نے عید کے بعد علاقائی سیاست میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیدیا ہے