کھیلوں کا گرتا معیار ذمہ دار کون؟


انگریزی کی بہت مشہور کہاوت ہے۔ جو بچے صرف پڑھائی میں مشغول رہتے ہیں جسمانی ورزش اور کھیلوں میں دلچسبی نہیں لیتے وہ کند ذہن ہو جاتے ہیں۔ جب برطانیہ نے نپولین بوناپارٹ کو 18 جون 1815 کو واٹر لو کے  مقام پر عبرت ناک شکست دیتے ہوئے  جنگ جیت لی تھی۔ تو اس جنگ کے فاتح کمانڈر انچیف لارڈ ولینگٹن کا مشہور زمانہ تاریحی جملہ، واٹر لو کی جنگ ایٹن سکول کے کھیل کے میدانوں میں جیتی گئی ہے۔ بچپن سے یہ سنتے آ رہے ہیں۔ ماں باپ پڑھائی کی اہمیت کو مانتے ہوئے اپنے تمام وسائل بچوں کی تعلیم پر لگا دیتے ہیں تاکہ ہمارے بچے اعلی تعلیم حاصل کر سکیں۔ہماری سوسائٹی کی سوچ کہ صرف تعلیم حاصل کر کے پیسہ کمانا ہے۔ پہلے وقتوں میں تعلیم کے ساتھ سپورٹس کو بھی اچھی خاصی اہمیت  دی جاتی تھی ۔پاکستان بننے  سے قبل تعلیمی درسگاہوں میں اسپورٹس کو ایک مضمون کے طور پر بھی پڑھایا جایا کرتا تھا۔ میرے والد مرحوم پرنس آف  ویلز کالج جموںوکشمیر میں زیرتعلیم رہے۔انہیں  ایک دن میں دو مرتبہ کالج جانا پڑتا۔ صبح تعلیم حاصل کرنے کے لئے اور دوسرے وقت سپورٹس کھیلنے کے لئے حاضری ضروری تھی۔ اگر کسی وجہ سے صبح کے وقت چھٹی کر لی جائے تو اس کی اجازت آسانی سے مل جاتی تھی مگر سپورٹس کی کلاس  میں چھٹی کسی  صورت میں  نہ دی جاتی۔ سپورٹس میں غیر حاضری کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔ طلبہ کے پاس جرمانہ دینے کی استطاعت نہیں ہوتی تھی لہذا شام میں غیر حاضری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد آپ  کسی بھی تعلیمی درسگاہ میں چلے جاتے تو آپ کو قومی ترانے کے آنے سے  پہلے علامہ محمد اقبال کی مشہور نظم  لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری سے دن کا آغاز ہوتا نظر آتا تھا۔ اسکولوں  میں صبح کی ابتدا اسمبلی سے ہوتی جس میں ہیڈ ماسٹر سمیت تمام اساتذہ کرام  اور تمام طلبہ موجود ہوتے تھے۔ بچوں کی اسمبلی میں حاضری  لازمی ہوتی تھی 13 اگست 1954 کے بعد قومی ترانہ اسمبلیوں کا لازمی حصہ بن گیا تھا۔ ایک زمانے میں انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن میں نیشنل کیڈٹ کور (NCC) کی ٹریننگ فوجی طرز پر کی جاتی۔ بچوں کو جسمانی ورزش اور فوجی مشقوں کے ساتھ نشانہ بازی کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ ٹریننگ مکمل ہونے پر طالب علم کو 20 اضافی نمبر دیے جاتے، اور وہ نمبر ٹوٹل نمبروں میں شامل ہونے سے بعض بچوں کی پوزیشن اچھی ہو جاتی۔یہ سلسلہ 1980کے اوائل تک چلتا رہا۔تعلیم کی اہمیت سے کسی کو کوئی بھی اختلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارے پیارے نبی پاک رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی طرف سے جو پہلا پیغام آیا اقرا یعنی پڑھو۔ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ سپورٹس کو بھی اہمیت دینی چاہئے۔آجکل کھیلوں  کو سائنس کادرجہ مل گیا۔ اب تو مختلف ملکوں میں سپورٹس میں ماسڑ، ایم فل، پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی ملنی شروع ہو چکی ہے۔  سپورٹس میں جسمانی مضبوطی کے ساتھ ساتھ دماغ کی نشو نما بھی ہوتی ہے۔ سپورٹس عام زندگی میں سب سے پہلے نظم و ضبط، وقت کی پابندی، مثبت رویہ، ٹیم ورک، ٹیم لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنا،ضروری بات یاد رکھیں بار بار ہارنے کے باوجود مقابلہ کرنے کا حوصلہ صرف سپورٹس ہی سکھاتی ہے۔ یہ جذبہ  آپ اور کہیں سے نہیں سیکھ سکتے۔ دنیا کے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اچھا سپورٹس مین اپنی دھن کا پکا ہوتا ہے۔ جتنا وہ ہارتا ہے اتنا ہی  جیتے کا جنون بڑھتا چلاجاتا ہے۔قدیم ادوار کی طرح موجودہ دور میں بھی ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جسکو میں  آپ کے گوش گزار کرنے لگا ہوں۔گوجرانوالہ کے ایک نوجوان جس کی 1980 میں لاہور  ڈویژن ہاکی ٹیم کے لئے سلیکشن ہوئی۔  نوجوان ٹرافی کا پہلا میچ کھیلنے کی خوشی میں ساری رات نیند سے لڑتا رہا۔ دسمبر کی سخت سردی میں صبح وقت سے پہلے گوجرنوالہ سے لاہور پہنچ گیا۔ وارم اپ کرنے کے بعد میچ شروع ہونے کے انتظار میں ٹیم کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ میچ شروع ہونے سے قبل منتظمین  میں سے ایک شخص اپنے روائتی انداز میں اس کی ٹیم کی طرف آیا اور اس نوجوان کا نام  پکارتے ہوئے  تیز آواز  میں بولا اپنی شرٹ اتار کر دوسرے کھلاڑی کو دے دو۔حالانکہ وہ ٹیم کا حصہ تھا۔ وہ  ہکابکا لاہور کی سحت ٹھنڈ میں نیکر اور بغیر بازوں کی بنیان میں سردی میں ٹھٹھرتا رہا، اور کپکپاتے ہوئے ایک ہی خیال دل میں آتا جا رہا تھا کہ آج سے میرا ہدف لاھور ڈویژن  نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیم ہو گا۔ یقین کریں وہ لڑکا پاکستان کی اس ٹیم کا حصہ تھا جس نے آخری مرتبہ 1984 میی لاس انیجلس امریکہ میں اولمپک میڈل جیتا تھا۔ میں لیفٹ آئوٹ خالد حمید کی بات کر رہا ہوں۔ ہماری تاریح ان جیسے گمنام ہیروں سے بھری پڑی ہے۔یہ ہمت اور حوصلہ صرف سپورٹس ہی سکھاتی ہے۔ شاید یہ پاکستان کا وہ سنہری دور تھا جب وسائل نہ ہونے کے باوجود ہم نے ہاکی، اسکواش میں کئی سال تک راج کیا۔ اسکواش  میں دنیا آج تک ہاشم خان، جہانگیر خان  اور جان شیر خان کو نہیں بھولی مگر ہم کھیلوں ان ہیروں کو بھی بھول چکے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کی انتہا دیکھیں فٹ بال کی گورنر باڈی FIFA نے ہماری فٹ بال فیڈریشن کی رکینت ایک مرتبہ پھر معطل کر دی ہے کیونکہ پاکستان میں فٹ بال کی دو نہیں بلکہ تین ایسوسی ایشن بیک وقت کام کر رہی تھیں۔ دنیا میں اس طرح بدنظمی، نااہلی اور شخصیات پرستی کی مثال کہیں دیکھنے  اور سننے کو نہیں ملتی۔ اس کی وجہ ہماری آپس میں نااتفاقی اور چند  عہدوں کی حکومتی بندر بانٹ کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔حالانکہ  آئندہ ورلڈ کپ پاکستان کے تیار کردہ فٹ بال سے کھیلا جائے گا۔تقریبا  چالیس سال قبل پرائیویٹ اسکول کھلنے کا دور شروع ہو گیا۔ ابتدا میں ٹیوشن سینٹر  کھولے جانے لگے جو ایک کمرے تک محدود تھے۔ بہت تیزی سے ان کی  تعداد بڑھنے لگی۔چند کاروباری حضرات نے محکمہ تعلیم کے بدعنوان عناصر کے ساتھ  مل کر پرائیویٹ اسکولوں کے لائسنس لیے اور  نئے تعلیی کاروباری ادارے کھولنے شروع کر دیے۔ اسطرح  کے تعلیمی ادارے، پانچ دس مرلہ اور ایک کنال کے رقبے میں بغیر گرائونڈ کے بننے شروع ہونے لگے۔ کمروں کی تعداد زیادہ ہوتی تاکہ زیادہ بچے داخل ہو سکیں۔ ان سکولوں میں پہلی جماعت کے بچے کی روٹین کو دیکھیں ۔ صبح اسکول۔ دوپہر میں کوچنگ  سینٹر ۔ شام میں مسجد اور گھر واپسی پر ہوم ورک اور دوسرے دن کی تیاری۔ اس میں پہلی کلاس سے بڑی جماعتوں تک بچوں  میں یہی روٹین رہتی ہے۔ بدقسمتی سے آجکل پاکستانی تعلیم میں کامیابی صرف نمبروں  کا کھیل بن کے رہ گئی ہے۔اب ستم ظریفی دیکھیں کہ اب تو مقابلے بچوں کی بجائے پرائیویٹ اسکولوں کے درمیان ہونے لگے ہیں ان نمبروں کی دوڑ میں کھیل اور گرائونڈ کو ہم نے بہت پیچھے جھوڑ دیا ہے۔ پہلے وقتوں میں سنتے تھے شوگر اور بلڈ پریشر کی بیماری زندگی کے آخرے حصے میں آتی تھی۔ آج نوجوان بھی ان مرضوں  کے شکار ہونے لگے ہیں  ایک تو جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا اور دوسرا نمبروں کی ٹینشن۔ کسی دانا کا بہت  مشہور قول ہے کہ، جس شہر کے گرائونڈ آباد ہوں اس کے ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں۔ آج کسی بڑے شہر کے کسی بھی گرائونڈ میں چلے جائیں صبح ہو یا شام آپکو سویٹ 60 کے بزرگ ملیں گے جو باقاعدگی سے مختلف ورزشیں کرتے نظر آئیں گے تاکہ وہ اپنے آپ کو فٹ رکھ سکیں۔ نوجوان طبقہ یا نمبروں کے چکر میں یا موبائل کے چکر میں ہر وقت مصروف۔اب اس کے نتائج نظر  آنے لگے ہیں۔ 2012 کے بعد اولمپک میں پاکستان ہاکی کی ٹیم کوالیفائی بھی نہیں کر سکی۔ سکواش آج کہاں ہے۔ کرکٹ کس حال میں ہے اور اتھلیٹکس کس حال میں ہے آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔اس سال جولائی میں جاپان ٹوکیو اولمپک مقابلے منعقد  ہونے جا رہے ہیں۔ جس میں دنیا کے 206 نیشنل اولمپیک کمیٹی (NOC) کے ممالک نمائندگی کریں گے۔ ان کھیلوں میں 11100 اتھلیٹس، 33 کھیلوں میں 339 ایونٹس ہوں گے۔ ہم آبادی کے لحاظ  سے پانچوں بڑا ملک ہونے کے ساتھ دنیا میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے کے باوجود ہم کرکٹ، ہاکی، اسکواش، سنوکر کے علاوہ بقیہ کھیلوں میں کوئی بھی نمایاں کامیابی حاصل  نہیں کر سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے جیسے جیسے گرائونڈز کم ہوتے گئے کھیل کے ساتھ کھلاڑی بھی کم پیدا ہونے لگے بلکہ ختم ہی سمجھیں ۔ میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اس اہم ایشو پر کوئی ایسے قانون بنائے  کہ کوئی بھی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ اس وقت تک رجسڑڈ نہ ہو جب تک وہ اپنی گرائونڈ انسپیکشن نہ کروا لے اس کے ساتھ ساتھ  سپورٹس اتھارٹیز اور تعلیمی اداروں کو فنڈ دیے جائیں تاکہ وہ کھیلوں کی سرگرمیوں کو دوبارہ  شروع کر سکیں تاکہ ہماری گرائونڈزکی رونقیں واپس آجائیں اور آنے والی نسلیں سپورٹس میں دنیا کے ساتھ مقابلہ کر کے پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔