ترقیاتی منصوب بروقت مکمل کرنے کی ہدایات

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی خوشحالی کا باعث بنے گی، وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں سیاحت کے فروغ اور شہروں کی منصوبہ بندی پر گفتگو کی گئی ،وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مجموعی طور پر انفراسٹرکچر کی صورتحال و بحالی پر بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا، گلگت بلتستان ترقیاتی پیکیج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ، اس موقع پر وزیر اعظم نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کو جاری ترقیاتی منصوبوں کی بر وقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گلگت میں سیاحت کی ترقی خوشحالی کا باعث بنے گی۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے حوالے سے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو وہ حقوق فراہم کرنے جارہی ہے جن کا وہ ستر سال سے انتظار کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں صرف زبانی جمع خرچ سے گلگت بلتستان کے عوام کو بہلایا جاتا رہا لیکن تحریک انصاف کی حکومت عوام کو حقوق کی فراہمی کے لئے ٹھوس بنیادوں پر کام کررہی ہے۔ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایات خوش آئند ہیں۔ہم جانتے ہں کہ منصوبوں کو طویل مدت تک لٹکائے رکھنے سے کام کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ منصوبے سے وابستہ فوائد حاصل نہ ہونا ایک اور طرح کا خسارہ ہے ۔یہ نقصان قومی خزانہ اور عوام برداشت کرتے ہیں جبکہ منصوبوں میں تاخیر کی ذمہ داری چند افراد کی ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر سال ترقیاتی بجٹ کا ایک قابلِ ذکر حصہ خرچ ہونے سے رہ جاتا ہے۔ ترقی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کیلئے کام کا رویہ بدلنا ضروری ہے اور ایسا اسی صورت ممکن ہے جب صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس معاملے میں سخت اصول بنا لیں کہ ترقیاتی منصوبوں کو بہر صورت اپنے ٹائم فریم کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ کام کی جانب رویہ یہ ہو گا تو نہ کوئی امداد یا قرضے کی رقم بے مصرف رہے گی نہ عوامی فائدے کے اہم منصوبے طویل مدتوں تک التوا کا شکار ہوں گے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ کام نہ کرنے والے یا ادھورا چھوڑنے والے ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کردیا جائے ۔محکمے اپنی غیر منظور شدہ سکیمیں فوری منظور کروا کر فنڈز جاری کروائیں بصورت دیگر متعلقہ محکمے کے افسران کو ذمہ داران قرار دیا جائے ۔ جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہیے ،روایت یہی رہی ہے کہ جاری منصوبوں کے فنڈز مالی سال کے آخری مہینوں میں ختم ہوجاتے ہیں۔ بجٹ میں ان کیلئے مزید فنڈز مختص کئے جاتے اور مالی سال کے تیسرے چوتھے مہینے میں خزانہ سے فنڈز جاری ہوتے تھے جس کی وجہ سے ان منصوبوں پرترقیاتی کام کئی مہینوں تک بند رہتا۔اور مدت تکمیل میں اضافے کی وجہ سے ان پر لاگت بھی بڑھ جاتی تھی۔جاری ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ بجٹ میں منظور کی گئی نئی سکیموں کیلئے بھی وسائل کی دستیابی مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں ممکن بنانے پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے تاکہ عوام بہبود کی نئی سکیموں پر فوری کام شروع ہوسکے اور ٹائم لائنز کے اندر ان کی تکمیل کو ممکن بنایاجاسکے۔ فنڈز کی دستیابی، پی سی ون اور نقشے میں تبدیلی اور دیگر وجوہات کی بنا پر ترقیاتی منصوبے اکثر تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور ان پر لاگت میں غیر معمولی اضافے سے معیشت پر بوجھ پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت کی معاشی ٹیم کو عوامی فلاح و بہبود کے دیگر منصوبوں کی مقررہ مدت اور وسائل کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنا چاہیے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ناقص کام کرنے والے کنٹریکٹرز کو بلیک لسٹ جبکہ اپنے فرائض سے غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں کو معطل کیا جائے ۔ تمام محکمے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کیلئے قائم مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن سیل کی رپورٹس کو سنجیدگی سے لیں اور ان رپورٹس میں جن نقائص اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی جائے انہیں فوری طور پر دور کرنے کیلئے مناسب اقدامات اٹھائیں، بصورت دیگر متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل تمام میگا منصوبوں کے پی سی ونز بروقت مکمل کرکے متعلقہ فورمز کو منظوری کیلئے پیش کی جائیں اور جو منصوبے اب تک منظور ہو چکے ہیں، ان پر عملی کام کا جلد آغا زکیاجائے۔سر براہ حکومت اور متعلقہ محکمے کے وزراء ہدایات کے بعد کم ہی ان ہدایات پر عملدرآمد میں پیشرفت کا جائزہ لیتے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کی سست رفتاری کی ایک بڑی وجہ سرکاری خزانے سے رقم کا تاخیر سے اجرا اور ٹھیکیداروں کو ادائیگی میں بلاوجہ کی رکاوٹیں کھڑی کرنا بھی ہوتاہے، اگر یہ رکاوٹ حائل نہ ہوں تو کسی کنٹریکٹر کے مفاد کا بہرحال تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ جلد سے جلد کام مکمل کر کے رقم وصول کرے اور کسی دوسرے کام میں لگ جائے، کم ہی ٹھیکیدار بلاوجہ یا پھر کاموں کی بہتات کے باعث تاخیر سے کام لیتے ہیں، تاخیر کا نقصان خود ان کو لاگت میں اضافے کی صورت میں ہوتا ہے۔ ان تمام امور کے باوجود بعض ترقیاتی کاموں میں سست روی کی جاتی ہے جسے سرکاری حکام کی غفلت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ حکومت کے حصے کے کاموں کو یقینی بنانے کے بعد ہی سرکاری ملازمین کو ذمہ داری سونپیں اور پھر تاخیر پر ان سے باز پرس کریں۔ سرکاری ملازمین اور ٹھیکیدار میں سے جو بھی ذمہ دار قرار پائے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔  ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں پر ملی بھگت سے نقائص اور کوتاہیوں کا پوری طرح مظاہرہ معمول کی بات ہے، کسی بھی سرکاری کام کے حوالے سے اطمینان سے یہ دعوی ممکن نہیں کہ مطلوبہ معیار کے مطابق کام کی تکمیل ہوئی ہے جو معاہدہ اور جس ڈیزائن اور معیار کا کام کاغذات میں ظاہر ہوتا ہے عملی طور پر کام اس کے برعکس ہی ہونا معمول کی بات ہے۔ اس عمل میں مانیٹرنگ اور ایوالویشن سیل کی بھی کارکردگی اور ملی بھگت اس لئے بھی شامل قرار پاتی ہے کہ ان کے بغیر ناقص اور معیاری کام کے باوجود ادائیگی اور تکمیل کی سند کا اجرا ممکن نہیں۔حکام اس ضمن میں خاص طور پر عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے بھی سرکاری ترقیاتی کاموں کے معیار سے خود کو باخبر رکھیں اور صرف سرکاری رپورٹوں پر اکتفا کی بجائے دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کا طریقہ اپنائیں تو سرکاری حکام ان کو گمراہ نہیں کر سکیں گے۔ جہاں تک عوامی ترقیاتی کاموں کی منظوری سے لیکر ان پر عملی طور پر کام شروع کرنے کے مرحلے کا سوال ہے یہ بڑے ہی غیر یقینی کاوقت ہوتا ہے،جب تک اعلی سطح پر معاملات کا میرٹ سے جائزہ لینے شفاف طریقے سے منظوری وشروع کرنے اور ابتدا سے لیکر تکمیل تک کے تمام مراحل کی مختلف اوقات میں نگرانی اور آگاہی کا عمل تسلسل سے نہ کیا جائے تو مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ استعمال ہونے والے مواد کو جانچنے کیلئے لیبارٹریز بنائی جائیں جن اضلاع میں سرے سے معیارومواد جانچنے کا سامان ہی موجود نہ ہو، سرکاری عمال اور ٹھیکیدار خوف خدا سے عاری ہوں، وہاں قومی خزانے سے بننے والے ترقیاتی کاموں کے معیار کے عالم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر توجہ دیئے بغیر  تعمیرات وترقیاتی کاموں میں معیار کو یقینی بنانا ممکن ہی نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں ہ صرف صوبائی سطح پر ہی نہیں مرکزی سطح پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے حالانکہ ہم آئی ایم ایف سمیت کئی بین الاقوامی اداروں سے قرض لیتے ہیں ۔یہ قرض متعدد منصوبوں کے لیے لیا جاتا ہے حکومتیں  ریکارڈ قرضے تو لیتی ہیں مگر ان کے اثرات عوام تک کیوں منتقل نہیں کیے جاتے؟ قومی رابطہ کمیٹی برائے غیر ملکی فنڈڈ منصوبہ جات کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے بین الاقوامی اداروں اور ممالک سے لیے گئے قرضہ جات میں سے 89 فیصد قرضے بالکل استعمال ہی نہیں کیے۔ غیر ملکی قرضوں کے درست استعمال نہ ہونے کے باعث پاکستان پر عالمی اداروں کا دبائو بڑھا دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان بھی اپنی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان عالمی اداروں سے دو اقسام کے قرض حاصل کرتا ہے۔ پہلی قسم کے قرض کو پروگرام لون جبکہ دوسری قسم کا قرض پراجیکٹ لون کہلاتا ہے۔ پروگرام لون بڑے ترقیاتی منصوبہ جات اور معاشی اصلاحات کیلئے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پراجیکٹ لون ایسے مخصوص منصوبوں کیلیے لیا جاتا ہے جن کی تکمیل ملکی وسائل سے ناممکن ہو لیکن یہ قرضے اس وقت تک سودمند ہوتے ہیں جب تک ان کا موثر استعمال نہیں کیا جاتا۔ بصورت دیگر یہ منصوبے مالیاتی خسارے کا باعث بن جاتے ہیں۔اس لیے قرضوں کے درست استعمال کے لیے ضروری ہے کہ بروقت منصوبے مکمل کیے جائیں تاکہ لیے گئے قرض کا درست استعمال ہو اورمنصوبوں کی لاگت میں بھی اضافہ نہ ہو۔