درست عدالتی رپورٹنگ کے بغیر عدلیہ کا وقار اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں،فواد

 وفاقی وزیر اطلاعات  ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ درست عدالتی رپورٹنگ کے بغیر عدلیہ کا وقار اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں، غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے نہ صرف عوام درست اطلاعات کے حق سے محروم رہتے ہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور عدلیہ کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے، قانونی صحافت میں صحافت اور قانون دونوں شامل ہوتے ہیں، عدلیہ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تربیت ضروری ہے، اس ضمن میں حکومت صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل مرتب کرے گی،صحافیوں کو ترجیحی بنیادوں پر صحت کارڈز فراہم کر رہے ہیں۔جمعہ کو وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین سے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے وفد نے  ملاقات کی۔وفد میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے صدر راجہ محسن اعجاز اور سیکریٹری جنرل عدیل سرفراز سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔ چوہدری فواد حسین کی نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی  اور کہا کہ درست عدالتی رپورٹنگ کے بغیر عدلیہ کا وقار اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں، عدلیہ کی کوریج کرنے والے صحافی ملک میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں،  عدالتی رپورٹنگ کی اہمیت دائر کردہ مقدمات جتنی ہے، مقدمات دائر ہونے سے پہلے درجنوں معاملات میں عدالتیں میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیتی ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے نہ صرف عوام درست اطلاعات کے حق سے محروم رہتے ہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور عدلیہ کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے،عدلیہ کا احترام سب پر لازم ہے، جن خبروں پر عدلیہ نوٹس لیتی ہے ان خبروں کا مستند ہونا ضروری ہے، قانونی صحافت میں صحافت اور قانون دونوں شامل ہوتے ہیں، عدلیہ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تربیت ضروری ہے، اس ضمن میں حکومت صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل مرتب کرے گی،صحافیوں کو ترجیحی بنیادوں پر صحت کارڈز فراہم کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے وفد کے مسائل سنے اور ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔