Image

سری لنکا کا رعایتی داموں پر خام تیل کیلئے روس سے رابطہ کرنے کا فیصلہ

سری لنکا کو اس وقت ایندھن کے شدید بحران کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے سری لنکن وزرا سستے داموں تیل کے حصول کےلیے روس اور قطرجائیں گے۔سری لنکن وزیر توانائی کنچنا وجے سیکرا نے بتایا کہ 2 وزرا 27 جون کو روس جاکر خام تیل کی خریداری پر بات کریں گے۔اس سے قبل سری لنکا نے مئی میں دبئی کی ایک کمپنی کے ذریعے 90 ہزار ٹن روسی تیل خریدا تھا۔مگر اب سری لنکن حکام تیل کی خریداری کے لیے براہ راست روسی حکومت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔وجے سیکرا نے کولمبو میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 2 وزرا روس جائیں گے جبکہ وہ خود 27 جون کو قطر جاکر رعایتی شرائط پر تیل کے حصول پر بات کریں گے۔اس سے قبل سری لنکن وزیر توانائی نے 25 جون کو اعلان کیا تھا کہ سری لنکا میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر لگ بھگ ختم ہوچکے ہیں کیونکہ بینکنگ وجوہات کے باعث نئی شپمنٹس تاخیر کا شکار ہوچکی ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت ایندھن کے ذخائرصرف 2 روز کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں اور ان کو بھی ضروری سروسز کے لیے مختص کیا جائے گا۔ایندھن کی کمی سے غیرضروری سرکاری اداروں کی بندش تاحکم ثانی بڑھادی گئی تھی۔وزیر توانائی نے کہا کہ ایندھن کی نئی شپمنٹس میں تاخیر کے باعث وہ گاڑیوں کے مالکان پر زور دیتے ہیں کہ وہ قطاروں میں لگنے سے گریز کریں۔ایندھن ذخائرمیں کمی کے باعث سری لنکا نے 26 جون کو پیٹرول کی قیمت میں 22 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ بھی کردیا۔خیال رہے کہ رواں برس سری لنکا میں پیٹرول کی قیمتوں میں تین گنا جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں چارگنا اضافہ ہوچکا ہے۔