Image

گلگت واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے، اصل مجرموں کو گرفتار کیا جائے،ملی وحدت کانفرنس


    گلگت(سٹاف رپورٹر) ملی یکجہتی کونسل گلگت بلتستان کے زیراہتمام ہونے والی ملی وحدت کانفرنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور بے گناہوں کی پکڑدھکڑ کے بجائے واقعہ کے اصل مجرموں کو گرفتار کیا جائے،ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں ملی وحدت کانفرنس منعقد ہوئی،کانفرنس میں  تمام مکاتب فکر کے علمائ،دینی و سیاسی قائدین ،وکلاء اہل دانش، ایکشن کمیٹی، تاجر رہنمائوں، دیامر یوتھ، دیامر علماء ،یوتھ کونسل اور دیگر عمائدین نے بھر پور شرکت کی کانفرنس میں شرکاء نے گلگت یاد گار چوک میں پیش آنے والے واقعہ کے نتیجے میں دو قیمتی جانیں ضائع ہونے اور 11 افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا،کانفرنس میں متفقہ طور پر اعلامیہ کی منظوری دی گئی ،اعلامیہ جماعت اسلامی کے مشتاق احمد ایڈووکیٹ نے پیش کیا،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یادگار چوک پر پیش آنے والے نا خوشگوار واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے تاکہ غیر جانب دار تحقیقات اورانصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور مجرموں کو بے نقاب کیا جاسکے ، کانفرنس کے شرکاء ملی یکجہتی کونسل کے تحت تمام مکاتب فکر کے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی مکمل تائید کرتے ہیں، گلگت بلتستان میں بھی تمام مکاتب فکر اس ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہوکر امن قائم کرنے کا عزم کرتے ہیں کانفرنس کاحکومت سے مطالبہ ہے کہ بیگناہ لوگوں کی پکڑ دھکڑ سے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے بجاے اصل مجرموں کو پکڑا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ،اعلامیہ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے سربراہان کی پرائیویٹ سیکورٹی ختم کی جائے اوراگر ان کی سیکورٹی بہت ضروری ہے تو حکومت خود سیکورٹی فراہم کرے تاکہ جتھوں کا کلچر ختم کیا جاسکے ،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان  میں 2013 سے مکمل امن اور بھائی چارے کی فضاء قائم ہوئی تھی جس میں تمام مکاتب فکر، علمائے کرام،دینی سیاسی جماعتوں ،اہل دانش اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی بھرپور محنت اور جدوجہد شامل رہی اس کے علاوہ ایکشن کمیٹی اور علماء  مشاورتی کونسل نے بھی امن کے قیام میں گرانقدر خدمات انجام دیں کانفرنس گلگت بلتستان میں اتحاد ویکجہتی کی فضاء کو نقصان پہنچانے والے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے، اس سے قبل ملی یکجہتی کونسل گلگت بلتستان کے صدر شیخ میرزاعلی نے کانفرنس سے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کو بنے ہوئے 2 سال ہوئے ہیں۔ اپنی بساط کے مطابق علاقے میں قیام کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ امن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ جی بی کو کسی صورت دہشتگردوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ جوانوں کو ہر فرد کا تحفظ کرنا ہوگا۔ سیکورٹی پلان ترتیب دینے کے بعد دلخراش واقعہ رونما ہونا افسوس کا مقام سب کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کی ذمہ داری  ملزموں اور سازش کاروں کو پکڑنے کی ہے اور میری ذمہ داری  محبتوں کو فرغ دینے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے تمام اجتماعات میں ملی یکجہتی کونسل اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ جہاں جہاں سے عزادار اور جلوس گزرتے ہیں امید رکھتے ہیں کہ اس علاقے کے اکابرین اپنا کرادار ادا کریں گے انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ یادگار چوک پر پیش آنے والا واقعہ آخری سانحہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ملی یکجہتی کونسل امن و اتحاد کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ دینی مشاورتی کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا سلطان رئیس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام اقدار' ثقافت اور تعلیم میں اول نمبر پر ہیں۔ انتظامیہ کمزور ہوتی ہے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔  جی بی کے عوام اہل علم اور علماء کی  قدر کرنے والے ہیں۔ آغا راحت کشروٹ آتے ہیں تو عوام گلدستہ پیش کرتے ہیں علم کی قدر کرتے ہیں۔ امن ہوگا تو سیاحت ہوگی معیشت بڑھے گی۔علاقے میں ایسا ماحول دیا گیا ہے کہ ہسپتال' کھیل کے گراونڈ اور تھانے تک تقسیم تھے۔ 2012ء  کے بعد اس علاقے کو امن کا گہوارہ بنایا گیا۔ مٹی زمین پانی فائدہ نقصان امن مشترک ہے دین کا حساب  الگ الگ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  یہ جو خون گرا اللہ کرے یہ آخری خون ہو۔ اس کے طفیل اللہ اس علاقے کو امن کا گہوراہ بنائے۔ انھوں نے کہا کہ اس جرم میں شریک اصل مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔ ملی یکجہتی کونسل اس طرح کے پروگراموں کو بند کمروں کی بجائے کھلے مقامات پر منعقد کروائے۔ معروف عالم دین شیخ نیئر عباس مصطفوی نے کہا ہے کہ ہمیں متحد رہنا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ ناخوشگوار واقعے کی ہر جگہ سے مذمت کی گئی ہے۔ جو کہ نیک شگون ہے۔ ایک خدا اور ایک رسول اللہ کے سایہ میں رہتے ہوئے   محبتوں والی زبان کو فروغ دینا ہوگا۔ ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر جمعہ دین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یادگار چوک امن پسندوں کا ہے۔ یہاں کے باسی امن پسند ہیں چند افراد کی وجہ سے انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ 2010 کے بعد محنت کر کے امن قائم کیا۔ ہمیں بروقت اطلاع کرتے۔ ہم خود ہی سیکورٹی کرتے۔ عہد کیا جائے کہ چوک چوراہوں میں امن کا درس دیں گے۔  ہم مسلمان ہیں کلمہ مسلمان ہونے کا پڑھتے ہیں شیعہ اور سنی بعد میں بنے ہیں۔ امن کے لئے ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہر جگہ جانے کے لیے تیار ہیں انجمن تاجران کے جنرل سیکرٹری مسعود الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اخلاقی تربیت کی شدید کمی ہے۔ سال بھر امن سے رہ کر محرم کے صرف 10 دن آرام سے نہیں بیٹھتے ہیں۔ امام عالی مقام  ہم سب کے ہیں  تو ساتھ ساتھ محرم الحرام کو کیوں نہیں منا سکتے ، قومی امن تحریک کے چیئرمین فدا حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مظلوم کے ساتھی ہیں امن پسند لوگ زیادہ ہیں۔ امن خراب کرنے والے افراد کو برداشت نہیں کریں گے۔   ن لیگ علماء  ونگ کے صدر مولانا نادر اشرفی نے کہا کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرنے کی ضرورت ہے زبردستی کرنے کے مرض سے باہر آئیں تو امن ہی امن ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عطاء  اللہ شہاب نے کہا کہ اس دلخراش واقعے کی  ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پرامن گلگت بلتستان میں اچانک ایک رخنہ پڑا، وقت پر تدارک نہیں کیا جو کہ قابل تنقید ہے۔ جوڈیشل انکوائری کراوائی جائے۔ سازش تھی یا حادثہ پتہ چلے گا۔ سازش تھی تو خطرناک بات ہے۔ ضلع دیامر اور نگر کے عمائدین نے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا جو کہ احسن اقدام ہے۔ مرکزی امامیہ کونسل کے صدر بلال حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  اس محرم کو مثالی بنانا چاہتے تھے۔ آغا راحت نے جمعہ کے خطبات اور میڈیا کے ذریعے کہا تھا کہ ایک دوسرے کے عائد کا احترام کریں اور دل آزاری نہ کرنے کا نہ صرف درس دیا بلکہ میڈیا کے ذزریعے تشہیر بھی کی گئی۔ پریس کلب میں تمام مکاتب فکر کے لئے مثبت پیغام دیا۔ پہلے ایک دوسرے کو مورد الزم ٹھہرایا جاتا تھا۔ آغا نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ یہ مسلکی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ دہشتگری ہوئی۔ دہشتگردوں کا کوئی مسلک نہیں ہے۔  دہشت گردوں کو بے نقاب کر کے سرعام لٹکایا جائے۔ دیامر کے علماء اور یوتھ کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مثبت پیغامات دیئے اور نگر کے عوام کو بھی سلام ہو کہ انہوں نے لاش سامنے رکھ کر  کہا کہ یہ کسی اہلسنت کا کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا سال بھر ساتھ رہتے ہیں اور محرم کے دس دنوں میں اختلافات کرتے ہیں۔ جو کہ قابل افسوس ہے۔ اہل تشیع کے مراجع کرام نے کہا ہے کہ کسی کی بھی توہین کرنا حرام ہیں انہوں نے کہا کہ امامیہ کونسل کی طرف سے داریل کھنبری امدادی سامان لے کر جانا تھا۔ سامان آفس میں موجود ہے بہت جلد پوری ٹیم کے ساتھ داریل کھنبری میں جاکر امدادی سامان تقسیم کریں گے۔ جماعت اسلامی کے مولانا عبدالسمیع نے کہا کہ امن و آشتی کی یہ فضا بڑھتی گئی تو کھلے مقامات پر بھی اس طرح کے پروگرامات منعقد کروائیں گے۔ نگر اور دیامر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں آغا راحت اور قاضی نثار نے امن کے لئے مثبت پیغامات دیئے ہیں۔ پوری یوتھ اور سول سوسائٹی نے حالیہ واقعے کی مذمت کی ہے۔ جماعت اسلامی امن کا فروغ ایمانی غیرت اور تقاضہ سمجھتی ہے۔ عالم دین ڈاکٹر عابد حسین مہدوی نے کہا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ کفر کے فتوے صرف یہاں کے لئے ہیں ایک دوسرے کا دفاع کیوں نہیں کرتے ہیں۔ لبنان دمشق ہر جگہ شیعہ سنی ایک بازو بن کر رہتے ہیں صرف یہاں پر الگ الگ ہیں مٹھی بھر دہشت گردوں کا تعلق کسی مسلک سے نہیں ہے۔ عنایت اللہ شمالی نے کہا کہ آج سے 22 سال پہلے جو جدوجہد کی ہے اس کے سب گواہ ہیں امن ہی میں سب کی نجات ہے نفرتوں کو مٹا کر ایک ہونے کی ضرورت ہے، مولانا وزیر صدیق ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر نے کہا کہ امن کی سب باتیں کرتے ہیں مگر بد امنی پھیلانے والوں کو پناہ کون دیتا ہے۔ سہولت کار کیوں بنتے ہیں۔ امن چاہتے ہیں تو مجرموں کو نشاندہی کریں اگر مخلص ہیں تو نفرت چھوڑ کر اصل مجرم کر سزا دیں۔