106

شاہراہ بلتستان ٹریفک کیلئے دوبارہ کھول دی گئی

سکردو(محمد اسحاق جلال) شاہراہ بلتستان تعمیراتی کمپنی کی غفلت نااہلی اور عدم دلچسپی کے باعث پہاڑ گرکر پندرہ گھنٹے بند رہنے کے بعد ٹریفک کیلئے دوبارہ کھول دی گئی روڈ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے بند ہوگیا تھا جمعہ کے روز دن ایک بجے روڈ کو ٹریفک کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا روڈ کی طویل بندش کے باعث شدید سردی میں مسافر کئی گھنٹے شنگس اور شاٹوٹ کے درمیان پھنسے رہے جس کی وجہ سے انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا متعلقہ تعمیراتی کمپنی کی غفلت نااہلی اور بے حسی کے باعث روڈ باربار بند ہونے پر مسافر سراپا احتجاج بن گئے شنگوس اور شاٹوٹ کے مقام پر کئی گھنٹے پھنس کر رہنے والے مسافروں نے گلگت سکردو روڈ کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ تعمیراتی کمپنی کو انتباہ کیا ہے کہ گلگت سے سکردو تک بے احتیاطی سے بلاسٹنگ کئے جانے کے باعث پہاڑوں میں خوفناک دراڑیں پڑی ہوئی ہیں شگاف پڑنے والے پہاڑ کسی بھی وقت گرسکتے ہیں اس سے قبل بھی پہاڑگرنے کے باعث 20 سے 25 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اتنی بڑی جانیں ضائع ہونے کے باوجود بھی متعلقہ تعمیراتی کمپنی نوٹس نہیں لے رہی ہے جسکی وجہ سے بڑے حادثے کا خطرہ ہے روڈ میں پھنسے رہنے والے مسافروں چیئرمین فرمان علی انجم پیپلزپارٹی کھرمنگ کے جنرل سیکرٹری غلام محمد پاروی مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء عارف ضیاء اور دیگر نے کہاہے کہ سکردو روڈ اس وقت موت کا کنواں بن گیا ہے پہاڑوں پر بلاسٹنگ انتہائی بے احتیاطی کے ساتھ کی گئی ہے جس کی وجہ سے گلگت سے لیکر کچورا تک کے پہاڑ خطرناک ہوگئے ہیں اور یہ پہاڑ کسی بھی وقت گرسکتے ہیں جس سے بہت بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے آئندہ بھی جتنی جانیں پہاڑ گرکر ضائع ہونگی ذمہ دار تعمیراتی کمپنی ہوگی بارہا خطرات کی جانب توجہ مبذول کروائے جانے کے باوجود کوئی خاطر خواہ نوٹس نہیں لیا جارہاہے انجمن تاجران اور سول سوسائٹی نے کئی بار مطالبہ کیا کہ سکردو روڈ پر ڈینجریس پوائنٹس بنائے جائیں اور شاہراہ کو خطرات سے محفوظ بنایا جائے لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا جارہاہے ہم چاہتے ہیں کہ مذید کسی بڑے حادثے کا انتظار کئے بغیر سکردو روڈ کو مسافروں کیلئے محفوظ شاہراہ بنایا جائے ورنہ احتجاج کریں گے