145

غریب اور مستحق افراد کی مدد کا عندیہ


وزیراعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ انسانی ترقی  اور خواتین کو معاشی حوالے سے بااختیار بنانا تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ غریب اور مستحق افراد کی مدد کرنے کیلئے جامع پالیسی بنائی جائے گی۔ وفاقی حکومت بھی احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو مالی معاونت فراہم کررہی ہے تاکہ غریب اور مستحق افراد کی مدد کی جاسکے۔ گلگت  بلتستان پہلا صوبہ ہے جہاں تحصیل سطح پر نشونما سنٹرز بنائے جارہے ہیں۔ پاپولیشن ویلفیئر سنٹرز کو تمام اضلاع تک وسعت دی جائے گی۔ گلگت  بلتستان میں سکل ڈویلپمنٹ کیلئے وفاقی حکومت دو ہزارافراد کی تربیت جدید اداروں سے کروائے گی جس میں محکمہ سوشل ویلفیئر ایسے افراد کی نشاندہی کرے جو مختلف شعبوں میں ٹیکنیکل تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیراعلی گلگت  بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود پر توجہ دی جائے گی۔ معاشرے کے خصوصی افراد ہمارے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔ شہریوں کی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر قیام پاکستان سے اب تک المیہ رہا ہے کہ ریاست عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں خود کو بری الذمہ سمجھتی رہی ہے اس کے برعکس حکمران اشرافیہ طبقات کو اپنے مناصب و اختیارات سے فائدہ اٹھا کر قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کرنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کی کھلی چھوٹ ملتی رہی ہے۔ اس سے جہاں ملک میں طبقاتی فرق بڑھا وہیں عوام کا جمہوری نظام سے اعتماد بھی اٹھنے لگا۔ ان کے ذہنوں میں ایسے نظام کیلئے تڑپ بھی اجاگر ہوتی رہی جو ان کے مالی اور اقتصادی مسائل کے حل میں معاون بن سکتا ہو اور اسلام کی روح کے عین مطابق شرف انسانیت کے تقاضے بھی نبھاسکتا ہو۔ بدقسمتی سے ملک کا طویل عرصہ ماورائے آئین اقدامات والی جرنیلی آمریتوں کے یک وتنہا اقتدار کی نذر ہو گیا جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مزید المیہ یہ ہوا کہ عوام کے ووٹ سے منتخب حکمرانوں نے بھی آئین میں ودیعت کئے گئے بنیادی حقوق کی کبھی پاسداری نہیں کی اور نہ ہی انہیں روٹی روزگار کے گمبھیر مسائل سے نجات دلانے کیلئے تردد کیا۔ نتیجتا عوامی مسائل بڑھتے چلے گئے جبکہ حکمران طبقات نے اپنے اختیارات صرف اپنی دولت کے ذخائر بڑھانے اور اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کے قوانین بنانے پر ہی مرتکز کئے رکھے جس سے تشکیل پانیوالی منتخب اسمبلیوں اور ایوان بالا میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کسی موثر قانون سازی کی جانب توجہ نہایت ہی کم اور جمہور اپنے جمہوری سلطانوں کے ہاتھوں راند درگاہ بنی رہی۔ وزیراعظم عمران خان اپنے اقتدار کے حوالے سے عوام سے سودن اور پھر چھ ماہ کی لی گئی مہلت کے دوران اپنے منشور کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے اپنی کارکردگی کا عشرعشیر بھی دکھا دیتے تو ان سے وابستہ توقعات کبھی مایوسی میں تبدیل نہ ہوتیں ۔انہوں نے اور انکے وزیروں مشیروں نے عوام میں پیدا ہونیوالی مایوسی کو زائل کرنے کیلئے جہاں کسی بدعنوان کو نہ چھوڑنے کے نعرے لگا کر بطور خاص سابق حکمران طبقات کو احتساب کے شکنجے میں جکڑنے کی کارروائیاں تیز کیں وہیں قومی معیشت میں در آنے والی ہر خرابی کا ملبہ بھی سابق حکمرانوں پر ڈالنا شروع کردیا'اگر تو اس کیساتھ عوام کو ان کے روٹی روزگار کے مسائل میں ریلیف دینے کی پالیسیاں بھی اختیار کرلی جاتیں تو عوام میں کبھی اضطراب کی کیفیت پیدا نہ ہوتی مگر ابھی تک ایسا کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جاسکا جو پھیلتی عوامی مایوسی کو روک پائے۔ مالیاتی ادارے کی سامنے آنے والی تجاویز کے عین مطابق پٹرولیم مصنوعات بجلی گیس ادویات اور دیگر اشیا کے نرخوں میں سرعت کیساتھ اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔ عام آدمی تو پہلے ہی زندہ درگور ہوچکا ہے جس میں اب مہنگائی کا مزید بوجھ اٹھانے کی سکت عملا ہی نہیں رہی۔ عوام کو لمحہ لمحہ کند چھری سے ذبح کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے  ۔اگر اس وقت کسی قسم کی ٹیکس اصلاحات کی ضرورت ہے تو وہ ٹیکس گزار تمام طبقات سے بلاامتیاز ٹیکسوں کی وصولی کیلئے کی جانیوالی اصلاحات ہو سکتی ہیں جس کیلئے سابق حکومتیں بھی دعوے اور اعلانات کرتی رہیں مگر عملا اس معاملہ میں کسی بھی دور حکومت میں ایک قدم بھی پیشرفت ہوتی نظر نہیں آئی جبکہ براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ پسے پسماندہ عوام کی جانب ہی منتقل ہوتا رہا ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے ایسے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے جن کے ثمرات عملا عوام کی جانب منتقل ہوتے نظر بھی آنے چاہئیں۔اس سارے تماشے میں ان لوگوں یعنی عوام کا ذکر ہی نہیں ہوتا جن کے ووٹ کی بدولت دونوں طرف کے افراد پارلیمنٹ تک پہنچتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں سیاست و حکمرانی کے مزے لوٹتے ہیں۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بجلی، گیس اور روز مرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ غریب تو غریب سفید پوش لوگوں کیلئے بھی اپنا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اِن تمام مسائل کا حل حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن افسوس کہ موجودہ حکمرانوں کو عوام کی ذرہ بھر فکر ہے نہ ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس۔ حکمران ہر طرح سے اپوزیشن کو مقدمات میں پھنسا کر چت کرنے کو ہی مقصد حکمرانی سمجھتے ہیں۔ اس کے لئے وہ تمام حدیں پار کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن رہنمائوں کی تقاریر جواب الجواب ہوتی ہیں۔حکومت کی طرف سے ہر روز لگائے جانے والے الزامات کے جواب دینے کو ہی اپنا فرض سمجھتے ہیں اور جوابی کارروائی کے طور پر حکومت پر الزامات کی فہرست پیش کرتے ہیں۔ عوامی مسائل پر بحث کرنا اور ان کے حل کے لئے حکومت پر دبائو ڈالنا اپوزیشن کی اصل ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اسی پرمستقبل میں اپوزیشن کی کامیابی کا انحصار ہوتا ہے لیکن اپوزیشن رہنماان اہم نکات سے یکسر غافل نظر آتے ہیں۔  عوام کو فراموش کرنے کا نتیجہ وقت آنے پر سیاستدانوں کو خود مل جاتا ہے لیکن یہ سبق نہیں سیکھتے۔ سیاست تو عوام کی خدمت، اخلاقیات، اصول اور عوام کی رہنمائی کے لئے ہے۔سیاستدان عوام کے رہنما ہوتے ہیں لیکن اگر رہنما ہی ان کی توقعات پورا نہ کریں تو عوام کی نہ وہ قیادت کرنے کے اہل ہوتے ہیں نہ رہنمائی کے قابل ہوتے ہیں۔ بلکہ ایسے سیاستدانوں کو خود رہنمائی کی ضرورت ہے۔ بات یہاں بھی رکی نہیں ہے۔کرونا وائرس کے دوران لاک ڈائون میں اگر کسی کا نقصان ہوا تو وہ صرف اس ملک کی غریب عوام ہی تھے، اگر کسی کی زندگی مزید اجیرن ہوئی تو وہ غریب عوام ہی تھے، اگر کسی کے گھر کا چولہا بجھا تو وہ غریب کا چولہا ہی تھا۔ جیسے بارش یا طوفان کے موقع پر اگر چھت گرتی ہے تو غریب کی ہی چھت ہوتی ہے۔حکومت کی مس مینجمنٹ کے نتیجے میں آج غریب مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہے ۔ماضی کے تمام حکمرانوں نے غریبوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے۔ کبھی انصاف سے محروم رکھا تو کبھی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا۔تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملے ہیں کہ جن پر ہر انسان اشکبار ہوا ہے۔ مختلف گھرانوں کی مختلف کہانیاں ہیں۔ لیکن غربت نے انسان کو ہر وہ حد پار کرنے کی ہمت یا جنون دیا ہے کہ جس سے اس کے اندر موجود ہر قسم کا خوف ختم ہوجاتا ہے۔ میں اس غربت کا زمے دار کسی حکومت کو نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں موجود تمام لوگوں کو سمجھتی ہوں جن لوگوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کی ہے۔ جہاں باشعور لوگوں کو اپنی آواز اٹھانی چاہیے وہاں وہ خاموش رہے۔ اس بار بھی مسائل کے حل کے لیے تجاویز ہونے کے باوجود لوگ خاموش ہیں۔وہ لوگ جو ملک کا نظام بدلنا چاہتے ہیں وہ بھی اپنے مفاد تک محدود رہتے ہیں انہیں بھی غریب سے کوئی غرض نہیں ہوتا۔ حکومتیں محض پالیسیاں بنانے کا عندیہ دیتی ہیں جن پر سالوں صرف ہو جاتے ہیں لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات مگر اپنے حق میں جو پالیسیاں بنانی ہوں وہ فورا بن جاتی اور عملدرآمد بھی سابقہ تاریخوں سے ہو جاتا ہے ۔اس لیے غریب کو حقیقی معنوں میں اس کا حق دیا جانا چاہیے جس کیلئے اس نے اقتدار کی مسند تک پہنچایا۔