21

مذہب کی آڑ میں سیاست

 وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مذہب کی آڑ میں سیاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت مخالف تحریک جاری ہے اور اس سلسلے میں انیس جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے31جنوری تک مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔مذہب کی آڑ میں سیاست کے حوالے سے بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے اس بارے میں مختلف آراء ہیں'مختلف نکتہ نظر ہیں' کچھ لوگ سیاست کو دین سے الگ کرنے کے عمل کو بقول اقبال چنگیزی سمجھتے ہیں لیکن کیا حکومتیں' حکومتی وسائل' سرکاری مشینری'سرکاری ملازمین کو اپنے جلسے جلوسوں میں شریک کرنے کے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتیں؟ کیا کبھی اس حوالے سے کوئی قانون بنایا گیا ہے یہاں تو حال یہ ہے کہ عدلیہ نے حکومتی زعماء کو انتخابی جلسے جلوسوں میں شرکت سے منع کیا لیکن گلت بلتستان میں وہ دھڑلے سے شرکت کرتے رہے بلکہ حکومتی سطح پر فنڈز کے اعلانات بھی کیے جاتے رہے لیکن الیکشن کمیشن بھی ٹس سے مس نہ ہوا' کیاکسی کو بھی خواہ وہ مدارس کا طالبعلم ہی کیوں نہ ہوں کسی جلسے میں شرکت سے روکا جا سکتا ہے؟ کیا یہ اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں' مگر کیا کیا جائے حکومتیں اپنے ہر اقدام کو درست تصور کرتیں اور دوسروں کے جائز اقدامات پر بھی انگلیاں اٹھاتی اور انہیں طاقت کے استعمال سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں' کیا پی ٹی آئی کے جلسوں اور دھرنوں میں طالبعلوں کو آنے سے روکا گیا تھا' طالبعلم خواہ مدرسے کا ہو یا کسی  دنیاوی تعلیمی ادارے کا' طالبعلم ہے ایک کو تو آپ روک لیں دوسرے کو جو آپ کے جلسے کی رونق بڑھاتا ہے اجازت دے دیں۔دراصل 1992کے شروع میں بھی جب روسی افغانستان سے گئے پاکستان کے حکمرانوں کو بار بار خبردار کیا جاتا رہا تھا کہ مغربی طاقتوں کی ہدایت پر مذہب کی آڑ میں جو کچھ افغانستان میں کیا جارہا ہے اس کی سزا پورے ملک کوبھگتنا ہوگی لیکن کسی کو بہر سماعت وقت تھا نہ دماغ۔ہمارے ہاں ایک بات پر خاصا زور دکھائی دیتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے اور جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ حقیقی معنوں میں اسلام کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔  دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ اس کی لگام کس کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے کہ مذہب جہاں وہ سلامتی اور امن و رواداری کا سرچشمہ ہوتا ہے وہاں وہ تنگ نظر اور بوالہوس اور استحصالی حکمرانوں اور لاعلم  مولویوں کا آلہ کار بھی بن جاتا ہے۔آپ کسی بھی مذہب کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ابتدا میں وہ برسراقتدار اور استحصالی طبقات کے خلاف ایک تحریک کی شکل میں جنم لیتا ہے اور بعد میں انہی طبقات کے ہاتھوں میں کھلونا بن جاتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے اسطرح کے بوالہوس اور تنگ نظرصرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ ہر مذہب میں موجود نظر آتے ہیں۔عیسائی ہوں یا یہود یا ہندو سب ان کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں یا رہے ہیں۔اصل میں ان عناصر نے اپنا حقیقی کام چھوڑ دیا وہ دلوں کو جوڑنے کے بجائے صرف تنگ نظری اور نفرتوں کو فروغ دے سکتے ہیں، اس لیے چاہیے یہ کہ سیاست اور حکومتی معاملات میں  لوگوں میں انسان دوستی، برداشت اور رواداری اور دیگر جمہوری قدروں کو فروغ دیا جائے اس لیے کہ آپس میں نسلی اور مذہبی امتیاز ختم کرنے اور مل جل کر رہنے کا یہی ایک ذریعہ ہے۔ایک طرف تو آئین یہ کہتا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا دوسری جانب مذہب کو سیاست سے جدا کرنے کی بات کی جاتی ہے'سپریم کورٹ آف پاکستان نے دارالحکومت میں فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعتوں کی جانب سے بیس دن تک جاری رہنے والے دھرنے کے پس منظر میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست کی خاطر اسلام کی آڑ میں کسی کو بھی توہین آمیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے جاری کردہ آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت آزادی اظہار رائے کے ساتھ ساتھ آزادی صحافت کو بھی ایک بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن جب اسلام کی عظمت یا سالمیت، پاکستان کی سلامتی یا دفاع یا اخلاقیات، یا توہین عدالت، کمیشن یا جرم کی حوصلہ افزائی کے لیے اسے استعمال کیا جائے تو اسے محدود کیا جاسکتا ہے۔عدالت عظمی کے فیصلے میں کہا گیا کہ کسی کو بھی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اسلامی وجہ کو آڑ بنا کر اسلام کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، اسلام میں طاقت اور جبر کی کوئی جگہ نہیں، اسلام کے معنی امن کے ہیں۔انتہاپسندی کا تعلق میدان سیاست سے رہا ہے مگر اب انتہا پسندی زندگی کے ہر شعبہ میں داخل ہو چکی ہے۔ چونکہ سرمایہ دار اور حکمراں طبقہ سیاسی حیلہ گری سے زیادہ مذہب کی آڑ میں سیاسی شعبدہ بازی کا حامی ہے اس لئے انتہا پسندی سیاسی طبقہ سے زیادہ مذہبی طبقہ میں حلول کر گئی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی سیاسی انتہا پسندی سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ سیاست کی فریب کاریوں اور نظریاتی تحفظات کو سمجھنا گوکہ آسان نہیں ہے مگر پھر بھی عام انسان سیاست مداروں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ سیاسی شعبدہ بازی اور سیاست مداروں کی عیاریوں سے ایک زمانہ واقف ہے۔ مگر اس واقفیت کے بعد بھی عوام سیاسی پروپیگنڈہ کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی معلومات پر غفلت اور لاعلمی کا کفن ڈال لیتے ہیں۔ مذہب کا معاملہ سیاست سے قدرے مختلف ہے۔ مذہب کچھ لوگوں کے لئے ناقابل قبول ہوسکتاہے مگر دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی مذہب، مذہبی رہنمائوں اور ان کے نظریات کی پابند ہوتی ہے۔ یہ رہنما مذہب کی ترقی اور بقا کیلئے عوام کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں کیونکہ جس مذہب کی ترقی اور بقا کیلئے وہ جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں دراصل ان کے یا ان جیسوں کے ذاتی نظریات پر مشتمل مذہب ہوتاہے جسے عوام پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصل مذہب صرف کتابوں اور مسودوں میں قید ہوتا ہے جس کی حقیقت عوام کے سامنے بیان نہیں کی جاتی۔ در اصل یہ طبقہ عوام کو مذہبی جارحیت اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ سیاست اورسماج میں اپنی ساکھ کو برقرار رکھ سکے یا میدان سیاست میں اپنے مفاد کے لئے تگ و دو کرسکے۔ چونکہ مذہب ایک مقدس نظام کا آئینہ دار ہوتاہے اس لئے عوام مذہبی رہنمائوں کو بھی مقدس سمجھ لیتے ہیں اور ان کے پروپیگنڈہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔انتہا پسندی دراصل ایک نظریہ ہے۔ ایسا نظریہ جو اپنی طرز میں ہٹ دھرمی پر مبنی ہو اور اپنے مخالف کو بغیر دلیل اورنظریے کوسمجھے بغیر ہی رد کردے۔ اس نظریہ کو میدان سیاست سے زیادہ اس وقت مذہب کے میدان میں استعمال کیا جارہا ہے۔ یہی نظریہ عوام کو شدت پسندی اور دہشت گردی کی طرف لے کر جا رہا ہے چونکہ مذہب کی آڑ میں انسان کا استحصال بہت آسان ہوتا ہے اس لئے مذہبی شعبدہ بازوں کے سیاسی بازی گر بھی مذہبی لبادہ اوڑھ کر نوجوانوں کو شدت پسندی اور دہشت گردی کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔انسانوں میں اختلاف رائے ایک فطری جذبہ ہے۔ اس جذبہ کی مذمت نہیں کی جاسکتی کیونکہ اختلاف رائے ایک صحت مند رائے کو استوار کرتی ہے۔ نظریوں کا اختلاف فکری اختلاف کو جنم دیتاہے اور فکری اختلاف انسان کو تحقیق کے میدان میں عرق ریزی پر ابھارتاہے۔ تحقیق انسان کو ایک صحت مند نظریہ کی طرف لے جاتی ہے۔ ایسا نظریہ جو سماج اور معاشرہ کے لئے کارآمد اور صحت مند سماج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ صحت مند اختلاف کیلئے لازم ہے کہ وہ زندہ موضوعات پر ہو اور نتیجہ خیز بھی ہو۔ سیاست اور مذہب دونوں جگہ اختلاف رائے کو مذموم تصور نہیں کیا گیا ہے بلکہ نظریاتی اختلاف کو علمائے سیاست و مذہب نے بہت اہم قرار دیا ہے۔ آج دنیا میں جتنی بھی ترقی ہمارے سامنے ہے اس کی بنیادی وجہ نظریوں اور آراء کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کے بعد جو نئی تحقیق ہوتی ہے وہ نئی ترقیاتی راہوں کو ہموار کرتی ہے۔ یہ اختلاف اس وقت خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے جب انسان اس فکری و نظریاتی اختلاف کو ذاتی اختلاف سمجھ لیتا ہے اور اس اختلاف کو ایک پروپیگنڈہ کی شکل دیدیتاہے۔