136

ڈاکٹروں کے حوالے سے بیان مایوس کن، وزیر صحت معافی مانگیں، ینگ ڈاکٹرز

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے صدر ڈاکٹر اعجاز ایوب نے کہا ہے کہ وزیر صحت کاحالیہ بیان گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں کیلئے مایوس کن اور نظام کیلئے تباہ کن ہے۔صحت جیسے اہم شعبے کو ایسے سمجھ بوجھ سے عاری اور زمینی حقائق سے نابلد شخص کے حوالے کرنا نہ صرف محکمے کے ساتھ کھلواڑ ہے بلکہ بنیادی عوامی حقوق پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ موصوف غالبا" پہلے بھی وزیر صحت کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ اور اپنی وزارت کے دورانیے میں جو "تاریخی اقدامات" اٹھائے تھے وہ بھی سب جانتے ہی ہیں۔"ماہر" ڈاکٹر سے مراد اگر سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں اور صرف یہی لوگ معیاری سروس دے سکتے ہیں توموصوف کوچاہئیے کہ پورے پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں کسی ایسے ہسپتال کا جائزہ لیں جو ان کی نظروں میں بہترین ہواس کے بعد ان "مراعات یافتہ" ڈاکٹروں کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے قائم کریں ہسپتالوں کا نظام ہاوس آفیسر سے لیکر پروفیسر لیول تک سب ڈاکٹر مل کر چلاتے ہیں، میڈیکل اور ڈینٹل آفیسروں کی تعداد ہر ہسپتال میں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ایم بی بی ایس کی سند حاصل کرنے بعد جنرل فزیشن یا رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کا درجہ ملتا ہے جس کی رو سے مریضوں کا علاج معالجہ کرنے کا لائسنس ملتا ہے اور پیچیدہ کیسسز کو اسپیشلسٹ کی طرف ریفر کرنا بھی ان کے ہی زمرے میں آتا ہے۔ لہذا ہسپتالوں کا نظام چلانے کے لئے میڈیکل اور ڈینٹل آفیسرز ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں جو رات دن سارا سال ہسپتالوں کا نظام چلاتے ہیں۔ اپنے بیان میں ڈاکٹر اعجاز ایوب نے کہا ہے کہ ہیلتھ منسٹر کیطرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہمارے نوجوان ڈاکٹرز ٹریننگ کے لئے پنجاب اور دیگر صوبوں میں دربدر پھر رہے ہیں۔اور انہیں پوچھنے والاکوئی نہیں۔ ہماری اسمبلی کے "ماہر" وزرا کے خطوط بھی وفاق اور دیگر صوبوں میں پکوڑے رکھ کر کھانے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اور جو وزیر صاحب کے بقول چالیس ماہر ڈاکٹرز آئے ہیں تو اس میں بھی صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں یہ لوگ کئی گنا بہتر مراعات اور مواقع چھوڑ کر یہاں سروس دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ معیاری سروس سٹرکچرکی عدم موجودگی، ٹریننگ کے ناپید مواقع،انفراسٹرکچرکافقدان،ادویات کامسئلہ،طبی آلات کی کمی،تدریسی ہسپتال نہ ہونے اور دیگر صوبوں کی نسبت انتہائی قلیل مراعات کی وجہ سے شعبہ صحت پہلے ہی زبوں حالی کاشکار ہے۔اور ڈاکٹروں کی رہی سہی دلچسپی ایسے رنگین بیانات کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے ہیلتھ منسٹر کو اپنے اس بیان پر ڈاکٹر کمیونٹی سے معافی مانگنی چاہئے اور آئیندہ کسی بھی قسم کی غیر زمہ دارانہ بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے۔