71

گلگت بلتستان میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کا اعلان


صوبائی وزیر تعلیم گلگت بلتستان راجہ محمد اعظم خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم رائج ہو رہا ہے جس سے ملک میں تعلیمی انقلاب آئیگا اور ہماری نئی نسل کا مستقبل روشن ہوگا۔وزیرتعلیم نے کہا کہ گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے ماہرین تعلیم کی انتھک کوششوں سے پرائمری کا نصاب مکمل ہونے کے بعد رواں ماہ سکولوں میں رائج کیا جارہا ہے جوکہ نہایت خوش آئند ہے۔ امید ہے اسی تسلسل میں بہت جلد مڈل اور میٹرک کا نصاب بھی جلد تیار ہوگا اور سکولوں میں رائج ہوگا جس سے ملک میں طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوگا اور امیر و غریب ایک ہی نصاب پڑھیں گے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے جدید ویژن اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور اس کی ٹیم کی کاوشوں سے ملک کا تعلیمی مستقبل روشن ہو رہا ہے۔ فیڈرل جوائنٹ ایجوکیشن ایڈوائزر رفیق طاہر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ملک کے پہلے قومی لیڈر ہیں جنہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے کابینہ اجلاس میں تعلیمی پالیسی مرتب کی اور آج ملک میں تمام مکاتب فکر کیلئے قابل قبول یکساں نصاب تعلیم رائج ہورہا ہے۔ ملکی قیادت  کے مثبت فیصلے قوموں کو ترقی کی راہ پر استوار کرتے ہیں۔ تقریب سے ڈائریکٹر جنرل سکولز گلگت بلتستان مجید خان نے خطاب کرتے ہوئے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کو خوش آئند قرار دیا اور ملک میں پرائری تعلیم کے نصاب کی تکمیل پر قومی قیادت اور ملک بھر کے ماہرین تعلیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ راجہ اعظم نے کہا تحریک انصاف کی صوبائی حکومت صوبے میں تعلیمی ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ وزیر اعلی کی قیادت میں پوری کابینہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔ یکساں نصاب تعلیم کا نصاب خوش آئند ہے'تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے جو وعدے کیے تھے ان میں ملک میں یکساں قومی نصاب کا نفاذ بھی شامل تھا کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کاکہنا تھاکہ ملک میں رائج موجودہ تعلیمی نظام معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا بڑا ذریعہ ہے جو بہت سے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپریل2021سے ملک بھر کے سرکاری و نجی سکولوں اور دینی مداس میں یکساں قومی نصاب کے نفاذ کا عمل شروع کیا جائے گا۔حکومت کے اس منصوبے کے حوالے سے ملک کے ماہرین تعلیم سوالات اٹھاتے رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ان میں اضافہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے یکساں قومی نصاب کے ملک بھر میں نفاذ کے پہلے مرحلے یعنی نرسری اور پہلی سے پانچویں جماعت کے لیے ایک نصاب رائج کرنے کا اعلان کیا تھا۔دوسرا مرحلہ چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک2022جبکہ یکساں قومی نصاب کا تیسرا اور آخری مرحلہ نویں سے بارہویں جماعت کا نصاب ملک میں آئندہ عام انتخابات کے سال یعنی 2023میں نافذ کیا جائے گا۔ وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے وضع کردہ وہ بنیادی نکات جن پر یکساں قومی نصاب کو تشکیل دیا جا رہا ہے ان میں قرآن و سنت کی تعلیمات، آئین پاکستان کا تعارف، بانیِ پاکستان محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے افکار، قومی پالیسیاں، خواہشات اور قومی معیارات، جنس، رنگ نسل یا مذہب کے حوالے سے روادی اور تعمیری سوچ کی ترویج، تعلیمی نظام کی بہتری کے حوالے سے پاکستان کے بین الاقوامی معاہدوں خصوصا پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول، ملک میں تعلیمی اداروں، اساتذہ اور پیشہ وارانہ تربیت میں اضافے سمیت اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ بچے کیا پڑھیں گے، کیا سیکھیں گے اور ان تعلیمات کا بچوں پر کیا اثرات ہوں گے۔یکساں قومی نصاب کے حوالے سے وزات تعلیم کے دستاویزات کے مطابق بچوں کی ابتدائی تعلیم کے سال یعنی نرسری یا پریپ کلاس میں انہیں جن سات نکات پر تعلیم دی جائے گی اس میں ذاتی یا معاشرتی ترقی، زبان اور خواندگی، بنیادی ریاضی، آس پاس کے ممالک، صحت اور تخلیقی فنون شامل ہیں۔پہلی سے پانچویں جماعت کے لازمی مضامین میں اردو، انگریزی، اسلامیات، جنرل نالج، ریاضی، جنرل سائنس اور معاشرتی علوم شامل ہیں جبکہ اقلیتوں کے لیے پہلی سے بارہویں جماعت تک اسلامیات کے مضمون کی جگہ دینی تعلیم کا مضمون متعارف کرایا گیا ہے جس میں تمام مذاہب کا بنیادی تعارف اور تعلیمات موجود ہوں گی۔ ایک اور تبدیلی انگریزی کو مضمون کی بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جانا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے مطاب اب تک یکساں قومی نصاب کے حوالے سے قومی ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا گیا ہے، جس میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی متعلقہ وزارتیں اور ادارے تمام فیصلہ سازی شامل رہے ہیں۔ اور سب یکساں قومی نصاب کے نفاذ پر رضامند ہیں۔ حکومت نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ بچوں کی تعلیمی زبان کے انتخاب کا اختیار بھی صوبوں کو دیا جائے، یعنی بچوں کو اردو یا مادری زبان میں تعلیم دینے کا حق صوبوں کو حاصل ہو گا، جبکہ اس ضمن میں دوسرا اہم فیصلہ ایک جیسی کتب کے بارے میں کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے ایک ماڈل ٹیکسٹ بک بنائی جا رہی ہے، جو صوبوں، نجی سکولوں اور مدارس کو فراہم کی جائے گی اور انہیں قومی نصاب کے بنیادی نکات پر رہتے ہوئے اس میں اضافے یا تبدیلی کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یکساں قومی نصاب کا مطلب اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں رہنے اور سرکاری یا نجی سکول میں پڑھنے والے، حتی کہ مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو ایک معیار کی تعلیم حاصل ہو۔ ایک قوم ایک نصاب کے نعرے تلے ہماری حکومت جو نظام وضع کرنے جا رہی ہے، اس سے نہ صرف تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کے حوالے سے پیدا کردہ تقسیم ختم ہو گی، بلکہ ہمارے بچے ایک جیسی تعلیم حاصل کرکے ایک جیسی سوچ اپنا سکیں گے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں سامراجی طاقتوں کے زیر تسلط رہنے والی قومیں مخصوص حالات میں ملک و قوم کی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے، یکساں نصاب کے نہ ہونے کو ترقی نہ کر پانے کی بڑی وجہ قراردیتی رہی ہیں، یہ نعرہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یا ضرورت ترقی کے لیے ایک جیسی سوچ کی ترویج کا ضروری سمجھا جانا ہے۔ جبکہ حقیقتا اس نکتے پر سوچ بچار کی ضرورت ہے کہ معاشرتی تنوع کے بغیر ایک قوم کی قابلیت یا حیثیت کیا ہو گی۔یکساں قومی نصاب کی تیاری کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے 2018میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی تجویز پر قومی نصاب کونسل کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔2019کے آغاز میں وجود میں آنے والی اس کونسل کی بنیادی تشکیل میں ہر صوبے اور خطے سے تین تین اراکین، صوبائی نصاب بیورو، ٹیکسٹ بک بورڈز اور ہر تعلیمی بورڈ کا ایک ایک رکن شامل تھا۔جس کے بعد اس کونسل نے قومی نصاب کی تیاری اور اس پر عملدرآمد کی راہ متعین کرنے کے لیے ایک تکنیکی ماہرین کی کمیٹی برائے نصاب قائم کی۔تکنیکی ماہرین کی کمیٹی میں ملک بھر سے ستر سے زیادہ نصاب کے ہر مضمون کے ماہرین کو شامل کیا گیا۔ جنہوں نے صوبائی اور وفاقی سطح پر مشاورتی عمل اور کانفرنسوں کے ذریعے نصاب کا بنیادی ڈھانچہ اور اس کی عملداری سے متعلق تجاویز وضع کیں، جنہیں تمام صوبوں کی مشاورت سے منظور کیا گیا ہے۔ نصاب کی تیاری میں بین الاقومی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنے کے لیے دیگر ممالک اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں میں رائج تعلیمی نصابوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا اور کیمبرج شامل ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تعلیم کو کئی کیٹیگریز میں منقسم کر دیا گیا ہے۔ مدارس کا الگ نظام ہے اور سکولنگ میں اپنے بہت سے متنوع نظام ہائے کار اور نصاب رائج ہیں۔ جس کے باعث طبقاتی تقسیم، عدم اعتماد اور عدم مساوات کی فضا قائم ہے۔ تقسیم در تقسیم کے باعث آج ایک سسٹم کے تحت کسی بھی لیول کی تعلیم مکمل کرنے والا طالب علم دوسرے سسٹم کے نصاب تعلیم سے ان دیکھے خوف کا شکار نظر آتا ہے اور محض کتاب کا ٹائٹل ہی دیکھ کر اندازہ لگا لیتا ہے کہ یہ کتاب چونکہ میں نے نہیں پڑھی لہذا میں اس کے مندرجات کو نہیں جانتا اس لیے یکساں نصاب تعلیم سے یینا مثبت نتائج برآمد ہوں گے یقینا یہ ایک بڑی کامیابی اور بانی پاکستان کے خواب کی تکمیل کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا۔