Image

دنیا کی آبادی میں تشویشناک اضافہ

اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی آٹھ ارب کا ہندسہ عبور کر گئی ہے اور اس آٹھ ارب میں سے تقریبا تین فیصد پاکستان کی آبادی پر مشتمل ہے۔پاکستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو 2050  تک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں پچاس فیصد حصہ ڈالیں گے۔پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں کانگو، مصر، ایتھوپیا، انڈیا، نائیجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں۔اس وقت آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ساٹھ کی دہائی کے بعد سے پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور 2020  میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس اضافے کی شرح کی رفتار میں ناقابل یقین حد تک اضافہ دیکھا جا رہاہے۔ایک اندازے کے مطابق ہرآٹھ سیکنڈ کے بعد دنیا میں ایک بچے کی پیدائش ہوتی ہے اور ہر گیارہ سیکنڈ کے بعد ایک انسان کی موت ہوتی ہے۔دنیامیں ایشیا سب سے زیادہ آبادی والا حصہ ہے ۔اگر پاکستان، بھارت، چین اور بنگلادیش کو لیا جائے تو پوری دنیا کی چالیس فیصد آبادی تو ان چاروں ممالک میں موجود ہے۔اسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایشیا میں آبادی کی تعداد کتنی زیادہ ہے۔انسانی آبادی میں بے تحاشا اضافہ زمین اور ماحول کیلئے بہت سے مسائل کی وجہ بن رہا ہے۔ آبادی کے تیزی سے بڑھنے کی ایک وجہ غربت اور جہالت بھی ہے۔ماہرین کے مطابق معیاری طرز حیات کیلئے زمین پہ دو ارب انسانوں کی گنجائش ہے جبکہ موجودہ آبادی آٹھ ارب کے قریب جا پہنچی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے وسائل ختم ہوتے جارہے ہیں۔آبادی میں اضافے کی وجہ سے زرعی رقبوں پہ رہائشی کالونیاں بنائی جا رہی ہیں۔لگتا ہے کہ بہت جلد زرعی زمینیں ختم ہوجائیں گی۔ہمارے ہاں ملاوٹ شدہ خوراک، طبی سہولتوں کا فقدان، غربت، پست معیار زندگی، حادثات اور دہشت گردی کے واقعات کے باوجود آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔دنیا کے دس ایسے ممالک ہیں جو کہ آبادی کے لحاظ سے بڑے ہیں۔جن میں جاپان دسویں نمبر پر بڑا ملک ہے۔جس کی کل آبادی 126 ملین سے زائد ہے ۔روس رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا نوواں بڑا ملک ہے جس کی کل آبادی 146 ملین سے زائد ہے۔بنگلادیش آبادی کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔جس کی کل آبادی 161 ملین سے زائد ہے۔نائیجیریاآبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے جس کی کل آبادی 186 ملین سے زائد ہے ۔پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ اس کی کل آبادی 200 ملین سے زائد ہے  ۔برازیل پانچویں نمبر پر بڑا ملک ہے۔ اس کی کل آبادی 206 ملین سے زائد ہے  ۔آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا چوتھے نمبر پر ہے اس کی کل آبادی 260 ملین سے زائد ہے  ۔آبادی کے لحاظ سے امریکہ تیسرے نمبر پر ہے 324 ملین ہے  ۔انڈیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جس کی کل آبادی 1بلین 310ملین سے زائد ہے۔ چائنہ کی آبادی دنیا کے سارے ممالک سے زیادہ ہے اس کی کل آبادی 1بلین 381 ملین سے زائد ہے ۔پہلے زمانے میں افرادی قوت کو بڑھانے پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور کسی بھی ملک یا قبیلے کی یہی کوشش ہوتی کہ وہ افرادی قوت کے زور پر دنیا کو فتح کرے  اور دنیا کے تمام تر وسائل پر قابض ہو جائیں لیکن آج حالات اس کے بالکل برعکس ہیں جو افرادی قوت پہلے کبھی کسی ملک کے لیے اہم ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی تھی اب وہ دنیا کے لیے سر درد بنی ہوئی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی سے پریشان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا میں چھٹا اور مسلم ممالک میں آبادی کے لحاظ  سے دوسرا بڑا ملک بن گیا  ہے۔پاکستان میں پہلی مردم شماری 1951 میں کی گئی تھی پہلی مردم شماری کے حساب سے اس وقت پاکستان کی آبادی 75 ملین تھی جو مغربی اور مشرقی پاکستان کی مجموعی آبادی تھی لیکن اب پاکستان کی آبادی چھ گناہ بڑھ چکی ہے ۔اگر بڑھتی آبادی کی رفتار میں کمی نہیں آئی تو خدشہ ہے کہ 2070 تک پاکستان کی آبادی 35 کروڑ سے تجاوز کر  جائے گی جو پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے مزید سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی مختلف سماجی برائیوں کو جنم دے رہی ہے جن میں کم عمری میں شادیاں، چائلڈ لیبر اور بچوں کا استحصال، بیروزگاری ، ناخواندگی میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی شامل ہے۔ موجودہ شرح افزائش کے پیش نظر پاکستان میں 2040 تک بارہ کروڑ ملازمتیں پیدا کرنا ہونگی۔پچاسی ہزار مزید پرائمری اسکول بنانے ہونگے اور ایک کروڑ نوے لاکھ اضافی مکانات تعمیر کرنے ہونگے۔ اس طرح صحت کے شعبے میں بھی بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے ہنگم اور بیقابو آبادی ملکی وسائل بالخصوص محدود قدرتی وسائل پر سخت دبائو ڈال رہی ہے۔ یہ صورت حال مستقبل قریب میں بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پانی کے ذخائر پر بڑھتا ہوا بوجھ ملک کو جلد ایک پریشان کن صورت حال سے دوچار کر سکتا ہے۔ 1981 تک ہمارے ہاں پانی وافر مقدار میں مہیا تھا اور فی کس دستیابی 2.123 مکعب میٹر تھی۔ 2017 کی مردم شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب پانی کی فی کس دستیابی انتہائی کمی کا شکار ہو کر 861 مکعب میٹر فی کس کی سطح پر آ گئی ہے۔ اگر اس بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند نہ باندھا گیا تو بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پانی کی فی کس دستیابی میں کمی کا یہ مسئلہ عنقریب مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔اراضی اور اس کے استعمال پر بڑھتی ہوئی آبادی کے اثرات بھی توجہ طلب ہیں۔ زرعی اراضی کی دستیابی جوساٹھ اور سترکی دہائی میں کثرت سے تھی اس میں بھی خطرناک حد تک کمی آئی ہے۔ اس وجہ سے لوگ زراعت کا کام چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ شہری پھیلائو میں اضافہ زرعی اراضی کو مزید دبائو کا شکار بنا رہا ہے۔ زرعی اراضی کا غیر زرعی مقاصد کیلئے استعمال تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے جو ملک کو ایک اور بڑے بحران کی طرف لے جا رہا ہے۔پاکستان کے لیے خود اپنی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے اثرات گندم کی قلت کے علاوہ پھلوں اور دالوں سمیت ضروری اشیائے خورونوش کی درآمد کی شکل میں پہلے ہی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ زمین کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کیونکہ زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد بالخصوص رئیل اسٹیٹ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور زیر کاشت زمینوں کو رہائشی سکیموں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس رجحان سے ملک کو ایک مستقل زرعی بحران سے دوچار ہونے کا خطرہ بدرجہ اتم موجود ہے۔یورپی ممالک نے اپنی آبادی کو قابو میں رکھا اور آج وہاں وسائل کی تقسیم اور مسائل کا حل ہم سے کہیں بہتر نظر آتا ہے۔بڑھتی ہوئی  آبادی مسائل کو بڑھائے گی اسی سوچ کے تحت1973  سے اقوام متحدہ نے کنٹرول آبادی کو ایک عالمی پالیسی بنا یا ہوا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافے کی شرح چونکہ ترقی پذیر ملکوں میں زیادہ رہی ہے اس لیے ترقی پذیر ممالک سے آبادی کنٹرول کرنے کی یقین دہانیاں لی جاتی ہیں اور قرض و ترقیاتی فنڈز کیلئے تخفیف آبادی کے اہداف کو بطور شرط منوایاجاتاہے۔ اس لیے آج ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بڑھتے ہوئے مسائل کی بڑی وجہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے۔بہت سے ممالک اس کا تدارک کررہے ہیں مگر اس طرف توجہ نہ دینے والوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔پاکستان میں بھی اس مسئلے سے متعلق کوئی کام ہوتا نظر نہیں آرہا بلکہ ایسی کوششوں کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔اگرہم دنیاکوآبادی میں مسلسل اضافے کے انتہائی سنگین نتائج اوراکیسویں صدی کے آخرتک بڑھ جانے والے دس سے بارہ بلین لوگوں کے بوجھ سے بچاناچاہتے ہیں توضروری ہے کہ ہم غذا پیداکرنے کے زیادہ سے زیادہ مو ثر اور محفوظ طریقے دریافت کرلیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بیجوں کے ذخیروں،نظام آبپاشی،کھادوں،کیڑے ماردواں اورآمدورفت کو محفوظ رکھنے کے طریقوں میں بہتری کیلئے اقدامات کیے جائیں اورغریبوں کے معیارزندگی میں بہتری کیلیے کئے جانے والے اقدامات پربھی کام کوتیزکرنے کی ضرورت ہے۔