Image

ملک میں فائیو جی سروس کا آغاز ممکنہ طور پر تاخیر کا شکار

ملک میں فائیو جی سروس کا آغاز ممکنہ طور پر تاخیر کا شکار ہوگیا۔ وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں دسمبر 2022 میں فائیو جی سروس شروع ہونا ہے، سروس اب 6 ماہ تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے نے تاخیر کی وجوہات اور مارکیٹ کا تجربہ آئی ٹی وزارت اور حکومت کو بھجوا دیا، موبائل کمپنیوں کی عدم دلچسپی ،معاشی عدم استحکام ٹیکنالوجی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔رپورٹ کے مطابق درآمدی پابندیاں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی عملدرآمد میں رکاوٹ ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور پاکستانی روپے کی گراوٹ بھی وجوہات میں شامل ہے، اسپیکٹرم فیس اور ادائیگیوں کا سخت شیڈول، ٹیکسز کا اطلاق اور فور جی سے کم رسائی بھی فائیو جی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔اس حوالے سے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فائیو جی سے منسلک سمارٹ فون اور دیگر ٹیکنالوجی پر ٹیکس کو کم کرنا ہوگا، حکومت کو فائیو جی سروس کا مقصد واضح کرنا چاہیے، حکومت معاشی و سماجی ترقی کے لیے نہیں صرف آمدنی کے لیے ٹیکنالوجی لانا چاہتی ہے؟ موبائل کنیکٹیویٹی میں پاکستان، بھارت اور بنگلا دیش سے بھی پیچھے ہے، فائیو جی سروس کی آمد آئندہ برس جون 2023 تک متوقع ہے۔