طاقتور اور قانون

 وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے طاقتور کو قانون کے تابع لانا ہماری ذمہ داری ہے ہمارا نظام انصاف طاقتور کو نہیں پکڑسکتا، وزیر اعظم نے کہا کہ جیلوں میں صرف غریب لوگ نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام انصاف طاقتور ڈاکو کو نہیں پکڑ سکتا ہے اور جیلوں میں صرف غریب جاتے ہیں جن کے پاس بڑے بڑے وکیل کرنے کیلئے پیسے نہیں ہے۔پاکستان میںدیکھ لیں تیس سال تک حکمرانی کرنے والوں نے اربوں کھربوں روپے بنائے اور پہلے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا اور خود کو قانون سے اوپر سمجھتے ہیں ، احتساب بھی نہیں دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ قانون تو عام لوگوں کیلئے ہے ، طاقتور کیلئے کوئی قانون نہیں ہے ۔ ہماری حکومت نے طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہے اور غریبوں کو ریاست نے اوپر لانے کی ذمہ داری سنبھالی ہے ۔یہ درست ہے کہ زور آور اور طاقتور اشرافیہ کے آگے قانون بھی بس ایک تماشائی کی طرح ہے جو ان کی مرضی سے چلایا جاتا ہے۔ طاقت کے نشے میں چور گھرانوں کے بے لگام چھوٹے بڑے سب قتل وغارت کی نئی مثالیں قائم کرتے ہیں اور ان کی طاقت کے سامنے مقتول کے لواحقین مظلومیت کی مثال بن جاتے ہیں اور راضی نامہ نہ کرنے کا مطلب اپنی اور اپنے خاندان کے افراد کی جانوں کو ان بھیڑیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہوتا ہے۔طاقت کے نشے میں دھت ان وحشیوں کے نزدیک پولیس افسران کی حیثیت ایک بے ضرر کیڑے سے زیادہ نہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ قانون نافذ کرنے والے ان کے آگے ہاتھ باندھے حکم کی تعمیل کرتے رہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جب مسند اقتدار پر ان کے حمایت یافتہ افراد بیٹھے ہوں۔ قصور شاید ان پولیس افسران کا بھی نہیں کیوں کہ اگر وہ ان ظالموں کی حکم عدولی کریں گے تو کالے پانی کی سزا ان کی منتظر ہوگئی اور یہی ملک میں نافذ نظام کی ایسی خامی ہے جسے دور کرنے کا کسی نے کبھی سوچا ہی نہیں، کیوں کہ ایسا کرنے سے انہیں خود قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا جبکہ پارلیمان میں بیٹھے زور آور لوگ اور ان کے ساتھی اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان کا استحقاق کے آگے عوام کی تحقیر کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔دھونس، دھمکی اور دولت کے زور پر امیر اشرافیہ کے بے لگام نوجوان کی گولیوں سے لوگ مرتے رہتے ہیں اور مجرمان آزاد ہوتے رہیں گے۔مسلح و تربیت یافتہ منظم افرادی قوت، ہزاروں کی تعداد میں معتقدین و پیروکاروں و جانثاروں کی منتشر فوج، بے پناہ علم، وسیع اختیارات، عالمگیر شہرت، بے عیب حسن و جمال اور متاثر کن صلاحیت؛ یہ سب طاقت کے مختلف مظاہر ہیں۔ حتی کہ بسااوقات اچانک میسر آجانے والا کوئی موقع بھی جز وقتی طاقت بن جاتا ہے۔طاقتور جس روپ میں بھی ہو، ہر صورت میں اپنی طاقت لامحدود حد تک بڑھا لینا چاہتا ہے کیونکہ یہ وہ نشہ ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا خواہ انسان خدائی کا دعوی ہی کیوں نہ کرلے۔ اپنی اِسی بے لگام توسیع پسندانہ خواہش کے باعث وہ کمزور پر ظلم ڈھاتا ہے، اِس کے حقوق سلب کرلیتا ہے، سازش کرتا ہے، استحصال کرتا ہے۔طاقتور اپنے مقاصد کی خاطر آپس میں گٹھ جوڑ بھی کرلیتے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ طاقتوروں کے اتحاد کبھی دیر پا ثابت نہیں ہوئے کیونکہ سب سے زیادہ طاقتور ہونے کی خواہش جلد یا بدیر انہیں باہم برسرِ پیکار کردیتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے طاقت کا وہ گھنائونا کھیل جس میں آج عالمی قوتیں بھی جل رہی ہیں اور ہماری ارضِ پاک پر طاقت کے تمام مراکز بھی۔چونکہ ہر معاشرے میں طاقتور اور کمزور طبقات بیک وقت موجود ہوتے ہیں اِس لیے کمزور کو طاقتور کے ظلم سے بچانے کے لیے تین چیزیں درکار ہیں جو مہیا کرنا ریاست کے تین اہم ستونوں کا کام ہے۔ہر شعبے کے لیے جامع قانون سازی یہ مقننہ یا قانون ساز ادارہ یعنی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔قانون کی روشنی میں غیر جانبدارانہ فیصلے یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ فیصلوں پر مکمل عملدرآمد یہ انتظامیہ یعنی پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں تینوں ریاستی ستون بری طرح لرز رہے ہیں اور عوام انصاف کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ یہاں ہر طرح کا ظلم رائج ہوچکا ہے، بد عنوانی قوم کی رگ و پے میں سرائیت کرچکی ہے، طاقتور کمزور کے خون کا آخری قطرہ بھی چوس لینا چاہتا ہے اور کمزور کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں جہاں وہ اپنی داد رسی کے لیے جاسکے۔کمزور عدالت کے دروازے تک پہنچنا چاہے تو اس کے پاس کیس لڑنے کیلئے سرمایہ نہیں۔سرمایہ ہو تو عدالت میں گواہوں کا تحفظ نہیں۔قانون میں اتنے سقم ہیں کہ ملزم کو سزا دینا نہایت مشکل ہے اور اِسی وجہ سے فوجی عدالتیں بنانا پڑیں۔قانون نافذ کرنے والے اکثر ادارے کرپشن کی زد میں ہیں۔یہ معاشرہ مکمل طور پر طاقتور کا معاشرہ بن چکا ہے اور کمزور کی کمزوری آج اِسے سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ پیدا ہی کیوں ہوا؟جب آپ کمزور ہوں گے اور طاقتور کے ہاتھوں میں مرغ بسمل کی مانند تڑپ رہے ہوں گے اور پاس کھڑا نظام بے بسی سے ہاتھ مل رہا ہوگا، تب معلوم ہوگا کہ یہ نظام کس حد تک کمزور کی مدد کرسکتا ہے اور تب معلوم ہوگا کہ حالات کتنے برے ہیں۔جب قانون ساز اداروں میں بیٹھے قانون ساز بغیر قانون پڑھے لیڈر کے اشارہِ ابرو پر قانون کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیں گے،جب قانون ساز ادارے فرد واحد کے حقیر مفاد کو سامنے رکھ کر قانون سازی کریں گے،جب قانون ساز قانون پر کام کرنے کی بجائے ڈویلپمنٹ فنڈ لے کر سڑکیں اور پل بنوائیں گے تو جامع قانون کیسے بنے گا؟جب عدالتیں فوجی آمروں کے کہنے پر بیگناہ لیڈروں کو پھانسیاں دیں گی،جب عدالتیں آمروں کی گود میں بیٹھ کر ڈوگر کورٹس کہلائیں گی،جب عدالتیں نظریہ ضرورت جیسی بدنام زمانہ اصطلاح کو خاموشی سے نافذ کردیں گی،پھر جو کل خود عدالتیں خریدتے تھے وہ آج عدالتوں کے فیصلے کیوں نہ قدموں تلے روندیں؟وہ کیوں نہ کہیں کہ عدالتی فیصلے آسمانی صحیفے نہیں ہوتے؟جب طاقتور کو سرکاری پروٹوکول سے عدالت میں پیش کیا جائے گا اور کمزور کو ہتھکڑیاں لگا کر،اگر عوام کی بڑی اکثریت زیورِ تعلیم سے آراستہ و باشعور ہوگی تو پھر ووٹ کے ذریعے تبدیلی ممکن ہے۔جب ریاست کے تینوں ستون مل کر کمزور کا استحصال نہ روک سکیں اور ظالم کے پنجہِ استبداد کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کرسکیں تو نظام زیادہ دیر نہیں چلا کرتے۔کیونکہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ یہ اِس لیے ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو کمزور خودبخود وحدت بنا کر طاقتور کو زیر کر لیتے ہیں۔ پھر اِس عمل کی کوکھ سے خونی انقلاب جنم لیتا ہے جس میں طاقتوروں کے سر اچھلتے ہیں، خونِ غاصب ارزاں ہوکر گلیوں میں بہتا ہے اور کمزور طاقتوروں کے سروں سے فٹبال کھیلتے ہیں۔پاکستان میں نظامِ عدل اور طاقتور طبقات کے درمیان ایک تاریخی اور فیصلہ کن جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اگر اِس جنگ میں نظام عدل جیت گیا تو ہماری اگلی نسلوں کو ایک صحتمند اور ترقی یافتہ پاکستان ملے گا جسے ترقی یافتہ بنانے میں وہ اپنی محنت اور صلاحیتیں کھپا سکیں گے۔ لیکن اگر طاقتور طبقات نظام عدل پر حاوی ہوگئے تو کمزور طبقات یونہی پستے رہیں گے اور حالات کچھ بھی رخ اختیار کرسکتے ہیں۔قانون ساز ادارے اگر ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملک و قوم کے مستقبل کی فکر کریں اور جامع قانون سازی پر توجہ دیں تو ان کے اقتدار کو دوام خود بخود مل جائے گا۔عدلیہ حق اور انصاف کا بول بالا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھے کہ موجودہ حالات میں عوام کی پرامید نگاہیں اس پر ہی لگی ہیں۔انتظامی اداروں کو چاہیے قانون کا نفاذ ہر پاکستانی کے لیے یکساں کریں ۔عوام  برادری، ذات پات اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوجائیں اور میرٹ پر ان لوگوں کو ووٹ دیں جنہوں نے پاکستان کے ریاستی اداروں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کو مضبوط کیا یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جنہوں نے قانون کو عملا سب کے لیے برابر کردیا یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔