کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وزیراعظم جون کو مفت کورونا ویکسین فراہم کرنے کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ فی الحال مودی جی کی مقبولیت بے حد کم ہوگئی ہے ۔ ساری دنیا میں ان کی کارکردگی پر زبردست تنقید ہوچکی ہے ایسے میں وزیر اعظم نے بڑی مکاری سے پہلی لہر میں کامیابی کا سہرہ اپنے سر باندھا اور دوسری لہر کی تباہ کاری کے لیے صوبائی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا حالانکہ دوسری لہر کے لیے ذمہ دار کنبھ میلے کا انعقاد ان کی مرضی سے ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران بھیڑ انہوں نے جٹائی اور اترپردیش میں پنچایتی الیکشن کا فیصلہ بھی اقتدار کی بھوکی بی جے پی سرکار کا تھا ۔ اس لیے اگر صوبائی حکومتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو اس دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والی شمالی ریاست اترپردیش اور مغرب میں گجرات کے اندر بی جے پی کی حکومت پیش پیش ہے۔ مشرق کے بہار میں این ڈی اے کے اندر بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہے۔مودی جی بھول گئے کہ یہ تیر تو الٹا کمل کی جانب پلٹ کر آتا ہے۔ اس دنیا میں اب جو کچھ اچھا ہوا ہماری بدولت اورساری برائی دوسروں کے سبب والا فارمولا اب نہیں چلے گا ۔ عوام اتنی بیوقوف نہیں ہے۔عالمی سطح پر اپنی ساکھ بنانے کی خاطر مودی جی اپنے منہ میاں مٹھو تو بن گئے لیکن پچھلے دو سالوں کے اندر بین لاقوامی سطح پر ملک کی جو حالت ہوئی ہے اس کو کہاں چھپائیں گے؟ دنیا بھر میں مستحکم ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals Ranking) کی درجہ بندی ابھی حال میں شائع ہوئی ہے ۔ اس فہرست میں ہندوستان مزید دو درجات نیچے اتر کر ویں مقام پر پہنچ گیاہے۔ پڑوسی ممالک سے اس کا موازنہ کریں تو بھوٹان 75 ویں مقام پر ہے۔ برونئی 88 ویں ، مالدیپ 79 ویں ، سری لنکا 87 ویں اور نیپال 96پر ہے۔ امیت شاہ جس بنگلہ دیش کو بھوکا اور ننگا کہتے ہیں وہ 109 ویں اور ہندوستان 120 ویں پر ہے۔ ایسے میں 129 ویں پر موجود پاکستان سے موازنہ کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اس عالمی درجہ بندی کو متاثر کرنا مودی سرکار کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہاں سی بی آئی اور پولس کا چھاپہ مارکر ٹوئٹر یا واٹس ایپ کی طرح دھونس دھمکی ممکن نہیں ہے اس لیے یہ مودی جی کی تقاریر اور دعووں کو آئینہ دکھا کر شرمندہ کرتی ہے۔ ویکسین پر وزیر اعظم کا اعلان سنتے ہوئے یہ خیال گزرتا ہے کہ کاش قوم کو لاحق کذب گوئی اور فسطائی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی کوئی ویکسین ایجاد ہوجاتی اور اسے سارے لوگوں کو مفت میں لگاکر منافرت کے وائرس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تو اچھا تھا مگر غالب نے کہا تھا ہزاروں خواہشیں ایسی۔