لوڈشیڈنگ سے نجات:پاور ہائوسز کی تعمیر:بجلی کی پیداوار

صوبائی وزیربرقیات مشتاق حسین نے کہاہے کہ چار سال بعد بجلی کی کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی30 میگاواٹ کے غواڑی بجلی گھر پر رواں سال کام کا آغاز کیاجائیگا شغرتھنگ اور ہرپوہ پاورہائوسز پربھی آئندہ سال سے کام شروع ہوگا تین بڑے بجلی گھروں کے بننے کے بعد بجلی کا بحران مکمل طورپر ختم ہوگا ہر طرف بجلی ریل پیل ہوگی یہاں نئی صنعتیں بنیں گی علاقہ معاشی لحاظ سے بہت اوپراٹھے گے۔ صوبائی حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت کام کررہی ہے ہماری پوری توجہ بجلی بحران ختم کرنے کے اوپر ہے انشا اللہ جلد بجلی کے بحران پر قابو پالیں گے تین بڑے بجلی گھروں کی تکمیل سے سو میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل ہوگی وہ وقت دور نہیں کہ یہاں کے لوگ بجلی سے بڑے فائدے لیں گے اوریہاں بڑے پیمانے پر معاشی ترقی ہوگی۔ سرمک بجلی گھر سے بجلی سکردو لانے کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی کمیٹی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے انشاء اللہ کی بجلی سکردو لانے میں جلد کامیاب ہوں گے۔بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے سابق حکومتوں نے ایک پیسے کا کام نہیں کیا جس کی وجہ سے آج بحران سے لوگ متاثر ہورہے ہیں ہماری حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔اسے افسوسناک قرار دیا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان بجلی کی پیداوار کا حب ہونے کے باوجود بدترین لوڈ شیڈنگ کے نرغے میں ہے۔یہ کہا جا چکا ہے کہ محض بہتے پانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے تو پھر کیوں اس پر پیشرفت نہیں کی جاتی۔امریکہ میں محققین کا کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی تجرباتی مشین بنائی ہے جس کے ذریعے استعمال شدہ پانی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔اس مشین کے ذریعے نہ صرف بجلی پیدا کی جا سکے گی بلکہ بجلی کے ساتھ ساتھ یہ مشین بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیے جانے والے پانی کو صاف کرنے کا کام بھی سرانجام دے گی۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ مشین ترقی پذیر ممالک کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔بجلی بنانے کی اس ترکیب کو ریڈ یعنی ری ورس الیکٹرو ڈائلیسز کہا جاتا ہے اور اس میں سمندری اور دریائی پانی کی مدد سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔لیکن پین سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ ریڈ ٹیکنالوجی میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ اس کو عمل میں لانے کے لیے بہت سے میمبرینز یا جھلیوں کی ضرورت پڑتی ہے اور ساتھ میں ٹیکنالوجی کے اس پلانٹ کا ساحلی علاقے کے نزدیک ہونا بھی ضروری ہے۔تاہم تحقیق کرنے والے محققین کا دعوی ہے کہ ان کی بنائی ہوئی تجرباتی مشین میں نہ تو کسی پرت یا جھلی کی اور نہ ہی سمندری پانی کی ضرورت پڑے گی۔اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر بروس لوگن کے مطابق یہ مشین کہیں بھی استعمال کی جا سکتی ہے ۔کچھ عرصہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ کراچی کے طلبا نے بہتے پانی سے بجلی بنانے والی ایک ٹربائن بنالی جو پاکستان میں آبشار، ندیوں اور یہاں تک کہ کراچی کے نالوں سے بھی بجلی بناسکتی ہے۔ بجلی کی قلت دور کرنے کے لیے برساتی نالوں اور شہر کی بڑی آبی گزرگاہوں سے بجلی تیار کرنے کی سستی اور آسان ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے۔یہ طریقہ نہ صرف بڑے شہروں کے برساتی نالوں بلکہ پہاڑی علاقوں میں بہنے والے جھرنوں اور آبشاروں کے ساتھ دریائوں کے کنارے رہنے والی آبادیوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ اس سستے اور کارگر طریقے پر عمل کرکے پاکستان سے بجلی کی قلت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔تکنیکی تعلیم دینے والے کراچی کے ادارے عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی  واٹر ٹربائن تیار کرکے کراچی کے نالوں اور آبی گزرگاہوں سے بجلی بنانے کا آئیڈیا پیش کیا تھا۔ اس ٹربائن کو حب ندی سے کراچی کو سپلائی ہونے والے پانی کی گزرگاہ میں نصب کرکے کامیاب تجربہ بھی کیا جاچکا ہے۔اس کی مدد سے آبی گزرگاہیں اور ندی نالوں سے سستی بجلی پیدا کرکے توانائی کی قلت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔واٹر ٹربائن براق کے طرز کی واٹر ٹربائن بنانے میں کینیڈا کے انجینئرز کو کئی سال کا عرصہ لگا تھا۔گلگت بلتستان میں ان تمام نالوں اور آبی گزرگاہوں پر ایسی واٹر ٹربائن لگائی جاسکتی ہیں، ٹربائن پانی کے بہائو اور رفتار کی بنیاد پر مختلف گنجائش کی حامل ہوسکتی ہیں جن کی بڑے پیمانے پر تیاری کی صورت میں لاگت بھی کم ہوگی۔ ٹربائن کی لائف بھی زیادہ ہوگی اور ان کی مرمت بھی توانائی کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں کم ہوگی، پانی کے بہائو سے بجلی پیدا کرنے کا طریقہ 24 گھنٹے کارگر ہوگا اور دن کے علاوہ رات میں بھی بجلی پیدا کی جاسکے گی۔براق کا ڈھانچہ المونیم سے تیار کیا گیا ہے وزن میں ہلکا ہونے کی وجہ سے اسے ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے۔ المونیم کے ڈھانچے کے درمیان میں موٹرنصب ہے جو پانی کے بہائو سے گھوم کر بجلی پیدا کرتی ہے جسے  براہ راست گرڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے یا پھر بیٹریوں میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں بھی اس طریقے سے استفادہ کرسکتی ہیں جس سے انہیں اپنی پیداواری لاگت کم کرنے میں مد د ملے گی۔اس طریقے کی افادیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان میں صرف 28 فیصد بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے، پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے ابتدائی لاگت بہت زیادہ ہے جو ڈیم کی تعمیر پر خرچ ہوتی ہے جبکہ ڈیم کی تعمیر کے لیے وقت بھی  بہت درکار ہوتا ہے، اکثر بڑے آبی منصوبے سیاسی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں، دوسری جانب ملک میں بہنے والے دریائوں سے بہتا ہوا پانی سمندر میں گرکر ضائع ہورہا ہے بڑے ڈیم نہ بنانے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے آبی راستوں سے بجلی حاصل کرنے کے امکانات کو بھی ضائع کیا جارہا ہے۔ پانی کے بہائو سے چلنے والی چھوٹی ٹربائنز سے شمالی علاقہ جات میں انقلاب لایا جاسکتا ہے بالخصوص سیاحتی علاقوں میں ہوٹلوں اور رہائشی آبادیوں کے لیے سستی بجلی مہیا کی جاسکتی ہے، سوات، ناران، ہنزہ، شوگران اور گلگت کے علاقے جہاں پانی کا بہائو بہت تیز ہوتا ہے چھوٹی اور ہلکی واٹر ٹربائن لگاکر بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ زیادہ تر آبادیاں دریائوں کے ساتھ ساتھ یا بڑی نہروں والے ذخیرے  کے اردگرد قائم ہیں، یہاں  کھیتی باڑی کے لیے استعمال ہونے والا پانی بھی چھوٹی ٹربائن لگاکر بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس طریقے پر صرف ایک مرتبہ کیپیٹل لاگت آتی ہے۔پانی کے بہائو سے بجلی پیدا کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ہلکی اور چھوٹی ٹربائنز کے پراجیکٹ کے تحت بڑے پیمانے پر ٹربائن تیار کی جائیں تو اس کی لاگت میں دو تہائی کمی لائی جاسکتی ہے۔وطنِ عزیز ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے مگر شاید پالیسی سازوں کے اخلاص میں کمی ہے یا پھر درونِ خانہ کچھ اور کہانی ہے کہ ہم سوچتے کچھ اور ہیں اور ہوتا کچھ اور ہے۔ ایک زمانے سے ہم سستی بجلی، سستی بجلی کا راگ سنتے آرہے ہیں مگر جب بجلی پیدا کرنے کے عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو پھر وہی فرنس آئل کے بجلی گھر لگاتے ہیں اور وہ بھی پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے۔ حیرت یہ ہے کہ ہم نہ تو مستقبل کے لئے کوئی پلاننگ کرتے ہیں اور نہ ہی ماضی سے کوئی سبق سیکھتے ہیں؟ہمارے ہاں بھی ایسے ایسے صاحبانِ ثروت موجود ہیں جو پل بھر میں اس طرح کے پاور ہائوس کھڑے کر سکتے ہیں مگر افسوس کہ اِس طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔  ہم کیوں نہیں بہتے ہوئے دریائوں پر چھوٹے چھوٹے پاور ہائوسز تعمیر کر کے سستی بجلی پیدا کرتے؟ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز اور ان کا پگھلتا ہوا پانی جو ہم سارے کا سارا ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ پانی بھی کوئی ایک جگہ کھڑا نہیں رہتا بلکہ نیچے کی طرف آ رہا ہے ہم کیوں نہیں پانی کی ان گزرگاہوں پر چھوٹے چھوٹے پاور ہائوسز لگا کر بجلی پیدا کرتے؟  فرنس آئل یا دیگر مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے اگر پرائیویٹ صنعتکاروں کو ملک بھر کے دریائوں و نہروں پر چھوٹے چھوٹے پاور ہائوس لگانے کی اجازت دی جائے تو ایک روپے سے بھی کم لاگت پر حاصل ہونے والی بجلی اگر قومی گرڈ اسٹیشن کو سو فیصد منافع پر بھی بیچی جائے تو پھر بھی عام صارف کو نہایت سستی اور وافر بجلی دستیاب ہو سکتی ہے مگر شاید ہم سستی بجلی بنانا ہی نہیں چاہتے۔اس لیے حکام بالا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچانے کے لیے قلیل المدتی پراجیکٹس لگائیں تاکہ لوگوں کواس تکلیف سے نجات مل سکے۔