ممکنہ مسائل اور معاشی بوجھ کا اندیشہ

پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے برا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانے کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر بہت گہری نگاہ ہے، اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کررہے ہیں کیونکہ افغان امن عمل کے حوالے معاونت میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہرگز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں نے ہی کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح سے چلنا ہے۔کون نہیں جانتا کہ امریکی قیادت میں بننے والے چار افریقی اتحادکوبیجنگ اورماسکوسنجیدگی سے لے رہے ہیں۔مارچ میں ہی امریکاکی سربراہی میں بننے والے چارافریقی اتحادکااجلاس امریکاجہاں کہیں سے بھی مسائل حل کیے بغیرفراراختیارکررہاہے،وہ خطے روس اورچین کے زیرِاثرآرہے ہیں اوریہی معاملہ افغانستان اوراس خطے کاہے۔بیجنگ اورروس شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت افغانستان میں نئے کردارکی تیاری کررہے ہیں اورامریکی انخلا سے پیداہونے والے خلاکوپرکرنے کی کوشش کریں گے۔ماسکونے سخت ردِعمل دیااور کہاکہ امریکاچین مخالف کھیل میں بھارت کواستعمال کررہاہے۔جوبائیڈن نے اپنے پہلے بیرونِ ملک دورے کا آغازروس کو یہ سخت تنبیہ کرکے کیاکہ اگراس نے امریکا کے خلاف نقصان دہ کاروائیوں میں حصہ لیاتو اسے جامع اورمعنی خیزنتائج کاسامناکرناپڑے گا۔جوبائیڈن نوجون کوجی سیون کے اجلاس میں شرکت کیلئے اپنے پہلے بیرونِ ملک دورے کیلئے برطانیہ پہنچے جہاں انہوں نے اپنے اتحادیوں کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھاتے ہوئے یقین دہانی کروائی کہ وہ اتحادیوں کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط کریں گے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے ساتھ ایک نئے چارٹر پربھی اتفاق ہوا ہے جو 1941میں طے پانے والامعاہدے کاجدیدورژن قراردیاگیاہے۔ اس میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ موسم تبدیلی کے نکات کوبھی شامل کیاگیا ہے۔امریکااورروس کے تعلقات متعددوجوہات کی بناپر سرد مہری کاشکارہیں۔ اپریل میں پوٹن نے مغربی ممالک پرروس کوبے جانشانہ بنانے کاالزام لگاتے ہوئے کہاتھاکہ وہ ایک حدپارنہ کریں۔امریکامیں اسلحے کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کیلئے امریکی حکومت کوذمہ دارٹھہراتے ہوئے کہاکہ ہمارے ملکوں میں جوکچھ بھی ہوتا ہے،اس کے ذمہ دارلیڈر خود ہوتے ہیں۔امریکاکی سڑکوں پرروزلوگ مرتے ہیں۔آپ منہ بھی نہیں کھول پاتے کہ آپ کوگولی ماردی جاتی ہے۔ دنیابھرمیں سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں میں لوگوں پرتشددکیاجاتاہے۔کیاایسے انسانی حقوق کاتحفظ کیاجاتاہے؟روس نے امریکاکو مبینہ سائبرحملوں کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں جس کاامریکانے کوئی جواب نہیں دیاجبکہ بائیڈن نے کہاکہ وہ اپنے پہلے دورے کے ہرموڑپریہ واضح کرناچاہتے ہیں کہ امریکااب لوٹ آیاہے اوردنیابھرکی جمہوریتیں مشکل ترین چیلنجز کے حل کے لیے اکھٹی کھڑی ہیں۔ تاہم پوٹن نے جوبائیڈن کوتجربہ کارسیاستدان اورٹرمپ سے بہت مختلف قراردیا۔1985میں جب سرد جنگ عروج پرتھی تب امریکی صدر رونالڈریگن اورسوویت یونین کے رہنما میخائل گورباچوف کی جنیوا میں ملاقات ہوئی تھی۔یقیناپیوٹن رواں ماہ  بیجنگ کادورہ کرکے صدرشی کواعتمادمیں لیں گے۔جون اورجولائی کی ملاقاتیں اوراقدامات مستقبل کے رجحانات کاپتادیں گے۔بائیڈن سے ملاقات کے بعدچین کابیلٹ اینڈروڈمنصوبہ،جس کاایک چھوٹاساحصہ سی پیک ہے،افغانستان کے بغیرمکمل نہیں ہوتا۔ امریکی انخلاکے بعدچین پاکستان اور ایران میں بڑی سرمایہ کاری کی حفاظت کیلئے افغانستان میں استحکام کی کوشش کرے گااور ایک امکان یہ بھی ہے کہ خانہ جنگی کی صورت میں چین امن فورس تعینات کرے تاکہ افغانستان کے ساتھ ملحق سنکیانگ صوبے کوبھی ممکنہ بدامنی سے بچایاجا سکے۔ بائیڈن سے ملاقات کے بعدپیوٹن جولائی میں بیجنگ کادورہ کرکے صدرشی کواعتمادمیں لیں گے۔جولائی کی ملاقاتیں اور اقدامات مستقبل کے رجحانات کاپتادیں گے۔امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق چین کابیلٹ اینڈروڈمنصوبہ،جس کاایک چھوٹاساحصہ سی پیک ہے،افغانستان کے بغیرمکمل نہیں ہوتا۔ امریکی انخلاکے بعدچین پاکستان اور ایران میں بڑی سرمایہ کاری کی حفاظت کیلئے افغانستان میں استحکام کی کوشش کرے گااورایک امکان یہ بھی ہے کہ خانہ جنگی کی صورت میں چین امن فورس تعینات کرے تاکہ افغانستان کے ساتھ ملحق سنکیانگ صوبے کوبھی ممکنہ بدامنی سے بچایاجا سکے ۔ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت چین پہلے ہی وہاں پانچ ہزار فوجی تعینات کرنے کی اجازت لے چکاہے۔ افغانستان سے امریکیوں کی روانگی کے بعدچین بیلٹ اینڈروڈمنصوبے کوتیزرفتاری سے بڑھاسکتاہے۔ امریکا جواربوں ڈالرجنگ پرلگا کر خطے سے نکلنے پرمجبورہوا ہے وہ بیجنگ کوراستہ دے رہاہے اورڈریگن کوراستہ ملنے کامطلب ہے کہ اب خطے پرایک اورطاقت سافٹ پاورکے ساتھ اجارہ داری قائم کرنے کوہے۔اگرچین افغانستان میں فعال ہواتویورپی طاقتوں کے علاوہ بھارت بھی افغانستان سے باہر ہوجائے گا۔کابل انتظامیہ میں پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعدادبیٹھی ہے،جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیرحمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیاتبصرہ کیااورپاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پرنہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیرکے ساتھ رابطوں اورکام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔اس کے علاوہ امراللہ صالح اوراس جیسے کئی عہدے دارہیں جواپنی ناکامیوں کاملبہ پاکستان پرڈالتے رہتے ہیں۔دراصل یہ بھارت نوازسیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دارہیں۔بھارت کابل انتظامیہ کوپاکستان کے خلاف استعمال کرتاہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان سرحدپرلگائے رکھے۔بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کواپنی جگہ بنانی اورمضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کاجونیا نظام تشکیل پارہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دارہوبلکہ اپنے مفادات کابہترتحفظ بھی کرسکے۔امریکاافغانستان سے انخلاکے بعدجاپان اوربھارت کوافغانستان میں اثرورسوخ کیلئے استعمال کرسکتاہے۔ان دونوں ملکوں کی ماضی میں افغانستان کے ساتھ کوئی مخالفت یادشمنی نہیں رہی،کابل کی موجودہ انتظامیہ کواپناوجودبرقراررکھنے کیلئے بیرونی مالی اورفوجی مددپر انحصارکرناپڑے گااور امریکاخطے میں نئے چارفریقی اتحاد کواس مقصد کیلئے استعمال کرے گا۔بھارت پہلے بھی کابل انتظامیہ کومالی مدددے چکاہے۔ایران کے ساتھ بھی دوبارہ جوہری معاہدے کی کوشش خطے میں واشنگٹن کے اثرو رسوخ کو برقراررکھنے کی کوشش ہے۔امریکاایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعدچارافریقی اتحاد کے رکن ملکوں کوایران کے ساتھ تجارت اورسرمایہ کاری کیلئیاستثنی دے سکتاہے اوراس معاشی فائدے کوافغانستان میں اثرورسوخ کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے۔امریکی سربراہی میں قائم چاررکنی غیررسمی اتحاد افغانستان میں معدنیات کی تلاش کے بہانے سیکورٹی اورجاسوسی کیلئے امریکاکومدد بھی فراہم کرسکتاہے۔یہ چارفریقی اتحادچین کے اثرورسوخ کاتوڑکرنے میں بھی امریکاکامددگارہوگا۔افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کاہے،بظاہرلگتاہے کہ امریکاخودبھی خانہ جنگی چاہتاتھایاپھراسے فرارکی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوئوں پرغورہی نہیں کیا۔سب سے اہم پہلویہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ ایسے وقت پردی جب افغان فریقوں کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہونے والے تھے۔اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے قیام پربات ہوناتھی اور امن کیلئے یہی سب سے اہم نکتہ تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اعلان کے بعدافغان طالبان نے استنبول نہ جانے کااعلان کیا۔بائیڈن کے غیرمشروط انخلاکے اعلان کے بعدطالبان قیادت نے فیصلہ کیاکہ مکمل فوجی انخلاتک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔دراصل اس فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ کارفرماہے کہ غیرملکی افواج کے نکلنے کے بعدکابل پرقبضہ مشکل نہیں ہوگا۔بائیڈن انتظامیہ کے بغیر سوچے سمجھے اعلان نے خانہ جنگی کاامکان بڑھادیاہے،جس سے پاکستان ایک بارپھرمہاجرین کی صورت میں معاشی بوجھ تلے دب سکتاہے اورنئے مسائل سراٹھاسکتے ہیں۔