دنیا میں جہاں بھی غربت ہے وہاں زرداری اور نواز شریف جیسے لیڈر ہیں، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی غربت ہے وہاں زرداری اور نواز شریف جیسے لیڈرز ہیں، نواز شریف اداکاری کرکے ملک سے باہرگیا، کمزور جیلوں میں جائے اور طاقتور این آر او لے کر باہر جا  کراپنے پوتے کا پولو میچ دیکھے، یہ بادشاہوں کا کھیل ہے،  عام لوگوں کو کھیل نہیں ، بتائیں پو تے کے پاس اتنا پیسہ کدھر سے آیا، یہ آپ کا پیسہ ہے، ہم نے ایک عظیم قوم بننا ہے، اس راستے پر نکل چکے ہیں، ظلم کے نظام کے خلاف ہمارا جہاد ہے، قانون کی حکمرانی کے لیے ہم جنگ لڑ رہے ہیں، عمران خان کوئی ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کرتا، عمران خان کسی جج کو فون نہیں کرتا کہ تین نہیں 5 سال سزا دو یہاں عدالتیں آزاد ہیں، لاہور ہائی کورٹ کو تحریک انصاف کنٹرول نہیں کرتی پھر یہ ملک سے بھاگے ہوئے کیوں ہے ،  جو پرانے نظام کو بچانا چاہتے ہیں، ان سے ہر روز جنگ لڑ رہے ہیں، عوام کی مدد سے ان مافیاؤں کو شکست دے کر دکھاؤں گا ،  آزاد انسان کبھی کسی کی غلامی نہیں کرتا، مجھے فخر ہے  میں نے کشمیر کا کیس پوری دنیا میں اٹھایا،کشمیریوں کے لیے خوش خبری ہے، ان شا اللہ آنے والے دنوں میں ہم مقبوضہ کشمیر کو آزاد دیکھیں گے، ووٹ دیتے وقت کبھی دوستی، خاندان یا قبیلہ کا نہ سوچیں، اس طرح ہمارا ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا، 25 تاریخ کو دوستیوں اور رشتہ داریوں سے بالاتر ہونا اور نظریے کو ترجیح دینا ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  آزاد کشمیر  انتخابات کے سلسلے میں  بھمبر اور میرپور میں پاکستان تحریک انصاف  کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ماسک پہننے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو اب تک بچایا، ساتھ والے ملک بھارت کو دیکھیں کورونا کی وجہ سے کتنے لاکھ لوگ مرچکے ہیں اور ان کی معیشت کو اتنا نقصان ہوا ہے کہ کتنے کروڑوں لوگ غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہمارا ملک وہ ایک عظیم قوم بنے، دنیا میں ہمارا کوئی بھی شہری ہمارا پاسپورٹ لے کر نکلے تو دنیا کہے کہ یہ دیکھیں پاکستانی آرہا ہے، ہرے پاسپورٹ کی عزت ہو، ہم ایک عظیم قوم بنیں۔ ایک انسان جب شریعت پر چلتا ہے تو بڑا انسان بن جاتا ہے، ایک قوم جب ان کی سنت اور مدینے کی ریاست کے اصولوں پر چلتی ہے تو عظیم قوم بنتی ہے تو میں چاہتا ہوں کہ ہماری قوم عظیم قوم بنے۔ہم بدقسمتی سے جو غلط راستے پر چلے گئے تھے، بھیک مانگ کر، قرضے لے کر گزارا کرنا، امداد لے کر دوسروں کی جنگوں میں شامل ہونا، اپنے لوگوں کا نقصان کرنا، اپنی عزت کھونا، کوئی بھیک مانگنے اور قرضہ مانگنے والے کی عزت نہیں کرتا، آپ آزما کر دیکھیں انسانوں کے سامنے جو ہاتھ پھیلاتا ہے کوئی اس کی عزت نہیں کرتا، نہ اس ملک کی عزت کرتا جو اپنے پیر پر کھڑا نہیں ہوتا۔ دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو سچا آدمی ہوتا ہے اور جو انصاف کرتا ہے، پاکستان کے ایک لیڈر کو مانتا ہوں، سب ان کو مانیں گے، ان کا نام تھا قائد اعظم محمد علی جناح تھا، کانگریس بھی قائد اعظم کو سچا اور انصاف کرنے والا مانتے تھے، مخالف تھے لیکن عزت کرتے تھے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے عظیم قوم بننا ہے، ہم نے اپنے آپ کو بدلنا ہے اور اپنے ملک کو بھی بدلنا ہے، اپنے آپ کو کیسے بدلنا ہے، سچ بولنا ہے، امانت دار ہونا ہے، گاؤں اور شہر اس انسان کی عزت کرتا ہے جس کو وہ سمجھتے ہیں کہ بڑا سچا آدمی اور انصاف کرنے والا ہے، لوگ انصاف کروانے کے لیے اس کے پاس جاتے ہیں۔جلسے کے شرکا سے ان کا کہنا تھا کہ جب 25 جولائی کو ووٹ ڈالنے جاؤگے تو سب سے ایک سوال پوچھنا کہ کیا جس جماعت کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں، کیا ان کا لیڈر سچا اور ایمان دار ہے یا نہیں، کیا ان کا ایسا لیڈر تو نہیں جو ملک سے جھوٹ بول کر بولی ووڈ کی ایکٹنگ کرکے بیمار بن کر باہر گیا ہواس نے ایسی ایکٹنگ کی کہ ہماری کابینہ کے اندر جو عورتیں تھیں وہ اس کی شکل دیکھ کر رونا شروع کردیں، خوف آگیا کہ جہاز کی سیڑھیاں بھی چڑھ جائے گا یا نہیں، جیسے لندن کی ہوا لگی تو ایک نواز شریف یہاں سے گیا تھا وہاں کر دوسرا نواز شریف نظر آگیا۔میں پوچھتا ہوں کہ جب اس ملک کی عدالتیں آزاد ہیں، آج پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں، عمران خان کوئی ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ نہیں کرتا، عمران خان کسی جج کو فون نہیں کرتا کہ تین نہیں 5 سال سزا دو یہاں عدالتیں آزاد ہیں، لاہور ہائی کورٹ کو تحریک انصاف کنٹرول نہیں کرتی، آزاد ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر عدالتیں آزاد ہیں تو پھر یہ سارے باہر کیوں بھاگے ہوئے اور ڈر کس سے ہے، ان کا منشی اسحٰق ڈار باہر، اس کے بیٹے بھی باہر، نواز شریف کے بیٹے باہر بھاگ گئے، شہباز شریف کا داماد اور بیٹا بھی باہر بھاگ گیا، بھئی کس سے ڈر رہے ہو۔ یہاں تو تحریک انصاف کے وزیروں کو نہیں چھوڑا جاتا، ہمارے دو وزیروں کو جیل میں ڈال دیا گیا، اس ملک میں عدالتیں اور انصاف کا نظام آزاد ہیں، ان سے پوچھیں جس پارٹی کو ووٹ دے رہے ہیں کیا ان کا لیڈر صادق اور امین ہیں یا نہیں اور اگر لیڈر ایمان دار نہیں ہے تو امیدوار بھی ہو وہ کچھ نہیں کرسکتا لیکن لیڈر ایمان دار ہو اور امیدوار ایمان دار نہ ہوتو کچھ کرتے ہوئے، اس کو پتہ ہے اوپر والا پکڑ لے گا، وہ خود پیسے نہیں بنا رہا ہے تو وہ اور کسی کو بھی پیسے نہیں بنانے دے گا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، نوجوانو یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں ہے، دنیا میں ایک ایک غریب ملک میں بھی نواز شریف اور آصف زرداری بیٹھے ہوئے ہیں، یعنی وہاں بھی ان کے لیڈر ان کے ملک کا پسیہ چرا کر باہر لے جارہے ہیں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ کو ایک ملک نہیں ملے گا، جن کے لیڈر ایمان دار ہوں، جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں قانون کی بالادستی اور انصاف ہو اور وہاں غربت ہو، کوئی ایک ملک نہیں ملے گا۔ جہاں آپ کو غربت ملے گی وہاں آپ کو قانون کے بجائے طاقت کی حکمرانی ملے گی، وہاں آپ کو کرپٹ لیڈرز ملیں گے، کرپٹ وزیراعظم ملے گا، کرپٹ وزیر ملیں گے، کرپٹ اراکین اسمبلی ملیں گے، اسی لیے غربت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمزور جیلوں میں جائے اور طاقت ور این آر او لے اور باہر جا کر بیٹھ جائے اور اپنے پوتے کا پولو میچ دیکھے، یہ بادشاہوں کا کھیل ہے، یہ عام لوگوں کو کھیل نہیں ہے، وہاں گھوڑا رکھنا اور پولو کھیلنے کے لیے بڑا پیسہ چاہیے۔ یہ بتائیں کہ پوتا کے پاس اتنا پیسہ کدھر سے آیا، یہ آپ کا پیسہ ہے، ایک قوم تب کھڑی ہوتی ہے جو حق اور سچ میں تمیز کرتی ہے اور اخلاقیات پر کھڑی ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک عظیم قوم بننا ہے، اس راستے پر نکل چکے ہیں، ظلم کے نظام کے خلاف ہمارا جہاد ہے، قانون کی حکمرانی کے لیے ہم جنگ لڑ رہے ہیں، پرانا نظام ہے، جو پرانے نظام کو بچانا چاہتے ہیں، ان سے ہر روز جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے مقابلہ کرنا آتا ہے اور عوام کی مدد سے ان مافیاؤں کو شکست دے کر دکھاؤں گا اور ہم ایک نیا پاکستان بنا کر اور عظیم قوم بن کر دکھائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ 5 اگست کے بعد مجھے خوف تھا کہ مودی کے ظلم کے سامنے کشمیری ہمت ہار جائیں گے لیکن پاکستان اور ساری دنیا کے مسلمان ان کو دیکھ کر فخر کرتے ہیں کہ جس دلیری اور جذبے سے انہوں نے نریندر مودی کے ظلم کا مقابلہ کیا ہے ہم ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور میرے ذہن میں کبھی شک بھی نہیں ہوا کہ ان شا اللہ آنے والے دنوں میں ہم مقبوضہ کشمیر کو آزاد دیکھیں گے۔ بعد ازا ںآزاد کشمیر کے ضلع میر پور  میں جلسے سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ریاست کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا تومیں بڑا حیران ہوا کہ ان کو کوئی فکر نہیں تھی کہ پاکستان کیا کرے گا اورمیرے ذہن میں آیا کہ پاکستان چپ کرے گا جس طرح پہلے تھا، جب مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز اور ماورائے قانون قتل ہوتے تھے تو پاکستان سیکوئی نہیں بولتا تھا۔ ہماری ایک سیکریٹری خارجہ کا بیان ہے کہ نواز شریف کا حکم تھا کہ بھارت پر کوئی تنقید نہیں کی جائے گی، جب وہ بھارت گیا تو حریت کے لیڈر سے اس لیے نہیں ملا کہ نریندر مودی ناراض نہ ہوجائے۔مودی غلط فہمی میں تھا کہ جس طرح نواز شریف کے دور میں پاکستان چپ کرکے بھارت سے ڈر کر کچھ بولتا نہیں تھا تو 5 اگست کو بھی پاکستان چپ کرکے ہضم کر جائے گا لیکن اس کو غلط فہمی اس لیے ہوگئی اور سمجھتا تھا کہ پاکستان کا جو بھی لیڈر آئے گا وہ پہلے اپنی کرسی، جائیداد، کاروبار اور ملک سے باہر پڑے بینک بیلنس اور اپنی منی لانڈرنگ کا سوچے گا اور اسی وجہ سے چپ کرکے بیٹھ جائے گا مگر اللہ کا شکر ہے میں ایک آزاد انسان ہوں، جب آپ کہتے ہیں اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا تو ساری زنجریں ٹوٹ جاتی ہیں اور اس کو کسی کا خوف ہوتا اور سمجھتا ہے کہ کوئی ذلیل نہیں کرسکتا ہے، آزاد انسان کبھی کسی کی غلامی نہیں کرتا۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے کشمیر کا کیس پوری دنیا میں اٹھایا، اقوام متحدہ میں 50 سال بعد کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، کشمیر کا نام اس لیے نہیں لیا کہ مجھے ووٹ چاہیے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیری مسلسل جدوجہد میں رہے اور ہار نہیں مانی، ایک لاکھ کشمیری شہید ہوچکے ہیں لیکن ہار نہیں مانی، بچپن سے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اللہ جب بھی تو نے مجھے موقع دیا میں کشمیر کا کیس ساری دنیا میں لڑوں گا اور میں نے ہر فورم پر لڑا میں نے میڈیا پر لڑا، باہر کے بڑے بڑے چینلز سی این این، بی بی سی اور امریکا میں جا کر تھنک ٹینک، ایشیا سوسائٹی ہر جگہ جا کر کشمیر کی آواز بلند کی اور دنیا کو بتایا کہ یہ بھارت میں جو آر ایس ایس کی حکومت ہے، یہ نفرت پسند لوگ، ہندو بالادستی پسند لوگو باقی اقلیتوں کو برابر کے لوگ نہیں سمجھتے۔وزیراعظم نے کہا کہ جرمنی میں ہٹلر کا جو نظریہ تھا اس کو لے کر چلے ہیں، آر ایس ایس صرف مسلمانوں پر ظلم نہیں کر رہے ہیں بلکہ عیسائی اور سکھوں اور دلت کو برابر کا شہری نہیں سمجھتے، سکھوں کا قتل عام کیا اور اسی نظریے پر مودی نے 5 اگست کو کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کرلیا کیونکہ وہ کشمیریوں کو برابر کے شہری نہیں سمجھتے تاہم میںمقبوضہ کشمیر کے دلیر نوجوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، دنیا میں کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ 8 لاکھ فوج 90 لاکھ کشمیریوں پر لا کر بٹھا دی۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کوئی اور ہوتا تو گھٹنے ٹیک دیتا لیکن کشمیری قوم ایک اللہ کو ماننے والی قوم ہے، جس طرح انہوں نے مقابلہ کیا، جس پر میں ان کو پیغام دیتا ہوں کہ آپ نہ صرف پاکستانیوں کا سر فخر بلند نہیں کیا بلکہ فلسطین کے لوگ جن پر اسرائیل نے ظلم کیا وہ بھی آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ ایمان والوں کے لیے ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا کرتا ہوں، یہ کشمیریوں کے لیے خوش خبری ہے، ان شاللہ وہ دن دور نہیں کیونکہ بھارت نے جو کرنا تھا وہ کرلیا، ساری دنیا نے دیکھ لیا، یہ جو کشمیر کا جغرافیہ بدلنا چاہتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں وہ ناکام ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں باہر سے لوگوں کو لاکر بیٹھانا جنگی جرم ہے، جنیوا کنونش میں جرم ہے اور پاکستان ہر فورم پر اس کو اٹھائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کا کوئی امیدوار دو نمبر ہے، ہوسکتا ہے ہم نے بھی کسی دو نمبر کو ٹکٹ دیا ہو، میں کہہ نہیں سکتا لیکن یقین دلاتا ہوں کہ کبھی بھی جو بھی نیچیآگیا، اگر میں خود چوری نہیں کر رہا اور پیسے نہیں بنا رہا تو میں اس کو کیسے پیسے بنانے دوں گا، اگر میں خود چوری کر رہا ہوں تو پھر اپنی آنکھیں بند کردیتا۔ دو بڑی جماعتیں 30 سال سے ملک کو نوچ رہی تھیں، ان کے لیڈر کرتے کیا ہیں، کیونکہ یہ خود بھی پیسہ بنا رہے ہوتے ہیں اور ان کے نیچے ہیں ان کو بھی کانا کردیتے ہیں تاکہ حمام میں سب ننگے ہوں اور ان کو کچھ نہیں کہہ سکیں۔عمران خان نے کہا کہ ووٹ کبھی دوستی، خاندان یا قبیلہ کا نہ سوچیں، اس طرح ہمارا ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا، 25 تاریخ کو دوستیوں اور رشتہ داریوں سے بالاتر ہونا اور نظریے کو ترجیح دینا، وسائل کی وجہ سے لوگ امیر یا غریب نہیں ہوتے، جس ملک میں قانون اور انصاف ہوتا ہے اور جس ملک کے حکمران قانون کے نیچے ہوتے ہیں وہ ملک خوش حال ہوتے ہیں۔