Image

گلگت بلتستان کوجلد فنڈز کی منتقلی میں رکاوٹےں

 وزارت امور کشمیر وگلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے لئے براہ راست فنڈز کی منتقلی کے خلاف حرکت میں آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت امور کشمیر کے افسران نے وزیر اعظم آفس کو باقاعدہ خط لکھا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز کی منتقلی وزارت امور کشمیر کے ذریعے ہی ہونی چاہئے۔ وزارت امور کشمیر کی افسر شاہی نے دونوں حکومتوں کے لئے وزارت خزانہ کے ذریعے براہ راست فنڈز کی منتقلی کی مخالفت کی ہے اگروزارت امور کشمیر کی رکاوٹیں ختم کرکے وفاقی وزارت خزانہ سے براہ راست فنڈنگ کی سہولت حاصل ہوجائے تو گلگت بلتستان کو چالیس دن کے بجائے فنڈز ایک ہفتے میں حاصل ہوسکیں گے۔ آزاد کشمیر کو یہ سہولت کافی عرصہ پہلے سے حاصل ہے اور سابق حکومت کے دور میں گلگت بلتستان کے بھرپور مطالبے پر وزیر اعظم آفس نے گلگت بلتستان کو بھی براہ راست فنڈز منتقل کرنے کی منظوری دی تھی۔ چونکہ وزارت امور کشمیر کے افسران ان منصوبوں پر اپنا شکنجہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں لہذا براہ راست فنڈز منتقلی کی سہولت کی مخالفت کی جارہی ہے،ذرائع کے مطابق افسر شاہی اس مرتبہ صرف گلگت بلتستان کے لئے اس سہولت کی مخالفت نہیں کر رہی ہے بلکہ آزاد کشمیر کو حاصل سہولت بھی واپس لینا چاہ رہی ہے۔فنڈز کی وزارت امور کشمیر کے ذریعے منتقلی اور اس حوالے سے کئی اداروں کی مداخلت کی وجہ سے وفاق سے گلگت بلتستان حکومت تک صرف فنڈز کی ٹرانزیکشن میں چالےس دن سے زیادہ کا عرصہ لگتا ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر کو موجودہ سہولت کے تحت صرف ایک ہفتے کے اندر فنڈز کی منتقلی ہوجاتی ہے۔ یوں منصوبوں پر کام کی رفتار متاثر نہیں ہوتی۔ دوسری جانب گلگت بلتستان میں نہ صرف فنڈز کی منتقلی میں بہت دیر لگتی ہے بلکہ وزارت امور کشمیر سے ہر چیز کی منظوری درکار ہوتی ہے، پراجیکٹس کے کنسلٹنٹ سے لیکر ڈرائیور تک کی تقرری کا عمل وزارت امور کشمیر انجام دیتی ہے حالانکہ گلگت بلتستان میں پورا صوبائی نظام موجود ہے اور ان منصوبوں پر صوبائی سطح پر بہتر اور تیز تر کام ہو سکتا ہے۔مذکورہ معاملے پر جب وزارت امور کشمیر کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر بہتر عمل درآمد اور فنڈز کی منتقلی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو بلاکر میکنزم تیار کیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کے ذرائع نے وزارت امور کشمیر کی جانب سے گلگت بلتستان کو براہ راست فنڈنگ کی سہولت فراہم کرنے کی مخالفت کو بے جا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح ترقیاتی کام تیز ہونے کی بجائے رکتا رہےگا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو فنڈز کی منتقلی دیگر چاروں صوبوں کی طرز پر ہونی چاہئے۔دنیا میں بیورو کریسی کا کردار ہمیشہ زیر بحث رہا ہے۔ مملکت کو احسن طریقے سے چلانے، موثر حکمت عملی وضع کرنے اور اسکے نفاذ میں اس مکالمے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مروجہ نظام حکومت سے قطع نظر بیوروکریسی، امور مملکت چلانے کےلئے ضروری ہے مگر اس کا انحصار حکومتی ڈھانچے پر ہے کہ وہ کیا کردار تفویض کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو بیوروکریسی ا چھا کردار ادا کر رہی ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں صورتحال بالکل برعکس ہے۔پوری دنیا میں بیورو کریسی کا اصل کام حکومت وقت کے قواعد و ضوابط کو بھرپور لگن اور دیانتداری سے نافذ کرنا ہوتا ہے۔ عوام کے وسیع تر مفاد میں سول ملازم کی حیثیت سے نظام حکومت چلانا بیورو کریسی کے فرائض میں شامل ہے۔ سیاستدان لمبے عرصہ کےلئے حکومت میں نہیں رہ سکتے اس لئے بیوروکریسی بہتر انداز میں زیادہ عرصے کےلئے حکومتی نظا م کی دیکھ بھال کر سکتی ہے۔ قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ذمہ داری بیورو کریسی کی نہیں ہو تی البتہ وہ اس عمل میں حکومت وقت کی معاون ضرور ہو سکتی ہے۔ عوام کا منتخب نمائندہ ہونے کی حیثیت سے سیاستدانوں کو قواعد و ضوابط وضع کرنے چاہئے مگر نااہل سیاسی قیادت نے بیورو کریسی کو سول ملازم سے حکمران بنا دیا ہے۔بیورو کریسی کے مزاج میں سختی اور غیر لچکدار رویہ بہت نمایاں ہوتاہے ۔کام کرنے کا غیر منطقی انداز اور اندھی تقلید قائدانہ صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ اسی وجہ سے بیوروکریسی ترقی اور اصلاح کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر موجود ہے۔ منتخب عوامی نمائندے کا براہ راست عوام سے تعلق ہوتا ہے اور اس نے واپس انہی کی طرف لوٹ کر جانا ہوتا ہے اسکے برعکس بیوروکریسی عوامی جذبات اور امنگوں سے نابلد ہوتی ہے ، اس لئے بیوروکریسی کی جانب سے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی کوشش ناکامی کا شکار ہی ہو گی کیونکہ یہ ان کا دائرہ کار نہیں ہے۔ بیوروکریسی عوامی جذبات کو اہمیت نہیں دیتی اس لئے قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اختیار اسے نہیں دیا جا سکتا۔ چونکہ بیوروکریسی کے مفادات عوامی مفادات سے متصادم ہوتے ہیں اس لئے بنیادی پالیسی بنانے میں اسکا کردار مثبت نتائج لانے میں مانع رہے گا۔ حکمت عملی وضع کرنے میں اداروں کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ وہ مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتے ہیں، اسکا سائنسی اور پیشہ ورانہ تجزیہ کرنے کے بعد خالصتا منطقی انداز میں کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، عوامی ردعمل کی مدد سے نتائج کی تصحیح کرتے ہیں اور یہ ساری کوشش بالآخر ایک متفقہ حکمت عملی پر منتج ہوتی ہے۔ بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازی کا عمل غیر مربوط، سطحی اور شخصی مفادات کے بہت زیادہ تابع ہے اسی لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہمارا ملک اسکی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ ایک منظم اور مربوط قانون سازی کےلئے بہت سرعت کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ریاست کے تین بنیادی ستون مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہیں۔ مقننہ کاکام قانون سازی، عدلیہ کے ذمہ قانون کی شرع اور توضیح جبکہ انتظامیہ قوانین کے عملی نفاذ کی ذمہ دار ہے۔ مثالی جمہوری معاشروں کی روایت تو یہی ہے کہ مقننہ قانون سازی کرے اور انتظامیہ اسے نافذ۔ مگر تیسری دنیا کے معاملات ہی نرالے ہیں۔اداروں کی حکمت عملی وضع کرتے ہوئے متنوع نقطہ ہائے نظر کا خیال رکھنا ہی جمہوریت کا حسن ہے ۔ یہ رویہ عدل و انصا ف کے نظام کےلئے ضروری ہے۔ اداروں میں جمہوریت سے جہاں مسائل کا حل آسان ہو جاتا ہے وہاں احتساب بھی ممکن ہو پاتا ہے۔بیوروکریسی کے کردار کو ملکی ترقی کےلئے موثر اور نتیجہ خیز بنانے کےلئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کی تشکیل کے عمل میں انقلابی اقدامات کئے جائیں۔ نظام انتخاب میں ایسی مثبت تبدیلیاں لائی جائیں جس سے حقیقی عوامی نمائندے اہلیت اور کردار کی بنیاد پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچیں، انہیں پالیسیاں بناتے ہوئے بیوروکریسی کی بیساکھی کا سہارا نہ لینا پڑے۔ وہ عوامی اور ملکی مسائل کے تناظر میں قانون سازی کے عمل کو جاری رکھیں اور بیورو کریسی کو سیاسی اور پارٹی مفادات کےلئے استعمال کرنے کی بجائے اسکی صلاحیتوں سے عوام کوسہولیات بہم پہنچائی جائےں۔ ملکی اور عوامی مفادات کے تناظر میں قانون سازی کے عمل کو وہی پارلیمنٹ بہتر انداز میں آگے بڑھا سکتی ہے جو عوام کے مسائل کا نہ صرف ادراک رکھتی ہو بلکہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہو۔ اس لئے بیوروکریسی کے کردار کو بہتر بنانے کےلئے مضبوط اور موثر پارلیمنٹ کا وجود بہت ضروری ہے۔کامیاب ریاست کےلئے ضروری ہے کہ مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ایک دوسرے سے متصادم ہونے کی بجائے معاون ہوں۔ ان اداروں کا باہمی تعاون ہی بیوروکریسی کو عوام کےلئے سرخ فیتے کی بجائے ایک مددگار ادارے میں بدل سکتا ہے۔پاکستان میں بیوروکریسی اک منہ زور گھوڑے کی مانند ہے جو کسی کو اپنے اوپر آسانی سے سوار نہیں ہونے دیتا مگر شہ سوار وہی ہوتا ہے جو بدکے ہوئے جانور کو بھی قابو کرسکے۔پاکستان کی پاور پالیٹکس کے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور سیاستدان ہی حکومت کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے خوب اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ اس ملک کی بھولی عوام کو بے وقوف بنانا ہے۔ ایک ہی خاندان میں سے کچھ لوگ طاقتور اداروں میں چلے جاتے ہیں تو کچھ قانون کے پاسبان بن جاتے ہیں اور کچھ مختلف سیاسی جماعتوں کا حصہ بن جاتے ہیں کہ جب جس کی حکومت آئی، اس کا حصہ بن جایا جائے۔ برِصغیر کی اشرافیہ نے اپنی کیمبرج اور آکسفورڈ پلٹ اولادوں کو پاکستانی کی افسر شاہی میں گھسایا۔ کوئی جج بنا تو کوئی جرنےل اور کوئی ضلع کا بادشاہ ڈپٹی کمشنر بن گیا۔ انہوں نے آگے آپس میں رشتے داریاں بنالیں، کسی کی بیٹی بہو بنالی تو کسی کا بیٹا کسی کا داماد بن گیا۔ اب کسی ایک پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو اس کی پشت پناہی کے لیے سب ایک ہوجاتے ہیں۔بیوروکریسی میں اصلاحات کوئی راکٹ سائنس نہیں۔تمام سیاسی جماعتیں اس بارے میں خاموشی کی چادر تانے سو رہی ہیں۔ ان جماعتوں میں موجود افراد میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اداروں میں اصلاحات ہوں اور ان کی چودھراہٹ کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ جب تک ملک کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے دقیانوسی بیوروکریسی کے نظام کو نہیں بدلا جاتا تب تک حالات ٹھےک نہےں ہو سکتے۔