Image

عمران حکومت کے عدم تعاون سے گلگت بلتستان عبوری صوبہ نہ بن سکا،امجد ایڈووکیٹ


قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی صدر پیپلز پارٹی امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2020 کوبھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی لیکن دوسال گزرنے کے باوجود پاکستان نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، مودی کے ا ±س غلط اقدام کا جواب گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بناکر دینا تھا ایک بیان میں امجد ایڈووکیٹ نے کہا کہ دو سال قبل انڈیا نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنایا ،انڈیا کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے پاکستان کی جانب سے آئین میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان کو عبوری طور پر آئینی صوبہ بنانا وقت اور حالات کے حساب سے بہت ضروری ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے 23 مارچ کو ریاست پاکستان کی جانب سے عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھانا تھے مگر سابق حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے گلگت بلتستان عبوری صوبہ نہیں بن سکا،انھو ں نے کہا کہ اب پاکستان میں برسر اقتدار قومی حکومت 5 اگست سے پہلے پہلے مودی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدام کا جواب دے اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور استصواب رائے کو آئینی تحفظ دیکر عبوری صوبہ بنائے تاکہ مودی کو اس کے کئے گئے اقدام کا جواب مل سکے، امجد حسین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں عبوری صوبے کا مطالبہ کیا گیا ہے اب وفاقی حکومت کا فرض بنتا ہے 5 اگست سے قبل گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور استصواب رائے کو آئینی تحفظ دیکر گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بناکر خطے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرے۔