Image

احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں

ےہ امر تشوےشناک ہے کہ کرونا اےک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے اور اس کی شرح میں بتدرےج اضافہ ہو رہا ہے۔این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ چوبےس گھنٹوں کے دوران 406 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ انتہائی نگہداشت میں زیر علاج کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ملک بھر میں انتہائی نگہداشت میں زیر علاج کورونا کے مریضوں کی تعداد 94 پہنچ گئی۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 14 ہزار 496 ٹیسٹ کیے گئے۔سندھ میں کورونا مثبت کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، صوبے میں کورونا مثبت کیسز کی مجموعی شرح 7.64 فی صد پہنچ گئی۔کراچی میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 21.71 فی صد ریکارڈ کی گئی جبکہ حیدرآباد میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.51 فی صد تک پہنچ گئی۔مردان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 8.77 فی صد، اسلام آباد میں 3.45 فی صد، لاہور میں 2.82 فی صد، پشاور میں تےن فی صد، راولپنڈی میں 1.64 فی صد جبکہ گجرات میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 1.82 فی صد ریکارڈ کی گئی۔ شہروں میں ریکارڈ کیے گئے کیسز پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ مثبت شرح کے لحاظ سے کراچی 21.71 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، کراچی کے بعد 8.77 فیصد مثبت شرح کے ساتھ مردان کا دوسرا نمبر ہے جبکہ حیدر آباد 8.51 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ وائرس سے رولر کوسٹرکی طرح برتاﺅ کےا جا رہا ہے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ملک کو مزید چند برس تک اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایک بار پھر کورونا سے متعلق پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، پابندیاں عائد کرنے سے نہ صرف کیسز کی تعداد میں کمی ہوگی بلکہ ان کے ذریعے توانائی کے موجودہ بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔کووڈ 19سائنٹیفک ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ لوگوں میں قوت مدافعت کم ہو رہی ہے اور ویکسین کی افادیت جو کبھی 95 فیصد تھی، تقریبا 80-85 فیصد تک گر گئی ہے جبکہ وائرس مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔بدقسمتی سے جب کیسز میں کمی آتی ہے تو لوگ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ وائرس ختم ہو گیا ہے اور اس وبا سے متعلق ایس او پیز پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں، میں نے خود ذاتی طور پر ایک ہزار سے زائد لوگوں کو شادی کی تقریبات میں شرکت کرتے دیکھا جن میں سے کوئی بھی ماسک نہیں پہنے ہوئے تھا ان تقریبات کے دوران اگر کسی نے ماسک پہنا ہوا تھا بھی تو وہ صرف اس شخص کے گلے میں لٹکا ہوا ہوگا۔یو ایچ ایس کے وائس چانسلر نے کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی تےن سے پانچ اقسام موجود ہیں۔اگرچہ ویکسینز کی افادیت میں کمی ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ کورونا کے خلاف واحد ڈھال اور بچاﺅ کا ذریعہ ہیں۔ لوگوں کو ویکسی نیشن کے لیے جانا چاہیے اور جو لوگ پہلے سے حفاظتی ٹیکے لگوا چکے ہیں انہیں بوسٹر شاٹس لگوانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔پاکستان ان دنوں توانائی کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہے لہذا اگر پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو ملک نہ صرف وبائی مرض پر قابو پاسکے گا بلکہ توانائی کے بحران پر بھی قابو پاسکے گا۔ پابندیاں عائد کیے جانے سے کئی بازار اور دکانیں بند ہو جائیں گی اور نقل و حمل کی لاگت کم ہو جائے گی۔ ان کی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کووِڈ 19 کے خلاف مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے خلاف قوت مدافعت کو بھی بڑھاتا ہے۔ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی مختلف اقسام سے متاثر ہونے والے افراد معمولی علامات کے ساتھ گھروں میں ہی صحتیاب ہورہے ہیں، ماہرین صحت نے تنبیہ کی ہے کہ لوگ چہرے پر ماسک پہننا دوبارہ شروع کریں اور عوامی مقامات پر سماجی فاصلہ برقرار رکھیں تاکہ وائرس کی نئی لہر کو روکا جا سکے۔ سندھ میں کراچی سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر ہے جہاں 340 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں، سات روز میں مثبت کیسز کی شرح 10.69 فیصد ہوگئی ہے، اسی عرصے میں حیدرآباد میں ایک ہزار 841 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2 کیس مثبت آئے، سندھ کے دیگر حصوں میں کل 9 ہزار 892 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 34 مثبت آئے۔اس وقت مجموعی طور پر کورونا سے متاثر ایک ہزار 813 مریض اپنے گھروں میں آئسولیشن میں ہیں جبکہ 16 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ تیزی سے دوسرے ممالک میں پھیلنے والی ایک نئی قسم بی اے 5 کراچی سمیت پاکستان بھر میں پھیلنے کی اطلاع ملی ہے اور اب شہریوں میں پھیل رہی ہے۔ کراچی میں اومیکرون کی ذیلی اقسام کے پھیلاو کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں لیکن بی اے فائےو زیادہ متعدی ہے کیونکہ یہ ایک نئی قسم ہے اور دنیا کے دیگر حصوں میں تشویش کا باعث ہے۔ غیر ویکسیننیٹڈ افراد، بزرگ اور کمزور قوت مدافعت والے لوگ خاص طور پر اس کا نشانہ بن سکتے ہیں۔اگر طبی مشورے پر توجہ نہیں دی گئی اور کورونا سے متعلقہ احتیاطی تدابیر پر سنجیدگی سے عمل درآمد شروع نہیں کیا گیا تو کیسز میں اضافہ کورونا وائرس کی چھٹی لہر میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ مختلف کورونا وائرس کی مختلف اقسام کے تیزی سے پھیلنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہیں۔ کورونا وائرس کی اقسام جینیاتی طور پر مختلف ہیں جو اسے تیزی سے منتقل کرنے میں مدد کرتی ہیں، دیگر وجوہات میں چھے ماہ کے بعد ویکسین کا اثر کم ہونا، بوسٹر شاٹ لگوانے میں شہریوں کی جانب سے ہچکچاہٹ اور عوامی مقامات پر کورونا سے بچا کے اقدامات کی عدم موجودگی شامل ہے۔ڈاکٹر سعید خان نے ان لوگوں کے لیے بھی بوسٹر ڈوز اور اضافی بوسٹر ڈوز کی ضرورت پر زور دیا جو پہلے ہی بوسٹر شاٹ لگوا چکے ہیں۔ کورونا کی ویکسینز انفیکشن نہیں صرف سنگین بیماری کو روکنے میں مدد کرتی ہیں، اسی لیے بوسٹر شاٹ لینا ضروری ہے جو کہ محفوظ ہے۔ لوگ صرف اس وقت ہسپتال جاتے ہیں جب بیماری سنگین ہو جاتی ہے، اس لیے غیر رپورٹ شدہ کیسز کی تعداد رپورٹ کیے گئے کیسز سے کہیں زیادہ ہوگی اور زیادہ تر مریض معمولی علامات کے ساتھ گھر پر ہی رہ رہے ہیں۔چونکہ ملک میں لوگوں کی اکثریت کو ویکسین لگائی گئی ہے اس لیے اس بیماری کا کوئی سنگین خطرہ نہیں ہے، یہ اب موسمی فلو کی طرح ہے لیکن ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کمزور آبادی خطرے میں ہے۔ سندھ میں کورونا کی مختلف اقسام کے ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں سے چار بی اے فوراور بی اے فائےو پائے گئے، رواں سال جنوری اور فروری میں پہلی بار جنوبی افریقہ میں کورونا کی ان مختلف اقسام کا پتا چلا تھا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ملک میں خاص طور پر کراچی، اسلام آباد اور چند دیگر شہروں میں کورونا کیسز میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ کورونا کیسز میں یہ اضافہ لاپرواہی کی وجہ سے ہے کیونکہ لوگوں کی اکثریت اب فیس ماسک نہیں پہن رہی اور نہ ہی سماجی دوری اور ہاتھ کی صفائی کا سلسلہ برقرار رکھتی ہے۔ ملک کی آبادی کی ایک محدود تعداد نے بوسٹر شاٹس لگوائے ہیں۔ملک میں تقریبا چارماہ کے بعد عالمی وبا کورونا وائرس ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگی۔پاکستان میں اب تک اس وبا کی پانچ لہریں آچکی ہیں اور آخری لہر رواں برس جنوری سے فروری تک جاری رہی۔حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن کی بھرپور مہم کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وائرس نمایاں طور پر خاتمے کے قریب تھا اور مجموعی طور پر کیسز کی سب سے کم شرح 0.28 فیصد تک رپورٹ ہوئی۔31 مارچ 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے کمی اور بڑی آبادی کی کامیاب ویکسی نیشن کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم 23 مئی کو موجودہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر قومی ادارہ صحت میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی تشکیل نو کردی گئی تھی۔اس کے باوجود ملک میں کورونا کیسز کے مجموعی اعداد و شمار قومی ادارہ صحت کی جانب سے ہی جاری کیے جارہے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے اعداد و شمار کے مطابق وائرس کی تشخیص کے لیے 11 ہزار 212 ٹیسٹ کیے گئے تھے جس میں سے 171 کیسز مثبت آئے۔یوں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیسز مثبت آنے کی شرح 1.53 فیصد رہی، جس میں 57 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے البتہ کسی مریض کی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔اگر وبا کی مختلف لہروں کے دوران سب سے زیادہ کیسز دیکھے جائیں تو اس سے قبل سب سے زیادہ کیسز 13 جون 2020 کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد چھے ہزار 825 تھی۔حالےہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ہمےں احتےاط کا دامن ہرگز ہاتھ سے نہےں چھوڑنا چاہےے۔