Image

گلگت بلتستان حکومت کے بجٹ کے خدوخال

تحریر:نزاکت علی

 روزگار کی فراہمی، غربت کا خاتمہ، آمدن میں اضافہ، دیرینہ مسائل کا حل، انسانی ترقی، تعلیم و صحت عامہ میں بہتری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و سیاحت کا فروغ گلگت بلتستان بجٹ کے نمایاں پہلو ہیں جس کے لئے وزیراعلی خالد خورشید کے زیر قیادت پی ٹی آئی حکومت نے ریگولر و ترقیاتی بجٹ میں تاریخی اصلاحاتی اقدامات اور نئے و جاری منصوبہ جات کے خاطر خواہ مالی وسائل مختص کئے ہیں۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان بجٹ میں تجویز کردہ وزیراعلی خالد خورشید کے خصوصی اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل اور خطے میں اصلاحات کے نئے دور کے آغاز کے لئے ناگزیر ہیں۔ صحت، تعلیم، غربت کے خاتمے، سیاحت، کھیل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، تعمیرات، لینڈ ریفارمز و ریونیو سمیت 12 سے زائد مفاد عامہ اہم شعبہ جات میں 6.85 ارب مالیت کے وزیراعلی خالد خورشید کے خصوصی اقدامات گلگت بلتستان بجٹ 2022 کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔وزیراعلی کے ان خصوصی اقدامات میں شعبہ تعلیم کو ایک دفعہ پھر اولین فوقیت دیتے ہوئے 1.15 ارب کے 5 خصوصی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ ان میں 50 کروڑ مالیت کا تعلیم سب کے لئے پروگرام جس کے تحت سکول سے دوری کی سبب تعلیم سے محرومی کے مسئلے کے حل کے لئے سکول ٹرانسپورٹیشن وظیفہ پروگرام آمدہ سال بھی جاری رکھا گیا ہے۔ مالی وسائل کی کمی کے و سبب تعلیم سے محرومی کے مسئلے کے حل کے لئے 40 کروڑ مالیت کا تعلیمی اینڈومنٹ فنڈ مختص کیا گیا ہے جس کے تحت گلگت بلتستان کے ہونہار طلباءو طالبات کو تعلیمی وظائف فراہم کئے جائیں گے۔ بچوں میں غذائی کمی کے مسئلے کے حل کے 10 کروڑ لاگت کا صوبوں کی تاریخ کا پہلا منصوبہ سکول کھانا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے روشناس کرانے کے لئے 10 کروڑ لاگت کا آئی ٹی ان سکولز کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کیساتھ 5 کروڑ مالیت کا پبلک لائبریریز کا اقدام شروع کیا جارہا ہے۔ ان اقدامات سے شرح داخلے میں اضافے کے ساتھ سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم میں بہتری آئیگی۔وزیر اعلی کے خصوصی اقدامات میں شعبہ صحت کو بھی اولین ترجیح حاصل ہے۔ شعبہ صحت میں وزیراعلی خالد خورشید نے 1.15 ارب مالیت کے خصوصی اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں 75 کروڑ مالیت کا Operationalization of DHQs جس کے تحت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو مکمل فعال کرنے کا بڑا و تاریخی اقدام شامل ہے۔ ضلعی ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کی فعالیت سے دور دراز علاقوں کے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا نہیں پڑیگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ حکومتوں نے 10 میں سے 10 اضلاع کے ہسپتالوں کو غیر فعال ورثے میں چھوڑا۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو ملک کے بڑے ہسپتالوں میں بڑی و پیچیدہ امراض کے علاج کی فراہمی سرکاری خرچ پر کرانے کے لئے وزیراعلی نے ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ کے لئے مزید 40 کروڑ مختص کئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں غربت کے خاتمے کے لئے وزیراعلی خالد خورشید نے 1 ارب مالیت کا تاریخی اقدام شروع کرنے کی تجویز کی ہے۔ جس کے تحت زراعت, لائیو سٹاک، فشریز، درمیانے و چھوٹے کاروبار اور ٹیکنکل و ویکیشنل ٹریننگ کے اصلاحاتی اقدامات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔شعبہ توانائی میں ترسیل، تقسیم و بلنگ کے نظام کو بہتر کرنے لئے 2 ارب مالیت کے Revamping Energy Sector کا تاریخی اقدام شروع کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ شعبہ توانائی کو ہر سال حکومت 5 ارب سے زائد کی رقم دیتی ہے جبکہ 3 ارب سے زائد کی بجلی صارفین کو فراہم کی جاتی ہے لیکن نظام میں خرابیوں کی وجہ سے 80 فیصد لائن لاسز کیساتھ بلنگ کے مسائل کے سبب حکومت کو ہر سال اربوں مالیت کا نقصان ہورہا ہے۔ گلگت بلتستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے 20 کروڑ مالیت سے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ وزیراعلی کے اس خصوصی اقدام سے گلگت بلتستان میں آئی ٹی شعبے کی صنعتی سطح میں ترقی ممکن بنائی جاسکے گی۔گلگت بلتستان کا تابناک معاشی مستقبل شعبہ سیاحت سے وابستہ ہے۔ اس شعبے کی صنعتی سطح پر ترقی وزیراعظم عمران خان کا ویژن اور وزیراعلی خالد خورشید کا اہم ہدف ہے۔ اس کے لئے وزیراعلی نے ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اس میں اصلاحات کے لئے 5 کروڑ لاگت کا خصوصی اقدام رکھا ہے۔ گلگت بلتستان مختلف کھیلوں کے ایک بہترین مقام ہے۔ کھیلوں کے فروغ پر وزیراعلیٰ خالد خورشید کی خصوصی توجہ ہے۔ اس لئے گلگت بلتستان میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 5 کروڑ لاگت کا خصوصی اقدام تجویز کیا ہے۔ زمین کے تنازعات گلگت بلتستان میں ایک دیرینہ و تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ عملے کی کمی و دیگر انتظامی مسائل کے سبب زمین کی سیٹلمنٹ و ریفارمز ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے اس مسئلے پر صرف زبانی جمع خرچ کیا کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا۔ اس کے برعکس وزیراعلی خالد خورشید نے لینڈ ریفارمز و سیٹلمنٹ کو شروع دن سے ہی اپنا اہم ہدف مقرر کیا ہے۔ اس بجٹ میں وزیراعلی نے 60 کروڑ مالیت کا گلگت بلتستان کی تاریخ کا پہلا لینڈ سیٹلمنٹ و ریفارمز کا خصوصی اقدام متعارف کرایا ہے۔ گلگت بلتستان کے تمام مالی معاملات کا دارومدار وفاق کی گرانٹ منحصر ہے۔ کوئی بھی قوم تب تک بااختیار و خودار نہیں ہوسکتی جب تک وہ اقتصادی طور پر خودانحصار نہ ہو۔ گلگت بلتستان کی اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے وزیراعلی نے گلگت بلتستان ریونیو اتھارٹی کے قیام کے لئے 10 کروڑ مالیت کا خصوصی اقدام رکھا ہے۔شعبہ تعمیرات میں جدید طرز پر منصوبہ جات کی تکمیل کے لئے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کا بھی خصوصی اقدام رکھا ہے۔ اس کی مالیت 5 کروڑ ہے۔ گلگت بلتستان قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے۔ اپنے لوگوں کو قدرتی آفات سے بچانے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پیشگی تیاری کے ساتھ تیز ترین رسپونس دینے اور بحالی کا کام کرنے کے لئے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ انڈومنٹ فنڈ کےلئے مزید 20 کروڑ مختص کرنے کا خصوصی اقدام رکھا ہے۔ قراقرم کوآپریٹو بینک کو صوبائی شیڈول بینک بنانے کے لئے اسکے مزید شیئر خریدنے کے لئے بھی 30 کروڑ مالیت کا خصوصی اقدام رکھا ہے۔ الغرض گلگت بلتستان بجٹ میں مفاد عامہ کے ان اہم شعبہ جات کی طرف خصوصی توجہ دیکر ان میں تاریخی خصوصی اقدامات تجویز کرکے وزیراعلی خالد خورشید کی حکومت گلگت بلتستان میں پائیدار انسانی ترقی کو محور بناکر اہم اصلاحات متعارف کرانے والی پہلی حکومت بن گئی ہے۔ وزیراعلی خالد خورشید کے ان اہم اصلاحاتی اقدامات کی تکمیل سے خطے میں انسانی ترقی و مفاد عامہ کی سہولیات کی فراہمی میں انقلابی بہتری آئیگی۔