Image

کھیل،پریکٹس اور ٹھیکیداری نظام

مسرت اللہ خان

ان حالات میں جب پریکٹس کیلئے صبح و شام کی ڈوز ہو ، کمپلکیس میں داخلے کیلئے ادائیگی ہو ، سپورٹس کا سامان مہنگا ہو اور کھیلوں کے شعبے میں ہفتے اور اتوار کی چھٹی ہو حالانکہ ہفتے اور اتوار کے روز سب سے زیادہ بچے کھیلوں کی پریکٹس کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان پر پریکٹس کیلئے کمپلیکسز کے دروازے بند ہوں ، چند مخصوص کھیل سب کھیلوں پر حاوی ہوں ، کیونکہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو چھٹی چاہیے ، وہ اس ڈیپارٹمنٹ میں سپورٹس کے پروموشن کومشن کے بجائے ملازمت سمجھتے ہیں اور وہ کھیلوں کی ترقی اپنی طریقے سے چاہتے ہیں جیسے کہ پشتومثل کے مصداق " شپیلئی ھم وھی او ستوان ھم خوری یعنی ستو کھانا بھی چاہتے ہیں اور ساتھ میں سیٹیاں مارنا بھی چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد اب ان کے بچوں اس ڈیپارٹمنٹ پر حق ہے جس کیلئے وہ بہت کچھ کرتے ہیں تو ایسے میں تو لازما ایک چیز تو گرے گی انگریزی زبان کا ایک محاورہ جس کے معنی کچھ یوں ہیں کہ کوئی جتنا زیادہ کسی چیز کی پریکٹس کرتا ہے اتنے ہی وہ اس شعبے میں ماہر ہوجاتا ہے اور یہی حقیقت ہے کسی بھی شعبے کو دیکھ لیں ، جو جتنا زیادہ محنت کرتا ہے جو زیادہ اپنے شعبے میں مخلص ہے وہ نہ صرف اپنے شعبے میں ماہر بن جاتا ہے بلکہ اس کی عزت و شہرت بھی اسی شعبے کی وجہ سے ہوتی ہے.دوسرے شعبوں کی طرح کھیلوں کے میدان کی بھی یہی خاصیت ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی جتنا زیادہ پریکٹس کرتا ہے اتنا ہی اس کا کھیل نکھرتا ہے لیکن یہ پریکٹس بغیر کسی تعطل اور لگاتار ہونی چاہیے تبھی فائدہ دیتی ہے ورنہ دوسری صورت میں اس پریکٹس کا اتنا فائدہ نہیں ہوتا ۔کم و بیش آج سے تین ، چار دہائیاں قبل کھیلوں کے مختلف شعبوں میں پاکستانی کھلاڑی چھائے ہوئے تھے ، سکواش سے لیکر ہاکی ، کرکٹ ، ٹیبل ٹینس سمیت مختلف کھیلوں کے کھلاڑیوں نے محنت کی لگاتا ر پریکٹس کرتے رہے اور اسی محنت کا اللہ تعالی نے انہیں بدلہ بھی دیا کہ دنیا بھر میں انہیں پذیرائی ملی ۔آج سے تیس و چالیس سال قبل کے کھلاڑی لیجنڈ کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔اپنے شعبے کے ماہر ان کھلاڑیوں میں بیشتر نے غربت سے نکلنے کیلئے کھیل کا سہارا لیا اور اپنے عزم سے نہ صرف اپنی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ و ملک و قوم کا نام بھی روشن کر گئے ، ان میں بیشتر ایسے تھے جن کے پاس اس وقت شوز بھی نہیں ہوتے ، کٹس کا تصور بھی ایک بہت بڑی عیاشی ہوتی اور لنڈے میں ملنے والے ٹی شرٹس اور نیکر پہن کر انہوں نے پریکٹس کی مسلسل کرتے رہے اور آ گے آتے رہے اس وقت اتنی سہولیات بھی نہیں ہوا کرتی تھی سپورٹس کے شعبے میں اتنے ملازمین بھی نہیں ہوتے ، اتنا پیسہ بھی انوالو نہیں تھا ، نہ ہی اتنی انعامی رقوم ملتی تھی لیکن پھر بھی وہ کھلاڑی ٹاپ پررہے وجہ یہی تھی کہ وہ مسلسل اور بلاتاخیر پریکٹس کرتے تھے ان کے ذہن میں انعام ، سہولیات نہ ہوتیں بلکہ اپنے آپ کو آگے لانے کی دھن سوار ہوتی تھی لیکن ان سب چیزوں کیساتھ ایک بڑی چیز یہ بھی تھی کہ اس وقت سپورٹس کو انڈسٹری کا نام نہیں دیا گیا تھا اس وقت سپورٹس کی وزارت کے زیر انتظام گراﺅنڈ نہیں ہوا کرتے تھے نہ ہی کسی کے کھیلنے پر پابندی ہوتی تھی کہ کس وقت کھلاڑی نے کھیلنا ہے اور کس دن کھیلنا ہے اور کتنا کھیلنا ہے ، کھلاڑیوں کو ان کا کھیل سے جنون ہی آگے لے آتا تھا قبل ازیں کھیلوں کی وزارت میں اگر کوئی وزیر بھی آتا تو وہ لازما کھیلوں سے آگاہی رکھتا ، اسی طرح کھیلوں کی وزارت میں کام کرنے والے بھی کھیلوں کے شوقین ہوا کرتے تھے ۔لیکن جب سے سپورٹس کے شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے ، اسے ایک ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا اور اس میں ملازمین کی تعداد بڑھتی گئی اتنا ہی کھیل زوال پذیر ہوتا گیا ،وجہ اس کی بنیادی یہی ہے کہ انڈسٹری بننے کے بعد اب ٹھیکیداری نظام اس میں شامل ہے ، گراﺅنڈ بننے سے لیکر کسی بھی کھیل کے انتظامی امور اور اسے میدان میں لانے میں پیسہ انوالو ہے ، پیسہ جو ہر ایک کی بنیادی ضرورت بھی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں لیکن اسی پیسے کی مار نے نہ صرف سپورٹس کے شعبے کو برباد کردیا بلکہ کھلاڑی سے لیکر سپورٹس کے شعبے سے وابستہ ہر شخص نے اسے کمائی کا ذریعہ بنا دیا ہے ، ایک زمانے میں لوگ اپنے پرانے سپورٹس شوز اپنے ساتھیوں کو دیا کرتے تھے کہ جو لوگ کمزور اور غریب ہیں ان کا کھیل بہتر ہو لیکن اب فیلڈ میں ایسا سوچنا بھی اور خصوصا ہمارے خیبر پختونخواہ میں ناممکن ہے۔ہر ایک کھلاڑی صرف اپنے سوچ میں مگن ہے اور اسی سوچ کی بنا پر دوسروں پر توجہ نہیں دے رہا جب سے سپورٹس کا شعبہ ڈیپارٹمنٹ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا ایسے ہی کمائی کے نئے نئے طریقے شروع کئے گئے۔آج سے تیس چالیس سال قبل کسی بھی گراﺅنڈ کھیلنے کیلئے آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا تھا کہ نوجوان مثبت سرگرمیوں کی طرف آتے ہیں اس وقت بھی گراﺅنڈ کیلئے مالی ہوا کرتے تھے ، اس وقت کوئی خاص دورانیہ نہیں ہوتاتھا کہ کس وقت گراﺅنڈ میں آنا ہے اور کس وقت نہیں آنا ، صبح و شام بچے پریکٹس کرتے ، خصوصا جمعے کے دن سب سے زیادہ لوگ پریکٹس کرتے ، کیوں کہ ان دنوں جمعے کی چھٹی ہوا کرتی تھی بچوں کو جب بھی موقع ملتا ، کسی بھی کھیل کی پریکٹس کرتے نظر آتے ان میں فٹ بالرز سے لیکر ہاکی کے کھلاڑی پیدا ہو گئے۔وہ سخت گرمی میں بھی پریکٹس کرتے تھے تبھی ان کا سٹیمنا بھی زیادہ ہوتا۔جبکہ اب سپورٹس کمپلیکسز میں داخلے کیلئے کسی بھی بچے کو ماہانہ فیس کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے ٹیبل ٹینس ، بیڈمنٹن ، اتھلیٹکس سکواش سمیت کسی بھی کھیل میں داخلے کیلئے فیس ادا کرنی پڑتی ہے کیونکہ سرکار کی کمائی بھی اس شعبے سے ہیں ، اب اگر کسی نے بہتر پریکٹس کرنی ہے تو پھر اسے اپنے متعلقہ کوچز کو علیحدہ سے چار سے پانچ ہزار روپے ادائیگی کرنی ہے اور یہ سلسلہ کوئی ڈھکا چھپا بھی نہیں بلکہ کم و بیش تمام کھیلوں میں عمومی ہے کیونکہ پریکٹس اگر زیادہ کرنی ہے تو پھر کھلاڑیوں کو ماہانہ ادائیگی الگ سے کوچز کو کرنی بھی ہوگی ورنہ پھر ڈاکٹر کی دوائی کی طرح صبح و شام کی پریکٹس کی ڈوز ہوتی ہے۔اس ڈوز سے کوئی کیا کھلاڑی بنتا ہے بس پریکٹس ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی نامور کھلاڑی نہیں نکل سکتا ۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جن کے پاس پیسہ ہے وہی لوگ سپورٹس کمپلیکسز میں کھیلنے کیلئے آتے ہیں جن کے پاس پیسہ نہیں بنیادی سہولیات کی کمی ہے وہ خاک سپورٹس کمپلیکسز میں کھیلنے کیلئے آئیں گے دوسری بڑی وجہ سپورٹس کے شعبے سے وابستہ افراد بشمول سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین نے اسے کمائی کا ذریعہ سمجھا ہوا ہے کسی کو یقین نہیں آتا تو سپورٹس سے وابستہ کسی بھی شخص کے اثاثے دیکھ لیں ، خواہ وہ سپورٹس سے وابستہ صحافی ہوں یا ملازم ہوںجب اس شعبے میں آئے تھے تو ان کی اوقات کیا تھی اور اب ان کی اوقات کیا ہے یا ڈی ایم جی ، پی ایم ایس یا پی اے ایس افسران جو اس ڈیپارٹمنٹ میں آنے کیلئے سر تن اور من کی بازی لگاتے ہیںکیونکہ اس ڈیپارٹمنٹ میں پیسہ سب سے زیادہ حکومت لگا رہی ہے۔ان حالات میں جب پریکٹس کیلئے صبح و شام کی ڈوز ہو ، کمپلکیس میں داخلے کیلئے ادائیگی ہو ، سپورٹس کا سامان مہنگا ہو اور کھیلوں کے شعبے میں ہفتے اور اتوار کی چھٹی ہو حالانکہ ہفتے اور اتوار کے روز سب سے زیادہ بچے کھیلوں کی پریکٹس کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان پر پریکٹس کیلئے کمپلیکسز کے دروازے بند ہوں ، چند مخصوص کھیل سب کھیلوں پر حاوی ہوں ، کیونکہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کو چھٹی چاہیے ، وہ اس ڈیپارٹمنٹ میں سپورٹس کے پروموشن کومشن کے بجائے ملازمت سمجھتے ہیں اور وہ کھیلوں کی ترقی اپنی طریقے سے چاہتے ہیں جیسے کہ پشتومثل کے مصداق شپیلئی ھم وھی او ستوان ھم خوری یعنی ستو کھانا بھی چاہتے ہیں اور ساتھ میں سیٹیاں مارنا بھی چاہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد اب ان کے بچوں اس ڈیپارٹمنٹ پر حق ہے جس کیلئے وہ بہت کچھ کرتے ہیں تو ایسے میں تو لازما ایک چیز تو گرے گی بس یہی صورتحال سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی بھی ہے کہ یا تو کمائی ہو ، ملازمت ہو یا پھر کھلاڑی پیدا ہوں ، اور سچی بات یہ ہے کہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کھلاڑی پیدا ہورہا ہے یا نہیں انہیں تنخواہیں مل رہی ہیں بھلے سے کوئی بھاڑ میں جائے۔کیا اس وزارت کے کرتا دھرتا ہفتے اور اتوار کی چھٹیاں ختم کرکے برائے نام انٹری فیس کمپلکیس میں لاگو کرنا چاہیں گے کہ نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملے زیادہ سے زیادہ کھیلوں کے میدان آباد ہوں تبھی نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بھی کم کیا جاسکے گا اور اس سے مختلف شعبوں میں نمایاں کھلاڑی بھی سامنے آسکیں گے۔ساتھ میں وزات کے کھیل سے وابستہ وزرا کو بھی اپنے علاقائی سوچ سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ تمام تر سہولیات اور پروگرام صرف اسی علاقے میں ہوں جہاںسے متعلقہ وزیر کا تعلق ہو کیا دوسرے علاقوں کے لوگ سپورٹس کی وزارت میں اتنا حق بھی نہیں رکھتے۔ان سب پر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اس تمام عمل میں کھیلوں سے وابستہ صحافی بھی آنکھیں بند کرکے کام کررہے ہیں ، اس شعبے سے وابستہ چند صحافی کھیلوں کی خبروں کو تفصیلات کے مطابق سے شروع کرکے کرلیا جائیگا اور ہو گیا ہے جیسے خبروں کی اشاعت کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کھیلوں کے شعبے میں بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، کھیلوں کی صحافت صرف ایونٹس کی کوریج نہیں بلکہ اس سے وابستہ تمام ایشوز خواہ وہ ملازمین ہوں ، ایسوسی ایشنز ہوں یا کھلاڑیوں سے متعلق ہوں ان تمام ایشوز پر وقتا فوقتا لکھنے اور اس کی نشاندہی کرنے سے ہی کسی حد تک مسائل حل ہوسکتے ہیں اسی طرح کھیلوں کی بہتری کیلئے تجاویز بھی انہی کھیلوں سے وابستہ صحافیوں کی ذمہ دار ی ہے لیکن۔ایک طرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور ان کیلئے غیر نصابی سرگرمیوں کے دعوے حکومت کررہی ہیں تو دوسری طرف متعدد ایسے کھیل اب بھی صوبائی حکومت کے نظرانداز کھیلوں کی فہرست میں موجود ہیں جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی حالانکہ ان کھیلوں میں ٹیلنٹ خیبر پختونخوا میں بہت زیادہ ہے کم و بیش سترہ مختلف کھیلوں پر مشتمل سپورٹس کمپلیکسز پورے صوبے کے مختلف علاقوں میں موجو د ہیں جبکہ اب ضم اضلاع میں بھی اس پر کام شروع کیا جارہا ہے لیکن ان تمام تر دعوﺅں کے باوجود کچھ نہیں کیا جارہا ۔صرف چند مخصوص کھیلوں کی جانب سپورٹس ڈائریکٹریٹ خیبر پختونخواہ توجہ دے رہی ہیں جن کے سرکاری سطح پر کوچز بھی ہیں یہ الگ بات کہ بیشتر کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کو فنڈنگ سمیت تمام تر سہولیات حکومت فراہم کرری ہیں تاہم ان سب کے باوجود کھیلوں کی وزارت چند مخصوص کھیلوں پر ہی توجہ دے پا رہی ہیں اور یہ سب کچھ اس دور حکومت میں بھی ہو رہاہے جس کے کپتان نے پورے ملک میں تحصیل سطح پر کھیلوں کے فروغ کے دعوے بھی کئے اعلانات بھی کئے مگر یہ یہ اعلانات صرف کاغذی منصوبوں تک ہی محدود رہے۔صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے زیر انتظام صوبے میںمختلف جگہوں پرکئی کمپلیکسز کام کررہے ہیں جہاں پر مختلف کھیلوں کی سہولیات کھلاڑیوں کو فیس پر ہی مل رہی ہیں یہ فیس ممبرشپ کی صورت میں کھلاڑیوں سے وصول کی جاتی ہیں ہر سپورٹس کمپلیکس نے کمائی کیلئے الگ الگ طریقے بنائے ہوئے ہیں ، کہیں پراتھلیکٹس کا زور ہے تو کہیں پر کرکٹ اکیڈمی چل رہی ہے ، کہیں پر ہاکی ،سوئمنگ ، بیڈمنٹن ، ٹیبل ٹینس اور مارشل آرٹس کے مختلف سٹائل سے کھلاڑیوں کی تربیت ہوتی ہیں توکہیں پر خواتین کے جم قائم ہیں جہاں پر اب خواتین بھی کھیلوں کیلئے آرہی ہیں لیکن ان سب چیزوں کے باوجود والی بال ، آرچری ، ٹیبل ٹینس ، تھرو بال ، چک بال سمیت کئی کھیلوں کیلئے باقاعدہ کوئی جگہ نہیں یہ سلسلہ پشاور سپورٹس کمپلیکس جو سپورٹس ڈائریکٹریٹ بھی ہے سے لے کر حیات آباد سپورٹس کمپلیکس ، چارسدہ کے عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس اور صوابی ، مردان سمیت مختلف جگہوں پر بنائے گئے سپورٹس کمپلیکسز کی ہیں جہاں پر چند مخصوص کھیلوں کی اجارہ داری ہے جن کے کوچز بھی ہیں اور وہ تنخواہیں بھی لیتے ہیں اور اچھے گریڈوں پر تعینات ہیں جبکہ بعض کھیل مکمل طور پر نظر انداز کئے جارہے ہیں حالانکہ ان کھیلوں میں ٹیلنٹ بھی بہت ہے اور ان کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو منوایا بھی ہے .ایک زمانے میں وفاقی حکومت کا ایک ادارہ پاکستان سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سنٹر نامی ادارہ تھا جو کہ اب بھی ہے تاہم اب غیر قانونی طور پر کام کررہا ہے کیونکہ اٹھارھویں ترمیم کے بعد اس کی کوئی حیثیت تو نہیں لیکن اس کے اثاثے اور ملنے والے فنڈز کی وجہ سے اسے رکھا جارہا ہے کچھ عرصہ قبل تک پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر انتظام مختلف کھیلوں کی سہولیات کیلئے الگ الگ گراﺅنڈ تھے کچھ کھیل وفاق کی سطح پر پروموٹ ہوتے تھے تو کچھ صوبائی سطح پر ، تواس طریقے سے ایک مخصوص کھیلوں کے بجائے مختلف کھیلوں میں نئے کھلاڑی سامنے آتے تھے ، لیکن پھر پاکستان سپورٹس بورڈ میں بیٹھے اور کھلاڑیوں کے پروموشن کے نام پر تنخواہیں لینے والوں کو بھی خیال آہی گیا اورانہوں نے بھی ان سہولیات کو کمائی کا ذریعہ سمجھ لیا اور کھلاڑیوں سے ڈیمانڈ شروع کردی جس کا اثر یہ ہوا کہ اب ان کے پاس کھیلوں کی سہولیات تو ہیں مگر کھلاڑی ندارد ہیں حالانکہ ان اداروں میں کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے ویٹر تک بھرتی ہیں جو ماہانہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں کم و بیش پینتیس سے زائد کھیلوں کے مختلف فیڈریشن و ایسوسی ایشنز اس وقت خیبر پختونخوا میں کام کررہی ہیںان میں کتنے کاغذوں میں ہیں ، کتنے حقیقت میں ہیں ، کتنوں پر باپ بیٹے اور کتنوں پر چاچا اور مامے کا قبضہ ہے یہ یہ الگ بحث ہے جس کی طرف نہ تو ماضی میں کسی ادارے نے دی ، نہ کبھی وزارت سپورٹس کو اس کا خیال آیا اور نہ ہی کوئی امکان ہے کہ دیکھا جاسکے کہ کتنے سرکاری ملازمین ان کھیلوں کی آڑ میں کیا کچھ کررہے ہیں ،شعبہ تعلیم میں ٹیچر سے لیکر ہائر ایجوکیشن تک کے لوگ اس کھیلوں کی ایسوسی ایشنز سے منسلک ہیں کوئی ایک جگہ پرسیکرٹری ہے تو دوسری جگہ پر چیئرمین اور تیسری جگہ پر بطور کام کررہا ہے لیکن ان سب باتوں کے باوجود کوئی پاکستان سپورٹس بورڈ سے ایڈ اینڈ گرانٹ کی مد میں لاکھوں روپے وصول کررہا ہے اور کوئی صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ سے ایڈ اینڈ گرانٹ کی مد میں رقمیں وصول کررہا ہے یہ الگ بات کہ کوئی بھی ایسوسی ایشن کسی بھی سرکاری ادارے کیساتھ رجسٹرڈ نہیں ، نہ ہی ان کا کوئی باقاعدہ کسی ادارے سے آڈٹ ہوتا ہے بس سال ختم ہوتے ہی کھمبی کی طرح کچھ ایسوسی ایشن اگ آتی ہیں ۔رسمی طور پر خبریں لگتی ہیں اور پھر گرانٹ اینڈ ایڈ ملتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے زیر انتظام کمپلیکس اور سنٹرز میں کرکٹ ، اتھلیٹکس ، بیڈمنٹن، ٹینس ، اور سکواش وہ کھیل ہیں جس کے مقابلے ہر ہفتے میں کہیں نہ کہیں پر ہوتے رہتے ہیں اوران کی ایسوسی ایشنز اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز یہ مقابلے منعقد کرواتے رہتے ہیں اور یہ مقبول ترین کھیلو ں کی فہرست میں شامل ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کھیلوں سے وابستہ طاقتور لوگ بھی ہیں جبکہ پینتیس کھیلوں میں بیشتر دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں تین سے چھ ماہ بعد ہوتی ہیں جبکہ بعض تو سال میں صرف مارچ اپریل میں منعقد کروائی جاتی ہیں او ر پھر اللہ اللہ خیر صلا ، والا حساب ہوتا ہے والی بال کا کورٹ پشاور سمیت کسی بھی جگہ پر نہیں ، اسی طرح ٹیبل ٹینس کیلئے ہال موجود ہیں وہ ایرینا ہال میں مقابلے منعقد کروانے پر مجبور ہیںکہیں پر ایسوسی ایشنز مضبوط ہاتھوں میں ہیں تو کہیں پر مخصوص لوگوں کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے پیسہ چند کھیلوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے اسی بنا پر نئے آنیوالے نوجوان بھی صرف ان چند کھیلوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔اس تمام عمل میں کھیلوں سے وابستہ صحافی بھی آنکھیں بند کرکے کام کررہے ہیں ، اس شعبے سے وابستہ چند صحافی کھیلوں کی خبروں کو تفصیلات کے مطابق سے شروع کرکے کرلیا جائیگا اور ہو گیا ہے جیسے خبروں کی اشاعت کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کھیلوں کے شعبے میں بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، کھیلوں کی صحافت صرف ایونٹس کی کوریج نہیں بلکہ اس سے وابستہ تمام ایشوز خواہ وہ ملازمین ہوں ، ایسوسی ایشنز ہوں یا کھلاڑیوں سے متعلق ہوں ان تمام ایشوز پر وقتا فوقتا لکھنے اور اس کی نشاندہی کرنے سے ہی کسی حد تک مسائل حل ہوسکتے ہیں اسی طرح کھیلوں کی بہتری کیلئے تجاویز بھی انہی کھیلوں سے وابستہ صحافیوں کی ذمہ داری ہے لیکن وہ پشتو مثل کے مصداق سہ دانے لوندے او سہ جرندہ خرابہ یعنی کچھ گندم کے دانے خراب اور کچھ اسکی پسائی کرنے والے مشین خراب ہوں تو پھر صورتحال ایسی ہی نکلتی ہیں جس طرح کی آج بنی ہوئی ہیں اگر حکومت کی طرف سے کہیں پر غلط چیز ہورہی ہیں تو اس پر ایسوسی ایشنز بھی خاموش ہیں اور صحافیوں نے تو ویسے بھی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہیں ایسے میں صورتحال کیسی بہتر ہوگی یہ بڑا سوالیہ نشان ہے ۔کیا مدح سرائی کرنے والے صحافی جن میں بیشتر سرکاری ملازمین ہیں اس بات سے انکار کرینگے کہ کتنے ہی نیٹ کیفے کے مالکان ان کی مدد سے صحافی بن کر بیرون ملک غائب ہوگئے ، کتنے ان کے رشتہ دار اسی کھیلوں کی بنیاد پر جعلی ڈاکومنٹ پر بیرون ملک نکل گئے کوئی کوچ بن کر ڈالر کمانے کے چکر میں نکل گیا اور کوئی خود کو زخمی کرکے نامعلوم حملہ آوروں پر الزام دھر کے بیرون ملک جانے کے چکر میں ہیں کہ ڈالر وںکی کمائی بچوں سمیت کرینگے ۔