Image

ناقابل فہم اقدامات

وزیر توانائی نے بتایا کہ کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، اس اضافے کا بڑا حصہ فیول سرچارج بن کر آرہا ہے، بجلی کی قیمت میں چھبیس جولائی سے ساڑھے تین روپے کا اضافہ ہے، تین ماہ کے اندر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔نیپرا نے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں نوروپے  نواسی پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت ہوئی۔ سی پی پی اے نے جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی نوروپے نواسی پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی۔سی پی پی اے نے کہا کہ گزشتہ ماہ 13 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی، پیدا شدہ بجلی کی لاگت 213 ارب روپے رہی، فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 36 روپے 20 پیسے، کوئلہ 20روپے 80 پیسے، مقامی گیس 8 روپے92 پیسے، ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 28 روپے 38 پیسے فی یونٹ رہی۔درخواست میں کہا گیا کہ ایران سے 19 روپے 57 پیسے فی یونٹ میں بجلی درآمد کی گئی اور 42 پیسے فی یونٹ بجلی لائن لاسز کی نذر ہو گئی۔نیپرا نے سماعت کے بعد بجلی کی قیمتوں میں 9 روپے 89 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد ہو گا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے صارفین پر ایک ماہ میں100 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق لائف لائن اور کراچی کے شہریوں کے علاوہ تمام صارفین پر ہو گا۔ حکومت  نے بجلی کی قیمت میں فوری طور پرساڑھے تین روپے کا اضافہ کردیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر  توانائی خرم دستگیر نے کہا کہ صنعتی فیڈرز پربجلی کی فراہمی چوبیس گھنٹے جاری رہے گی، ملک کے پانچ برآمدی شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر سستی بجلی اورگیس فراہم کی جائیگی۔ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ٹیرف دینا چاہتے ہیں، کابینہ جلد ٹیرف کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔وزیر توانائی نے بتایا کہ کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، اس اضافے کا بڑا حصہ فیول سرچارج بن کر آرہا ہے، بجلی کی قیمت میں 26 جولائی سے ساڑھے 3 روپے کا اضافہ ہے، تین ماہ کے اندر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ تین ماہ مشکل ہیں، نومبر کے بعد کمی آجائے گا، ہمیں ایندھن کی قیمت میں اضافے کا سامنا ہے، ایک تہائی صارفین پر بجلی کی قیمت میں اضافے کا اثر نہیں پڑے گا۔ عالمی مالیاتی اداروں سے معاملات حل ہونے جارہے ہیں۔اس موقع پر وزیر پیٹرولیم مصدق ملک کا  کہنا تھا کہ جو کچھ ہوچکا ہمارا اختیار نہیں، تین چاربرس کی قیمت ہمیں دینی پڑ رہی ہے۔سماجی اور اقتصادی تباہی ہونے جارہی ہے، چند لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے مزید نیچے دھکیل دیے جائیں گے، متوسط طبقے میں کمی اور نچلے متوسط میں اضافہ ہوگا، جرائم کی شرح بڑھے گی اور سماجی انتشار مزید گہرا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت کو بھی کوئی فائدہ نہ ہو کیونکہ بجلی کی چوری میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے گا جو کہ مطلوبہ اثرات کو بے اثر کردے گا، چوری کے ساتھ ساتھ کرپشن میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس قسم کے بوجھ جلد ہی بقا کے لیے چیلنج بن جائیں گے جس کا اکثریت مقابلہ نہیں کر سکتی، تیل اور گیس کی قیمتوں کے بھی اسی طرح کے دبائو شامل ہوں گے اور سماجی افراتفری کا خدشہ ایک المناک صورت اختیار کرے گا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے کثیرالجہت اثرات ہوں گے اور اس کا پے در پے دبائو ہوگا، دکاندار زیادہ بل ادا کریں گے اور زیادہ نرخ مانگیں گے، ہوٹل مالکان اب اضافی بلز ادا کریں گے اور انہیں کسٹمر چارجز میں شامل کریں گے۔لوگ دبائو کا سامنا کریں گے اور ان کے مسائل میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر خبروں کی زینت بنیں گے۔ ملک جس طرز حکمرانی کا سامنا کر رہا ہے اس کے پیش نظر کوئی بھی نہیں جان سکے گا کہ اس اضافے کا اصل اثر کیا ہے اور یہ بے بس صارفین پر کس حد تک منتقل کیا جارہا ہے۔ اس اضافے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سے بچنا ممکن تھا، اگر یکے بعد دیگرے حکومتیں گزشتہ چند برسوں میں اپنے بل کی وصولی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتیں تو وہ نقصانات کو کم کر سکتی تھیں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے قرض دہندگان کے دبائو سے بچ سکتی تھیں۔وصولیاں بل میں طے کی گئی رقم کے 90 فیصد پر پھنسی ہوئی ہیں اور وصول نہ کی جاسکنے والی ادائیگیاں 10 فیصد یعنی 150 ارب روپے سالانہ پر ہیں، اس میں مزید 300 ارب روپے کی چوری شمار کریں تو یہ شعبہ تجارتی حیثیت کھو دیتا ہے۔ یہ المیہ سامنے آرہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم جائزہ نہیں لے سکے، کارکردگی کو بہتر بنانے کے بجائے ہم نے ہمیشہ ٹیرف میں اضافے پر انحصار کیا جو کہ تیزی سے اپنی افادیت کھو دیتا ہے کیونکہ ریکوری میں کمی اور چوری بڑھ جاتی ہے جس سے شعبہ واپس اسی مقام پر آکھڑا ہوتا ہے۔ نیپرا کے پاس بجلی کے نرخوں کو ایڈجسٹ کرنے کا تین جہتی طریقہ کار ہے جس میں ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔ قیمت کا فیصلہ کرتے وقت نیپرا نو متغیرات پر غور کرتا ہے جن میں ایندھن کی قیمت، ڈالر کی برابری، آپریشن اور مینٹی نینس چارجز شامل ہیں۔ اگر ڈالر کی قیمت میں ابھی اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا بعد میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ پر صفر سے کم اثر پڑے گا، تیل کی قیمتوں کا بھی یہی حال ہے، اگر موجودہ تعین میں بنیادی حوالہ قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو مستقبل میں فیول لاگت کی ایڈجسٹمنٹ اسی طرح کم ہو جائے گی۔ بنیادی طور پر ان تمام ایڈجسٹمنٹس کو آئندہ مالی سال میں دوبارہ ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ٹیرف کے تعین کے عمل میں شامل پیپکو کے ایک سابق افسر نے کہا کہ اس قسم کا غیر معمولی اور تیز اضافہ نیپرا کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، یہ عوامی مفادات کے محافظ کے طور پر اس کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ جب ان کے پاس ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ اضافے کے آپشن تھے تو انہوں نے ان سب کو ایک ہی قدم میں ختم کر کے ایک ہی بار میں قیمت کیوں بڑھا دی؟ یہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے میں اضافے کو روک سکتا تھا۔پہلے سے دبائو کا سامنا کرنے والے صارفین پر یہ اضافی بوجھ نیپرا کی ناکامی ہے۔پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب بھی نیپرا کی جانب سے نئے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا اعلان ہوتا ہے تو صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آتا ہے اورحکومت کے ناقدین اس پر بڑھ چڑھ کر تنقید کرتے ہیں۔ فیول کاسٹ کے حوالے سے سال کے شروع میں ہر مہینے کے حساب سے ٹیرف کاسٹ طے کر دی جاتی ہے۔فرض کریں کہ نیپرا نے یہ کہا کہ جون میں ٹیرف کاسٹ چار روپے ہو گی۔ لیکن اس میں بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے مختلف قسم کے ایندھن جیسے ایل این جی، گیس کی قیمیت اور پانی سے بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کی صورت حال اور ڈالر کا ریٹ بھی کردار ادا کرتا ہے۔اگر پہلے سے لگائے گئے تخمینے کے برعکس ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تو وہ اضافی قیمت اگلے بلوں میں وصول کی جائے گی۔کیا نیپرا کا بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا عمل شفافیت پر مبنی ہوتا ہے؟  یہ کافی ٹرانسپیرنٹ عمل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے کھلی کچہری ہوتی ہے جس میں کوئی بھی شخص جا سکتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کے لیے مختلف طرح کے ایندھن استعمال ہوتے ہیں۔ بجلی بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن جیسے کوئلہ، ایل این جی، ڈیزل اور فرنس آئل کی قیمت حکومت نے ماہانہ بنیادوں پر ادا کرنا ہوتی ہے۔جن لوگوں نے ٹی او یو میٹرز لگوائے ہیں ان میں پورے دن کا اور پیک آوورز کا ٹیرف الگ الگ ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو بھاری بل ادا کرنے پڑیں گے۔بجلی کی قیمت کے تعین کے معاملے میں حکومت کو ایندھن  کے انٹرنیشنل نرخوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اگر انٹرنیشنل مارکیٹ میں فرنس آئل اور دیگر ایندھن کی قیمت کم ہوتی ہے تو فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیرف بھی کم ہو جاتا ہے۔اس حوالے سے حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل بھی ہے، اس لیے انٹرنیشنل سطح پر اضافے کی صورت میں بلوں میں بہر صورت اضافی قیمت لگانا ہوتی ہے۔نیپرا بجلی کی قیمت میں مخصوص مدت کے لیے فیول کی قیمت کا تعین کرتا ہے جوکہ مثبت یا منفی ہو سکتی ہے۔ نیپرا کے ماہانہ فیول ایڈجسمنٹ کے فیصلے کی بنیاد بھی عالمی مارکیٹ میں اکتوبر کے مہینے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔