24

ایمرجنسی صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت

 علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا ہے کہ کورونا کی شدت میں خوفناک حدتک اضافے کی خبریں سامنے آرہی ہیں اس لئے عوام الناس کو پہلے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے جب تک احتیاطی تدابیر کو اختیار نہیں کیا جائیگا تب تک کورونا کے مرض سے محفوظ نہیں رہا جاسکتا۔ کوروناسے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے اور ڈاکٹرز کی ہدایات پر چلیں ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے خط آیا ہے جس میں عوام سے احتیاطی تدابیر اختیارکرنے کی استدعا کی گئی ہے عوام انتظامیہ سے تعاون کریں اور کورونا جیسی مہلک بیماری سے بچیں ہماری تھوڑی سی بے احتیاطی بڑے حادثے کا موجب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں علاقے کی تعمیر وترقی کیلئے تعصبات سے بالاتر ہوکر کام کرناہوگا' علاقائی لسانی اور مذہبی تعصب کی دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے علاقائی تعصب کی بنیاد پر سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات افسوسناک ہیں سیاستدانوں کو تعصبات کو ہوا دینے سے اجتناب کرنا ہوگا۔یہ درست ہے کہ کرونا کی تیسری لہر انتہائی مہلک ثابت ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری ہے'ہم جانتے ہیں کہ احتیاط سے ہی اس وبا سے نمٹا جا سکتا ہے لیکن پاکستانی وہ قوم ہے جو نقصانات سے آگاہی کے باوجود لاپرواہی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔گزشتہ روز پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ برطانوی حکومت نے کووڈکیسز پر متعلق نظرثانی کے بعد پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اگر وہ برطانیہ آمد سے دس روز قبل پاکستان میں مقیم رہے ہوں گے تو مسافروں کو لازمی طور پردس روز تک ہوٹل میں قرنطینہ کرنا ہوگا اور اس قیام کی ادائیگی بھی خود کرنی ہوگی۔برطانیہ واپس جانے والے مسافروں کے لیے حکومت کے منظور شدہ ہوٹلوں میں دس دن قرنطینہ کی لاگت ایک ہزار سات سو پچاس پائونڈز ہے اس کے علاوہ ہر مسافر کو ٹیسٹنگ کے لیے دو سو دس پائونڈز بھی ادا کرنے ہوں گے تاہم ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے سے قرنطینہ کا دورانیہ کم نہیں ہوگا۔صورتحال یہ ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافے کی وجہ مزید سات علاقے سیل کردیے گئے ہیں۔ سیل کرنے کے احکامات پر عمل درآمد کیلئے علاقوں میں پولیس کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ سیل کیے گئے تمام علاقے لوئی بھیر اور سہالہ پولیس کی حدود میں واقع ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر این سی او سی نے کورونا ایس او پیز سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین اسد عمر اور کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان خان کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس میں ماسک نہ پہننے، معاشرتی دوری اور تجارتی اوقات سے متعلق ایس او پیز پر عمل کرنے سے متعلق این سی او سی کی ہدایات پر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔فورم میں بچوں میں کورونا کے بڑھتے ہوئے مثبت کیسز کے واقعات میں اضافے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔حالت یہ ہے کہ دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس سے اب تک بارہ کروڑچھیانوے لاکھ انچاس ہزار چھیالیس افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ اس تعداد میں سے اٹھائیس لاکھ  اٹھائیس ہزارپانچ سو چالیس مریض زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ ساڑھے گیارہ کروڑ صحتیاب ہوئے۔کورونا سے سب زیادہ متاثر ہونے والے ملک امریکا ہے اس کے بعد برازیل اور بھارت اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران ریکارڈ پانچ ہزار234نئے کیسز رپورٹ ہوئے ملک میں مثبت کیسز کی شرح 10.4 فیصد ہوگئی جبکہ گزشتہ روز مزید تراسی مریض دم توڑ گئے۔چین کی ایک خوراک والی کین سینو ویکسین کل سے لگائی جائے گی'این سی او سی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی و چیئمین اسد عمر اور نیشنل کوآرڈینیٹراین سی او سی لیفٹیننٹ جنرل حمود الزماں خان کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا کے پھیلائو کو مدنظر رکھتے ہوئے کورونا کیلئے مخصوص ہیلتھ سینٹرز میں مزید 594 آکسیجن بیڈز کا اضافہ کردیا گیا ہے اور اس کے لیے سوات اور پشاور کو خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ وائرس کی برطانوی قسم نے ملک میں سب سے زیادہ نقصان کیا جو پہلی قسم کے مقابلے میںسترفیصد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔اعداد وشمار ظاہر یہ بھی کرتے ہیں کہ پنجاب میں رپورٹ ہونے والے کیسز میں سب سے زیادہ کیسز لاہور سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مثبت شرح تیئیس فیصد ہے۔صرف مارچ کے مہینے میں لاہور میں ایک ہزار 708 کیسز سامنے آئے اور 485 مریض دم توڑ گئے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ وائرس کی نئی قسم گزشتہ قسم کے مقابلے زیادہ نقصان دہ اور غیر متوقع ہے جس کے باعث چند روز میں متعددافراد ہسپتالوں میں داخل ہوئے اور دم توڑ گئے۔وبا کے باعث مرنے والے زیادہ تر افراد کی تعداد ساٹھ سے سترسال کی عمر سے تعلق رکھتی ہے۔ مارچ2021پنجاب کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوا جس میں ایک ہزارتیرہ افراد انتقال کر گئے اور انچاس ہزارانفیکشن رپورٹ ہوئے اس کی وجہ کورونا وائرس کی برطانوی قسم ہے جس نے نئے کیسز اور اموات کی تعداد کو کئی گنا بڑھا دیا۔چند دنوں کے بعد رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز ہوا چاہتا ہے'یہ نیکیوں کے حصول کا مہینہ ہے مگر گزشتہ سال بھی صورتحال درست نہیں تھی اور مساجد پابندیوں کا شکار تھیں اس بار تو صورتحال زیادہ خراب ہے۔حال ہی میںنیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر نے رمضان المبارک کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کردیں۔این سی او سی کی جانب سے جاری کی جانے والی گائیڈ لائنز کے مطابق تراویح کا اہتمام مساجد، امام بارگاہ کے احاطے میں کیا جائے، شہری سڑکوں، فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے گریز کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں وضو کرنے پر پابندی ہو گی، نمازی حضرات گھر سے وضو کر کے مسجد، امام بارگاہ آئیں، جب کہ نمازی وضو کرتے وقت صابن سے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں۔مساجد، امام بارگاہوں میں قالین، دریاں نہیں بچھائی جائیں گی، نماز فرش پر ادا کی جائے گی اور فرش کو کلورین ملے پانی سے دھویا جائے، شہری مسجد میں گھر سے جائے نماز ساتھ لانے کو ترجیح دیں،پچاس سال سے زائد العمر، بچوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہئے جب کہ فلو، کھانسی میں مبتلا نمازیوں کو مساجد، امام بارگاہ نہیں آنا چاہئے اور نمازی حضرات ماسک پہن کر مسجد، امام بارگاہ آئیں۔شہری مساجد، امام بارگاہوں میں مجمع لگانے سے گریز کریں، صف بندی کے دوران نمازیوں کے مابین چھ فٹ فاصلہ رکھا جائے، نمازیوں کی سہولت کیلئے صفوں میں فاصلہ رکھ کر نشانات لگائے جائیں، کورونا کی موجودہ صورتحال میں متعکفین گھر پر اعتکاف کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں سحر و افطار کا اہتمام نہ کیا جائے۔مساجد، امام بارگاہ انتظامیہ ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے کمیٹی تشکیل دیں، مساجد، امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو مشروط اجازت دی جا رہی ہے، مساجد، امام بارگاہ کو اجازت ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہے، ایس او پیز پر عدم عملدرآمد، کیسز بڑھنے پر پالیسی پر نظر ثانی ہو گی جب کہ حکومت شدید متاثرہ علاقوں کیلئے پالیسی میں تبدیلی کی مجاز ہے۔ اس لیے اپنے اور اپنے پیاروں کو اس مہلک مرض سے بچانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھیں یہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے جسے نظراندام نہیں کیا جانا چاہییڈوقتی طور پر تھوڑی سے تکلیف بردات کرنا زیادہ نقصان سے بہتر ہے۔قوم کو لاپرواہی کی صورتحال کو ترک کرنا ہو گا اور چین کی عوام سے سیکھنا ہو گا جنہوں نے انتہائی منظم انداز میں اس مہلک مرض کو شکست دی اور تھوڑے سے عرصے میں اپنے ملک سے اس وائرس کا خاتمہ کر دیا اب جبکہ کرونا کی تیسری لہر پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے چین کے حوالے سے مریضوں کی اطلاعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔وقتی جذبات کے تحت ہاتھ ملانا اور گلے ملنا زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے یہ یقین کر لیا جانا چاہیے کہ یہ انتہائی مہلک بیماری ہے مذاق نہیں ہے۔